گبر باران دیده و عیار بود
گبر باران دیده و عیار بود
حیله جو و پرفن و مکار بود
ترجمہ
وہ مجوسی بہت آزمودہ کار، چالاک، حیلہ باز، فن کار اور مکار آدمی تھا۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں قیدی دشمن کا مزاج واضح کرتے ہیں تاکہ بعد میں سامنے آنے والا اسلامی رویہ اور زیادہ روشن ہو۔ اگر مخالف کمزور، سیدھا سادا یا معصوم ہوتا تو رحم اور امان کا اخلاقی وزن ایک درجے کا ہوتا، مگر یہاں دشمن پرانا کار، مکار اور چالاک ہے۔ شعر کے مطابق:
باران دیدہ کیوں کہا:
“باران دیدہ” تجربہ کار، حالات دیکھا ہوا اور دنیا کے نشیب و فراز سے گزرا ہوا شخص ہوتا ہے۔ یہ کوئی نادان یا خام آدمی نہیں۔ اس نے میدان، سیاست، تدبیر اور فریب سب دیکھ رکھے ہیں۔ اقبال اس لفظ کے ذریعے بتاتے ہیں کہ اس شخص کی چالاکی حادثاتی نہیں بلکہ پکی ہوئی ہے۔
یعنی مسلمان کے سامنے ایک ایسا دشمن ہے جو موقع ملے تو فائدہ اٹھانا جانتا ہے۔
عیاری اور مکر:
عیاری میں محض ذہانت نہیں بلکہ موقع شناسی، چال، اور کبھی کبھی اخلاقی ابہام بھی شامل ہوتا ہے۔ “حیلہ جو” اور “مکار” کے الفاظ اس تصویر کو اور واضح کرتے ہیں۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہمیں یہ اچھی طرح معلوم ہو کہ قیدی شخص ایسا نہیں جس پر بھروسہ آسانی سے کیا جائے۔
اس تفصیل سے بعد میں مسلمانوں کے فیصلے کی دشواری بھی سامنے آتی ہے۔
اخلاق آسان کیوں نہیں:
بعض اوقات لوگ سمجھتے ہیں کہ رحم یا امان اسی وقت موزوں ہے جب سامنے والا سادہ یا بے ضرر ہو۔ اقبال یہیں اس سہولت کو توڑ دیتے ہیں۔ سامنے والا شخص مکار ہے، چالاک ہے، دشمن ہے، پھر بھی سوال اصول کا ہے۔ یہی اسلام کے اخلاقی وزن کو بڑھاتا ہے۔
اگر اخلاق صرف آسان حالات میں کام آئے تو اس کی عظمت آدھی رہ جاتی ہے۔
حکایت کی کشیدگی:
یہ شعر پوری حکایت میں کشیدگی پیدا کرتا ہے۔ اب قاری کے دل میں یہ سوال مضبوط ہوتا ہے کہ کیا ایسا شخص امان کا مستحق بھی ہو سکتا ہے؟ اور اگر امان دی گئی تو کیا اس کے فریب کا خطرہ نظر انداز کیا جائے گا؟ اقبال اسی کشمکش سے ملت کے اصول کی بلندی دکھانا چاہتے ہیں۔
اسلامی اخوت یہاں سادہ جذبات نہیں بلکہ خطرے کے باوجود اصولی وقار بن کر سامنے آئے گی۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی بہت سے مواقع پر ہم سامنے والے کی خامیوں کی وجہ سے اصول چھوڑ دینے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ مشکل یہی ہے: کیا ہمارا انصاف دوسرے کی کمزوری یا چالاکی پر منحصر ہے، یا ہمارے اپنے اصول پر؟ اسلام کا اخلاق سامنے والے کے کردار سے متاثر ضرور ہوتا ہے، مگر اپنی اصل بنیاد خودی اور شریعت سے لیتا ہے۔
یہی بات مسلمان کو ردعمل سے اٹھا کر ذمہ دار شخصیت بناتی ہے۔
مثال
اگر کوئی شخص پہلے بھی دھوکا دے چکا ہو تو اس کے ساتھ معاملہ کرتے وقت احتیاط بڑھ جاتی ہے۔ مگر یہی موقع دکھاتا ہے کہ ہم احتیاط کے ساتھ بھی انصاف کر سکتے ہیں یا نہیں۔
خلاصہ
اقبال دشمن کو چالاک اور مکار دکھا کر اسلامی اخلاق کی آزمائش کو سخت بنا دیتے ہیں۔ اصل عظمت یہی ہے کہ اصول صرف آسان اور محفوظ حالات کے لیے نہ ہوں بلکہ مشکل موقع پر بھی باقی رہیں۔
