خویشتن را تابع مقصد کند
خویشتن را تابع مقصد کند
بهر او چیند گزیند رد کند
ترجمہ
وہ اپنے آپ کو مقصد کے تابع کر دیتا ہے، اور اسی مقصد کے لیے چیزوں کو چنتا ہے، پسند کرتا ہے، اور بعض کو رد بھی کر دیتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مقصد کے ایک نہایت عملی اثر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ پچھلے اشعار میں وہ بتا چکے ہیں کہ مدعا زندگی کی بقا کا راز ہے، اس کی قوتوں کو جمع کرتا ہے، اور دنیا کے اسباب پر ضبط عطا کرتا ہے۔ اب وہ اس ضبط کی عملی صورت سامنے لاتے ہیں: جب کسی زندگی کے پاس بڑا مقصد ہوتا ہے تو وہ پہلے اپنے نفس اور اپنی خواہشات کو اسی مقصد کے تابع کرتی ہے، پھر اسی معیار پر چیزوں کو منتخب، قبول یا رد کرتی ہے۔ مقصد زندگی کے باہر نصب کوئی تختی نہیں رہتا؛ وہ اندر کا میزان بن جاتا ہے۔
“خویشتن را تابع مقصد کند” میں اقبال خودی کی نفی نہیں کرتے بلکہ اس کی تربیت کرتے ہیں۔ خودی اگر بے مقصد ہو تو اپنی خواہش کے پیچھے چلتی ہے، مگر اگر مقصد کے تابع ہو جائے تو پختگی اختیار کرتی ہے۔ انسان کی بڑی آزمائش یہ نہیں کہ وہ کچھ چاہتا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ جو کچھ چاہتا ہے، کیا اسے کسی اعلیٰ مقصد کے تابع کر سکتا ہے یا نہیں۔ اقبال کے نزدیک یہی مقام کردار سازی کا آغاز ہے۔ مقصد کے تابع ہونا غلامی نہیں، باطنی درستی ہے۔
نفس کا تابع ہونا:
زندگی میں سب سے پہلی بے ترتیبی خود انسان کے اندر پیدا ہوتی ہے۔ ایک خواہش کچھ کہتی ہے، ایک خوف کچھ اور، ایک عادت کسی اور طرف لے جاتی ہے، اور ایک منفعت کسی اور سمت۔ اگر ان سب کے اوپر کوئی بڑا مقصد نہ ہو تو آدمی کا باطن ایک چھوٹا سا میدانِ کشمکش بن جاتا ہے۔ اقبال کا اصرار یہ ہے کہ پہلے اپنی ذات کو مقصد کے تابع کرو، کیونکہ یہی تابعی اندرونی انتشار کو نظم میں بدلتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی پسند، ناپسند، وقت، محنت، تعلقات اور ترجیحات سب کو ایک بلند تر میزان کے سامنے رکھے۔ جو چیز مقصد کے موافق ہو اسے جگہ دے، اور جو اس سے ہٹاتی ہو اسے پیچھے کرے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں تربیت شروع ہوتی ہے اور محض دعویٰ ختم ہو جاتا ہے۔
چننا، پسند کرنا، رد کرنا:
“چیند گزیند رد کند” تینوں افعال بہت گہرا مطلب رکھتے ہیں۔ مقصد والی زندگی ہر چیز کو جمع نہیں کرتی، نہ ہی ہر دعوت پر لبیک کہتی ہے، نہ ہر موقع کو غنیمت سمجھتی ہے۔ وہ چنتی ہے، یعنی شعوری طور پر انتخاب کرتی ہے۔ پھر پسند کرتی ہے، یعنی اپنی قوت کو اس انتخاب کے ساتھ وابستہ کرتی ہے۔ اور رد بھی کرتی ہے، یعنی غیر ضروری، نقصان دہ یا مقصد سے ہٹانے والی چیزوں سے انکار کرتی ہے۔
یہ “رد” بہت اہم ہے، کیونکہ اکثر لوگ انتخاب سے زیادہ انکار میں کم زور ہوتے ہیں۔ مقصد کے بغیر آدمی ہر طرف پھیل جاتا ہے۔ مقصد کے ساتھ وہ جانتا ہے کہ کچھ چیزوں کو چھوڑنا بھی وفاداری کا حصہ ہے۔ اقبال اسی انضباطی قوت کو بیدار کر رہے ہیں۔
مقصد بطور میزان:
جب مقصد زندگی کا میزان بن جائے تو فیصلے آسان ہوتے جاتے ہیں۔ ہر چیز کو ایک ہی سوال پر پرکھا جا سکتا ہے: کیا یہ میرے بڑے مدعا کی خدمت کرتی ہے یا اسے کم زور کرتی ہے؟ یہی سوال فرد کو بھی سیدھا کرتا ہے اور ملت کو بھی۔ ایک قوم جس کے پاس نصب العین ہو، وہ اپنے تعلیمی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی انتخاب اسی روشنی میں کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ مقصد صرف جذباتی قوت نہیں، ایک تنقیدی اور انتخابی قوت بھی ہے۔ وہ انسان کو سکھاتا ہے کہ ہر اچھی دکھائی دینے والی چیز حقیقت میں مفید نہیں ہوتی، اور ہر مشکل چیز بیکار نہیں ہوتی۔ معیار ظاہری آسانی نہیں، مقصد سے نسبت ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج کی دنیا انتخاب کی کثرت سے بھری ہوئی ہے۔ ہر طرف امکانات، مشاغل، لذتیں، نظریات، مشورے، رابطے اور راستے موجود ہیں۔ لیکن کثرتِ انتخاب اکثر انسان کو زیادہ آزاد نہیں بلکہ زیادہ منتشر بنا دیتی ہے۔ اقبال اس شعر میں اسی جدید بے ترتیبی کا علاج بھی دیتے ہیں: اپنے آپ کو مقصد کے تابع کر لو، پھر زندگی آسان ہو جائے گی، کیونکہ تم جان جاؤ گے کہ کیا چننا ہے، کیا قبول کرنا ہے، اور کیا رد کر دینا ہے۔
ملت کے لیے بھی یہی بات سچی ہے۔ اگر اس کے پاس سچا مدعا ہو تو وہ اپنے وسائل، علما، نوجوانوں، اداروں اور ترجیحات کو بہتر طور پر ترتیب دے سکتی ہے۔ بکھری ہوئی توانائی کا علاج زیادہ قوت نہیں، بہتر انتخاب ہے۔ اقبال ہمیں یہی انتخابی بصیرت سکھا رہے ہیں۔
مثال
جیسے ایک ماہر باغبان ہر پودا زمین میں نہیں لگا دیتا بلکہ موسم، جگہ اور مقصد کے مطابق چنتا اور بعض شاخیں کاٹ بھی دیتا ہے، ویسے ہی مقصد والی زندگی ہر چیز کو قبول نہیں کرتی بلکہ سمجھداری سے انتخاب کرتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ سچا مقصد پہلے انسان کو اپنے نفس کا منتظم بناتا ہے، پھر اسے انتخاب کی قوت دیتا ہے۔ ایسی زندگی شعوری طور پر چنتی ہے، قبول کرتی ہے، اور مقصد سے ہٹانے والی چیزوں کو رد بھی کر دیتی ہے۔