رموز بے خودی

کاید از خون ریختن اندر طرب

کاید از خون ریختن اندر طرب

نام او رنگ است و هم ملک و نسب

ترجمہ

وہ جو خون ریزی کے اندر مسرت پاتا ہے، اس کا نام کبھی رنگ ہے اور کبھی ملک و نسب۔

تشریح

اس شعر میں اقبال جدید اور قدیم دونوں بت گریوں کے ایک نہایت خطرناک ثمر کو بے نقاب کرتے ہیں: انسان جب جھوٹے معبود بنا لیتا ہے تو وہ ان کی خاطر خون بہانے میں بھی لذت محسوس کرنے لگتا ہے۔ پچھلے شعر میں اقبال نے بتایا تھا کہ انسان نے پھر سے آزر کا کام شروع کر دیا ہے اور نئے نئے پروردگار تراش لیے ہیں۔ اب وہ دکھاتے ہیں کہ ان جھوٹے ربّوں کی ایک پہچان یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو ظلم، تعصب، اور خون ریزی میں مبتلا کر دیتے ہیں، بلکہ اسے اس پر فخر اور طرب بھی ہونے لگتا ہے۔ یہ محض اخلاقی انحطاط نہیں، روحانی تباہی کی انتہا ہے۔

“نام او رنگ است و هم ملک و نسب” میں اقبال نہایت تیزی کے ساتھ ان نئے معبودوں کے نام لیتے ہیں۔ کبھی نسل اور رنگت، کبھی وطن اور سلطنت، کبھی نسب اور خاندانی غرور، یہ سب ایسے باطل مرکز بن جاتے ہیں جن کے لیے انسان حق، انصاف، رحم، اور انسانیت سب کچھ قربان کر دیتا ہے۔ اقبال کسی جائز محبتِ وطن، فطری نسبی شناخت یا تہذیبی تنوع کے خلاف نہیں، بلکہ اس وقت خبردار کر رہے ہیں جب یہ چیزیں اللہ کی توحید، انسانی مساوات، اور عدل کے اوپر بیٹھ کر معبودانہ حیثیت اختیار کر لیں۔ تب یہی چیزیں خون ریزی کو جائز بلکہ لذت بخش بنا دیتی ہیں۔

خون ریزی میں طرب:

انسان کا دل اصل فطرت میں ظلم سے لرزنا چاہیے، مگر جب اس کا مرکز بگڑ جائے تو وہ ظلم میں بھی فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی “اندر طرب” کا مفہوم ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ بت گری کی آخری سنگین علامتوں میں سے ہے کہ انسان کسی جھنڈے، کسی نسل، کسی قوم، یا کسی خود ساختہ برتری کے نام پر دوسروں کے خون کو ہلکا سمجھے۔

یہ کیفیت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عدل کی جگہ تعصب لے لے، اور توحید کی جگہ باطل وابستگی۔ پھر انسان کا ضمیر سچ بولنے کے بجائے اپنے بت کی حفاظت کرنے لگتا ہے۔ اقبال ہمیں اسی باطنی الٹ پھیر سے خبردار کرتے ہیں۔

رنگ کا بت:

رنگ سے مراد نسل، قومیت، نسلی امتیاز، یا ظاہری شناخت کی وہ صورتیں ہو سکتی ہیں جنہیں مطلق فضیلت کا معیار بنا لیا جائے۔ اقبال جانتے تھے کہ جدید دنیا میں نسلی غرور اور رنگ کی بنیاد پر برتری کا دعویٰ بڑے ظلم پیدا کر سکتا ہے۔ جب انسان رنگ کو معبود بنا لیتا ہے تو دوسرے انسان کی قدر کم ہو جاتی ہے، اور پھر ظلم آسان لگنے لگتا ہے۔

توحید اس کے برعکس انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اصل کرامت بندگی، تقویٰ اور اخلاق میں ہے، نہ کہ رنگ میں۔ اسی لیے اقبال رنگ کو بت کے طور پر بے نقاب کرتے ہیں۔

ملک و نسب کا غرور:

ملک اور نسب اپنی جگہ فطری اور تاریخی حقیقتیں ہیں، مگر جب انہیں پروردگارانہ حیثیت دے دی جائے تو وہ فساد کا سبب بن جاتی ہیں۔ آدمی سچ کو نہیں دیکھتا، صرف اپنے گروہ کو دیکھتا ہے؛ عدل کو نہیں مانتا، صرف اپنے نسب یا اپنی قومی خود پرستی کو مانتا ہے۔ پھر خون بہانے میں بھی اسے غیرت یا خدمت کا دھوکا محسوس ہو سکتا ہے۔

اقبال یہاں امت کو خبردار کرتے ہیں کہ اسلام کا مقصد انسان کو اسی دائرے سے نکالنا تھا۔ اگر مسلمان دوبارہ انہی بتوں کے سامنے جھکنے لگے تو وہ اپنی توحیدی امانت سے دور ہو جائے گا۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی دنیا بھر میں بہت سے جھگڑے، جنگیں، امتیازات اور ظلم اسی وجہ سے ہیں کہ انسان رنگ، ملک، قوم، زبان، یا نسل کو معبودانہ حیثیت دے بیٹھتا ہے۔ پھر حق و باطل کا معیار بدل جاتا ہے، اور خون ریزی کو بھی فخر یا لذت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر آج بھی خوف ناک حد تک زندہ محسوس ہوتا ہے۔

یہ شعر امت کو دعوت دیتا ہے کہ وہ توحید کی روشنی میں ان جدید بتوں کو پہچانے اور ان کا انکار کرے۔ محبتِ وطن، خاندانی نسبت، یا ثقافتی شناخت اپنی جگہ، مگر یہ سب حق، عدل اور وحدتِ انسانیت سے اوپر نہیں جا سکتیں۔ اقبال اسی حد بندی سے انسان کو خون ریزی کے طرب سے بچانا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے کوئی شخص خاندان کی محبت کو اتنا بڑھا دے کہ ظلم میں بھی اپنے لوگوں کا ساتھ دے، ویسے ہی ملک، نسب یا رنگ جب معبود بن جائیں تو ضمیر کی آواز دبنے لگتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جھوٹے معبود انسان کو ظلم اور خون ریزی تک لے جاتے ہیں، اور کبھی وہ ان پر فخر بھی کرنے لگتا ہے۔ رنگ، ملک اور نسب جب توحید و عدل سے اوپر اٹھ جائیں تو وہ نئے بت بن کر انسانیت کے لیے تباہی پیدا کرتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button