گفت فردا امت خیرالرسل
گفت فردا امت خیرالرسل
جمع گردد پیش آن مولای کل
ترجمہ
انہوں نے کہا: کل خیر الرسل کی امت اس سب کے سردار کے حضور جمع ہوگی۔
تشریح
یہ شعر پدرانہ نصیحت کو ایک نہایت بلند اور آخرت آشنا افق پر لے جاتا ہے۔ والد کہتے ہیں کہ کل، یعنی ایک آنے والے دن، خیر الرسل کی امت اس مولائے کل کے حضور جمع ہوگی۔ یہاں “فردا” صرف اگلا دن نہیں بلکہ وہ عظیم یوم ہے جب نسبتیں، دعوے، اعمال، اخلاق اور امانتیں سب اپنے اصل معیار کے سامنے پیش ہوں گی۔ اقبال اس شعر کے ذریعے یہ بتاتے ہیں کہ مسلم اخلاقیات کا اصل وزن اسی احساس سے پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا معاملہ صرف دنیا کے لوگوں کے درمیان نہیں، رسول اکرم کے سامنے بھی ہے۔
“امت خیرالرسل” میں ایک ساتھ عزت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ اگر ہم اس امت سے نسبت رکھتے ہیں تو ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اس نسبت کا حق کیا ہے۔ والد نوجوان بیٹے کو محض یہ نہیں کہہ رہے کہ تم نے ایک فقیر کے ساتھ برا کیا، بلکہ یہ کہ تمہارا یہ عمل اس عظیم نسبت کے معیار سے بہت نیچا ہے۔ جب امت اس مولائے کل کے سامنے کھڑی ہوگی تو ہر فرد سے یہ بھی پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنے اخلاق میں اس نسبت کا کتنا حق ادا کیا۔
فردا کا روحانی مفہوم:
فردا اقبال کے ہاں امید، انجام اور حساب تینوں کا لفظ ہے۔ اس میں مستقبل کا خوف بھی ہے اور اصلاح کا دروازہ بھی۔ والد اپنے بیٹے کو مایوس نہیں کرتے، بلکہ اسے ایک بڑے منظر میں لے جاتے ہیں جہاں وہ اپنی موجودہ لغزش کو اس کے اصل معیار میں دیکھ سکے۔ جب انسان اپنے عمل کو صرف موجودہ جذبات میں دیکھتا ہے تو اس کی سنگینی کم محسوس ہوتی ہے، مگر جب وہ اسے قیامت، نسبتِ نبوی اور امت کے اجتماعی وقار کے تناظر میں دیکھتا ہے تو دل پر اس کا اثر بدل جاتا ہے۔
اس لیے یہ شعر محض آخرت کی یاد دہانی نہیں، بلکہ اخلاقی پیمانے کی بلندی ہے۔ اقبال کے نزدیک وہی اخلاق دیرپا بنتے ہیں جو کسی بڑے اور پاک معیار کے ساتھ مربوط ہوں۔
پیش آن مولای کل:
“مولای کل” کی تعبیر میں نہایت عظیم ادب ہے۔ والد یہ یاد دلا رہے ہیں کہ ہماری نسبت اس ہستی سے ہے جو سب کی سردار، سب کی رہنما اور سب کے لیے رحمت ہے۔ اگر اس عظیم نسبت کے باوجود کسی مسلمان کے مزاج میں سائل کے لیے سختی، کمزور کے لیے تحقیر، یا دل میں بے رحمی آ جائے تو اسے اپنے مقام پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔
یہاں تربیت کا طریقہ بھی قابلِ غور ہے۔ والد بیٹے کو صرف خوف سے نہیں بلکہ نسبت کے وقار سے سنبھال رہے ہیں۔ وہ اسے یہ محسوس کروا رہے ہیں کہ تمہارا معاملہ ایک ایسے دربار سے جڑا ہے جہاں اخلاق کی سب سے بلند صورت جلوہ گر ہے۔ پس اگر تم وہاں شرمندہ نہ ہونا چاہو تو ابھی اپنے مزاج کو سنوار لو۔
ملت، فرد اور احتساب:
یہ شعر اس بات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ فرد کی لغزش صرف فرد کا معاملہ نہیں رہتی۔ امت جب جمع ہوگی تو ہر فرد اپنے ساتھ امت کی تصویر کا ایک حصہ لے کر آئے گا۔ اس لیے نوجوان کی ایک بداخلاقی بھی ملت کے شایانِ شان نہیں۔ اقبال فرد کی اصلاح کو ملت کے حسنِ سیرت سے جوڑتے ہیں، اور ملت کے حسنِ سیرت کو نسبتِ محمدی سے۔ یہی ان کے فکر کی خوبصورتی ہے۔
پس والد کی تنبیہ دراصل ایک شخصی خطا کو ملی شرف کے پیمانے میں رکھ دیتی ہے۔ اب مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں رہا، ایک نسبت کا وقار بن گیا۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلم شناخت کو بہت بار صرف دعوے، نعرے یا ظاہری علامتوں میں سمٹا دیا جاتا ہے، جبکہ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے: اگر ہم خیر الرسل کی امت ہیں تو ہمارے اخلاق میں اس نسبت کی جھلک کتنی ہے؟ کیا کمزور کے ساتھ ہمارا سلوک، غصے کے وقت ہماری کیفیت، اور روزمرہ کے فیصلے اس نسبت کے لائق ہیں؟
یہ شعر ہمیں اپنے اعمال کو ایک بڑے آسمان کے نیچے دیکھنا سکھاتا ہے۔ جب یہ شعور پیدا ہو جائے کہ ایک دن ہمیں اس مولائے کل کے سامنے کھڑا ہونا ہے، تو بہت سے چھوٹے غضب خود بخود چھوٹنے لگتے ہیں، اور مزاج میں ادب آنا شروع ہو جاتا ہے۔
مثال
جیسے کوئی سپاہی اپنے عمل کو اس وقت زیادہ سنجیدگی سے لیتا ہے جب اسے معلوم ہو کہ اسے اپنے سب سے بڑے سردار کے سامنے جواب دینا ہے، ویسے ہی مسلمان بھی اپنی نسبت کا حق تب پہچانتا ہے جب وہ خود کو حضورِ نبوی میں جواب دہ سمجھے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ مسلم اخلاق صرف دنیاوی معاملہ نہیں بلکہ نسبتِ محمدی کے سامنے جواب دہی کا معاملہ ہے۔ جب یہ شعور زندہ ہو تو حسنِ سیرت گہرا اور پائیدار بنتا ہے۔