رموز بے خودی

هستی حاضر کند تفسیر غیب

هستی حاضر کند تفسیر غیب

می شود دیباچهٔ تسخیر غیب

ترجمہ

یہ موجود اور سامنے والی ہستی غیب کی تفسیر کرتی ہے، اور غیب کی تسخیر کا دیباچہ بن جاتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال محسوس اور غیر محسوس کے تعلق کو نہایت باریک انداز میں واضح کرتے ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ “حاضر” اور “غیب” دو الگ دنیائیں ہیں، مگر اقبال بتاتے ہیں کہ حاضر ہستی خود غیب کی تفسیر کرتی ہے۔ یعنی جو کچھ ہمارے سامنے ہے، وہ اپنے پیچھے کسی پوشیدہ حقیقت، کسی باطنی قانون، کسی اعلیٰ حکمت اور کسی نادیدہ نظام کی نشان دہی کرتا ہے۔ کائنات خاموش نہیں؛ اس کا ہر مظہر اپنے پس منظر میں ایک غیبی معنی رکھتا ہے۔ اگر نگاہ بیدار ہو تو محسوسات دیوار نہیں رہتے، دریچہ بن جاتے ہیں۔

اگلی سطر میں اقبال ایک اور قدم آگے لے جاتے ہیں: حاضر ہستی “تسخیرِ غیب” کا دیباچہ بن جاتی ہے۔ یعنی محسوس دنیا کا صحیح فہم انسان کو ان پوشیدہ قوتوں تک پہنچاتا ہے جو ابھی نگاہ سے اوجھل ہیں۔ علم کی ساری تاریخ اسی اصول کی مثال ہے۔ انسان نے جب ظاہری مظاہر کو غور سے دیکھا تو ان کے پس پردہ چھپے ہوئے قوانین تک رسائی حاصل کی۔ اقبال اس بات سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ دنیا سے بے تعلقی نہیں بلکہ دنیا کے معنی خیز مطالعے سے غیب کے دروازے کھلتے ہیں۔

حاضر بطور تفسیر:

تفسیر کا کام یہ ہوتا ہے کہ کسی پوشیدہ یا مجمل بات کو کھول دے۔ اقبال کہتے ہیں کہ موجود کائنات ایسا ہی کام کرتی ہے۔ دن رات، موت حیات، موسموں کی گردش، جسم کا نظم، عقل کی قوت، اخلاقی قانون، یہ سب غیب کے اشارات ہیں۔ جو شخص صرف سطح دیکھتا ہے وہ چیزوں کو استعمال تو کرتا ہے مگر سمجھتا نہیں۔ جو شخص ان میں معنی پڑھتا ہے، وہ کائنات کو ایک کھلی ہوئی آیت کی طرح دیکھنے لگتا ہے۔

یہاں اقبال کا زاویہ نہ خشک مادیت ہے نہ بے عملی روحانیت۔ وہ محسوس دنیا کو حقیر نہیں سمجھتے، بلکہ اسے غیبی حقیقت کے اظہار کا میدان قرار دیتے ہیں۔ اس لیے کائنات کا مشاہدہ بھی عبادت کے معنی اختیار کر سکتا ہے، اگر وہ معرفت اور مقصد سے جڑا ہو۔

دیباچۂ تسخیر:

دیباچہ ابتدا کو کہتے ہیں۔ اقبال بتاتے ہیں کہ جو کچھ سامنے ہے وہ آخری منزل نہیں بلکہ ایک مقدمہ ہے۔ محسوس دنیا کی تفہیم سے انسان غیب کی ان تہوں تک پہنچتا ہے جو پہلے اس کے لیے نامعلوم تھیں۔ یوں علم، تحقیق، تجربہ اور تدبر سب ایک بڑے سفر کے ابتدائی مرحلے بن جاتے ہیں۔

“تسخیر” کا مطلب یہاں اندھی غلبہ طلبی نہیں بلکہ رازوں کو دریافت کر کے انہیں مقصدِ خیر کے تابع کرنا ہے۔ آگ، ہوا، پانی، دھات، روشنی، حرکت، یہ سب قوتیں پہلے غیب کے پردے میں تھیں، پھر انسان نے انہیں سمجھا، برتا، اور اپنے کام میں لایا۔ اقبال یہی روح مسلمان میں جگانا چاہتے ہیں۔

علم اور ایمان کا ربط:

اس شعر سے ایک اہم اصول نکلتا ہے کہ سچا ایمان علم دشمن نہیں ہوتا۔ اگر حاضر ہستی غیب کی تفسیر ہے تو پھر اس کا مطالعہ ایمان کے خلاف نہیں بلکہ اس کے لیے مددگار ہے۔ مومن دنیا کو محض حواس کا میل نہیں سمجھتا بلکہ ایک معنی خیز نظام سمجھتا ہے، اس لیے وہ اسے غور سے دیکھتا بھی ہے اور اس سے آگے بھی جاتا ہے۔

اقبال کی فکر میں یہی ترکیب بہت اہم ہے۔ وہ مسلمان کو صرف وجد میں نہیں رکھنا چاہتے، بلکہ اسے تحقیق، دریافت اور تسخیر کی طرف بھی بلاتے ہیں۔ کیونکہ جو غیب پر ایمان رکھتا ہے، وہ ظاہر کے پیچھے چھپے ہوئے امکانات کو بھی سنجیدگی سے لیتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج دو بڑی غلطیاں عام ہیں۔ ایک یہ کہ لوگ محسوس دنیا میں اتنے غرق ہو جاتے ہیں کہ اس کے پیچھے کسی غیبی معنی کو نہیں دیکھتے۔ دوسری یہ کہ کچھ لوگ غیب کے نام پر دنیا کے مطالعے کو بے وقعت سمجھ لیتے ہیں۔ اقبال ان دونوں رویوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سامنے کی ہستی ہی غیب کی تشریح ہے، اور اسی سے آگے بڑھ کر تم غیب کی قوتوں تک پہنچ سکتے ہو۔

یہ شعر امت کے لیے علمی بیداری کی دعوت ہے۔ اگر وہ دوبارہ دنیا میں موثر کردار چاہتی ہے تو اسے کائنات کو آیت، علم کو ذمہ داری، اور تسخیر کو امانت سمجھنا ہوگا۔ اقبال کے نزدیک یہی رویہ ظاہر اور غیب کے بیچ زندہ پل قائم کرتا ہے۔

مثال

جیسے دھواں آگ کی خبر دیتا ہے اور دروازہ اندر کے کمرے تک پہنچنے کا مقدمہ بنتا ہے، ویسے ہی محسوس دنیا غیب کے معنی کھولتی اور اس تک رسائی کا آغاز بنتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ محسوس کائنات غیبی حقیقت کی شرح بھی ہے اور اس کے پوشیدہ قوانین و امکانات تک رسائی کا ابتدائی دروازہ بھی۔ اس لیے دنیا کا بامعنی مطالعہ ایمان اور تسخیر، دونوں کی بنیاد بن سکتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button