مدعا گردد اگر مهمیز ما
مدعا گردد اگر مهمیز ما
همچو صرصر می رود شبدیز ما
ترجمہ
اگر ہمارا مدعا ہی ہماری ایڑ لگانے والی قوت بن جائے تو ہمارا شبدیز آندھی کی طرح دوڑنے لگتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال مقصد کی محض نظری حیثیت بیان نہیں کرتے بلکہ اس کی محرک قوت کو نمایاں کرتے ہیں۔ “مهمیز” گھوڑے کو تیز دوڑانے کے لیے استعمال ہونے والی ایڑ یا محرک علامت ہے۔ “شبدیز” ایک تیز رفتار گھوڑے کا استعارہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر مدعا خود ہماری مهمیز بن جائے، یعنی مقصد صرف ذہن میں موجود خیال نہ رہے بلکہ ہماری حرکت کو جلا دینے والی قوت بن جائے، تو ہماری زندگی کی رفتار آندھی کی طرح ہو جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اصل قوت صرف وسائل یا جسمانی طاقت میں نہیں، اس مقصد میں ہے جو انسان کے اندر حرکت کی حرارت پیدا کرتا ہے۔
“همچو صرصر می رود شبدیز ما” میں صرصر کی تشبیہ سے رفتار، شدت، قوت اور بے رکی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ شبدیز اگرچہ گھوڑا ہے، مگر اقبال اسے صرصر جیسی تند ہوا کے ساتھ جوڑ کر بتاتے ہیں کہ مقصد سے بھری ہوئی زندگی معمولی رفتار پر قناعت نہیں کرتی۔ جب انسان یا ملت کے اندر واضح مدعا جاگ اٹھتا ہے تو تھکن کم، ہمت زیادہ، تردد کم، اقدام زیادہ، اور سستی کم ہو جاتی ہے۔ پھر چلنا بھی دوڑ بن جاتا ہے اور دوڑ بھی صرف جنبش نہیں رہتی، ایک تاریخ ساز حرکت بن سکتی ہے۔
مهمیز کا استعارہ:
مهمیز اس چیز کا نام ہے جو حرکت کو تیز اور بیدار کرتی ہے۔ اگر زندگی کے پاس توانائی ہو مگر اس کے اندر بیدار کرنے والی ضرب نہ ہو تو وہ قوت جمود میں پڑ سکتی ہے۔ اقبال بتاتے ہیں کہ مدعا یہ کام کر سکتا ہے۔ یعنی مقصد صرف منزل نہیں بتاتا، راستے میں قدموں کو بھی تیزی دیتا ہے۔
یہ ایک بڑا نفسیاتی اصول ہے۔ بہت سے لوگ کم زور نہیں ہوتے، بس ان کے اندر محرک قوت ماند ہوتی ہے۔ جب انہیں کوئی سچا مقصد ملتا ہے تو وہی شخص بدل جاتا ہے۔ اقبال ملت کی سطح پر اسی تبدیلی کا امکان دکھا رہے ہیں۔
شبدیز کی رفتار:
شبدیز شاہانہ قوت، وقار اور تیزی کی علامت ہے۔ لیکن یہ تیزی خودبخود نہیں آتی۔ گھوڑے کو بھی سمت اور تحریک چاہیے۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ انسان کی زندگی بھی ایک سواری کی طرح ہے؛ اس کے اندر قوتِ حرکت موجود ہے، مگر اگر صحیح مهمیز نہ ہو تو وہ پوری قوت کے باوجود مطلوب رفتار اختیار نہیں کرتی۔
یہی وجہ ہے کہ وہ شبدیز کو صرصر سے ملا دیتے ہیں۔ مقصد سے جڑی ہوئی قوت آہستہ قدم نہیں رہتی؛ وہ ایسی بن جاتی ہے جو راستہ چیرتی ہوئی آگے بڑھ سکے۔ یہ رفتار اندھی بے سمتی نہیں بلکہ ایک بامقصد تیزی ہے۔
مدعا بطور محرک:
کچھ مقاصد انسان کو تھوڑی دیر کے لیے ابھارتے ہیں، مگر بڑا مدعا دیرپا محرک بنتا ہے۔ اقبال ایسے ہی مقصد کی بات کر رہے ہیں جو وقتی جوش نہیں، مستقل حرکت پیدا کرے۔ جب مدعا دل کی گہرائی میں اتر جاتا ہے تو انسان کو بار بار بیرونی دھکیل کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس کی اپنی روح ہی ایڑ بن جاتی ہے۔
امت کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر نصب العین واضح اور زندہ ہو تو بار بار مصنوعی نعروں، وقتی ابھاروں، یا ہنگامی شور کی ضرورت کم پڑتی ہے۔ ایک اندرونی محرک خود لوگوں کو حرکت میں لاتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری بہت سی اجتماعی کوششیں اس لیے سست ہیں کہ ان کے پیچھے واضح اور زندہ مدعا کم ہے۔ لوگ کام کرتے ہیں مگر جلد تھک جاتے ہیں، منصوبے بنتے ہیں مگر جان نہیں پکڑتے، تحریکیں اٹھتی ہیں مگر دیرپا رفتار پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال اس شعر میں علاج بتاتے ہیں: مدعا کو مهمیز بناؤ۔ مقصد محض نعرہ نہ ہو، دل کی آگ اور حرکت کی قوت بنے۔
جب ایسا ہوتا ہے تو عام وسائل بھی غیر معمولی اثر دکھا سکتے ہیں۔ رفتار باہر سے مسلط نہیں ہوتی، اندر سے پھوٹتی ہے۔ اقبال یہی چاہتے ہیں کہ امت اپنی سچی حرکت کا راز اپنی روحانی اور ملی منزل میں دوبارہ تلاش کرے۔
مثال
جیسے ایک تھکا ہوا مسافر منزل قریب دیکھ کر اچانک تیز چلنے لگتا ہے، ویسے ہی واضح مدعا زندگی کی سستی کو تیز اور بامقصد حرکت میں بدل دیتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک مقصد اگر زندگی کا حقیقی محرک بن جائے تو اس کی رفتار حیرت انگیز حد تک بڑھ جاتی ہے۔ مدعا ہی وہ مهمیز ہے جو ملت کی سوئی ہوئی قوتوں کو بیدار کر کے تاریخ ساز حرکت دے سکتی ہے۔