رموز بے خودی

آب و تاب چهره ایام تو

آب و تاب چهره ایام تو

در جهان شاهد علی الاقوام تو

ترجمہ

زمانوں کے چہرے کی رونق تو ہے، اور دنیا میں قوموں پر گواہ بھی تو ہی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال امتِ محمدیہ کے مقام کو نہایت بلند اور ذمہ داری سے بھرے ہوئے انداز میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ “چہرۂ ایام” کی آب و تاب تم سے ہے، یعنی زمانے کی اصل رونق، تہذیبی تازگی، اخلاقی ضیا اور روحانی وقار اس امت کی درست موجودگی سے وابستہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا میں ہر خوب صورتی صرف ظاہری طور پر اسی امت سے پیدا ہوتی ہے، بلکہ یہ کہ انسانی تاریخ کے چہرے کو اصل روشنی اس وقت ملتی ہے جب توحید، عدل، رحمت، امانت اور بندگی کے اصول زندہ ہوں۔ اقبال کے نزدیک یہی اصول امتِ محمدیہ کی امانت ہیں۔

دوسرے مصرعے میں “شاهد علی الاقوام” کا لفظ بہت اہم ہے۔ یہ محض عزت افزائی نہیں بلکہ قرآن کے اس تصور کی یاد دہانی ہے کہ امت کو ایک ایسی جماعت ہونا چاہیے جو حق کی گواہی دے، عدل کا معیار قائم کرے، اور دوسری قوموں کے سامنے محض دعوے سے نہیں بلکہ اپنے زندہ کردار سے سچائی کو ظاہر کرے۔ گواہی زبان سے بھی ہوتی ہے، مگر اصل گواہی زندگی سے ہوتی ہے۔ اقبال اس شعر میں مسلمان کو بتاتے ہیں کہ تمہاری موجودگی کا مطلب صرف اپنا حال سنوارنا نہیں، بلکہ دنیا کے سامنے ایک باوقار شہادت بننا بھی ہے۔

چہرۂ ایام کی رونق:

ایام کا چہرہ اس مجموعی تاریخی منظر کا استعارہ ہے جس میں تہذیبیں بنتی اور بگڑتی ہیں، قومیں اٹھتی اور گرتی ہیں، اور انسان اپنے اجتماعی مستقبل کا رخ متعین کرتا ہے۔ اگر اس چہرے پر آب و تاب ہو تو اس کا مطلب ہے کہ تاریخ میں امید، معنی، ضمیر اور جمال باقی ہیں۔ اقبال امت کو اسی رونق سے جوڑتے ہیں، کیونکہ ان کے نزدیک امتِ محمدیہ کا اصل پیغام محض ایک گروہی شناخت نہیں، بلکہ حیات بخش حقیقت ہے۔

یہاں آب و تاب صرف سیاسی غلبے کا نام نہیں۔ کوئی قوم طاقتور ہو کر بھی زمانے کے چہرے کو بدصورت کر سکتی ہے۔ مگر وہ امت جو عدل، رحمت اور توحید کے ساتھ کھڑی ہو، تاریخ کو باطن سے روشن کرتی ہے۔ اقبال اسی باطنی ضیا کی بات کر رہے ہیں۔

شہادت کا مفہوم:

شہادتِ علی الاقوام کا مطلب یہ ہے کہ امت خود اپنے اندر ایسا توازن، عدل، خدا خوفی اور سچائی پیدا کرے کہ وہ انسانیت کے لیے دلیل بن جائے۔ گواہ وہی معتبر ہوتا ہے جس کی اپنی سیرت مشتبہ نہ ہو۔ اسی لیے اقبال امت کو اس کے قرآنی منصب کی یاد دلاتے ہیں: تم محض ایک اور قوم نہیں، ایک شہادت ہو۔

یہ شہادت دباؤ یا غرور سے نہیں دی جاتی۔ یہ خدمت، عدل، امانت، علم، عبادت اور اخلاق سے بنتی ہے۔ امت جب ان اوصاف کے ساتھ زندہ ہوتی ہے تو وہ دوسروں پر زبردستی نہیں، حقیقت کے وزن سے اثر انداز ہوتی ہے۔

اعزاز اور بوجھ:

یہ شعر جتنا اعزاز دیتا ہے، اتنا ہی بوجھ بھی ڈالتا ہے۔ اگر تم زمانوں کے چہرے کی رونق ہو تو تمہاری غفلت صرف تمہارا ذاتی نقصان نہیں، تاریخی نقصان بھی ہے۔ اور اگر تم اقوام پر گواہ ہو تو تمہاری کم زوری صرف اندرونی کم زوری نہیں، شہادت کی کم زوری بھی ہے۔ اقبال امت کو یہ احساس دلانا چاہتے ہیں کہ اس کا مقام وراثتی لقب نہیں، مسلسل ذمہ داری ہے۔

اسی لیے یہ شعر فخر کے ساتھ محاسبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا ہماری علمی، اخلاقی، سماجی اور روحانی حالت واقعی اس منصب کے مطابق ہے یا نہیں۔ اقبال کی سچائی یہ ہے کہ وہ عزت کے ساتھ احتساب بھی دیتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج امتِ مسلمہ کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ یا تو اپنے منصب کو بھول جاتی ہے یا اسے صرف تاریخی فخر کے جملوں میں دہراتی ہے۔ اقبال کا شعر اس بھول کی اصلاح کرتا ہے۔ اگر تم دنیا میں گواہ ہو تو تمہیں اپنے علم، اداروں، اخلاق، معیشت، عبادت، عدل اور رحمت سب میں ایسی سچائی پیدا کرنی ہوگی جو دوسروں کے لیے بھی رہنمائی بن سکے۔

یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو دفاعی یا صرف مظلومانہ زاویے سے نہ دیکھیں۔ ہمیں اپنا حقیقی منصب یاد رکھنا چاہیے: تاریخ کے چہرے پر روشنی بننا، اور اقوام کے سامنے حق کی زندہ گواہی بننا۔ اقبال اسی بیدار خود شناسی کو دوبارہ قائم کرنا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے عدالت میں وہی گواہ وزن رکھتا ہے جس کی اپنی ساکھ پاک ہو، ویسے ہی امت کی شہادت بھی تبھی معتبر ہوتی ہے جب اس کی اپنی زندگی عدل اور سچائی سے روشن ہو۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امتِ محمدیہ کو زمانے کی رونق اور اقوام پر گواہ قرار دیتے ہیں۔ یہ مقام اعزاز بھی ہے اور ذمہ داری بھی، اور اس کا تقاضا یہ ہے کہ امت خود حق، عدل اور توحید کی زندہ مثال بنے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button