رموز بے خودی

تو ز پیوند حریمی زنده ئی

تو ز پیوند حریمی زنده ئی

تا طواف او کنی پاینده ئی

ترجمہ

تو حرم کی نسبت اور پیوند سے زندہ ہے، اور جب تک اس کا طواف کرتا ہے تب تک قائم و پایندہ رہتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ملت کی زندگی کو حرم کے ساتھ ایک زندہ پیوند کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ وہ محض یہ نہیں کہتے کہ حرم تمہارا مرکز ہے، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ تمہاری زندگی خود اسی پیوند سے وابستہ ہے۔ “زنده ئی” کا لفظ بتاتا ہے کہ مسئلہ صرف شناخت یا علامت کا نہیں، وجود اور بقا کا ہے۔ یعنی اگر یہ ربط مضبوط ہے تو ملت زندہ ہے، اور اگر یہ ربط سرد پڑ جائے تو اس کی روح کم زور ہونے لگتی ہے۔ اقبال کے نزدیک حرم سے تعلق محض عقیدتی احترام نہیں بلکہ ایک ایسی نسبت ہے جو امت کو باطن سے زندگی بخشتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں “طواف” کو پائندگی کی شرط کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ طواف محض ایک عبادتی حرکت نہیں، ایک فکری اور روحانی ترتیب بھی ہے۔ انسان جب کسی مرکز کے گرد چکر لگاتا ہے تو گویا اقرار کرتا ہے کہ میری سمتیں منتشر نہیں، میرا قلب ایک سچے محور کے گرد مرتب ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ جب تک تم یہ طواف کرتے رہو گے، یعنی جب تک اپنے مرکز کے ساتھ زندہ وابستگی، مسلسل رجوع اور عملی وفاداری قائم رکھو گے، تم باقی رہو گے۔ پائندگی جامد رہنے سے نہیں آتی؛ صحیح مرکز کے گرد مسلسل حرکت سے آتی ہے۔

پیوندِ حرم:

“پیوند” کے لفظ میں بہت لطیف معنی ہیں۔ یہ محض رسی یا قید نہیں، ایسا جڑاؤ ہے جس سے دو چیزیں ایک زندہ نسبت میں آ جاتی ہیں۔ جیسے کسی درخت کی شاخ اصل تناور تنے سے جڑی ہو تو رس پاتی رہتی ہے، ویسے ہی امت حرم کے پیوند سے حیات حاصل کرتی ہے۔ اس ربط کا مطلب صرف حج کی حاضری نہیں بلکہ دل، قبلہ، دعا، شریعت، تاریخ اور شعور کا اس مرکز کے ساتھ وابستہ رہنا ہے۔

اقبال اس نسبت کو قومی یا جغرافیائی نہیں بناتے۔ وہ اسے روحانی اور ملی حقیقت کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایک مسلمان دنیا کے کسی بھی خطے میں ہو، اگر اس کے شعور میں حرم زندہ ہے تو وہ ایک وسیع تر امت کی حیات سے جڑا ہوا ہے۔ یہ پیوند اسے تنہا نہیں رہنے دیتا۔

طواف کی حرکت:

طواف کی سب سے بڑی معنویت یہ ہے کہ اس میں مرکز ساکن رہتا ہے اور عاشق حرکت میں آتے ہیں۔ یوں مرکز ہر فرد کو اپنے گرد ایک نظم عطا کرتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ملی زندگی بھی اسی طرح ہے۔ افراد، نسلیں، زمانے، علاقے اور صورتیں بدلتی رہتی ہیں، مگر اگر مرکز ثابت رہے اور اس کے گرد رجوع کی حرکت قائم رہے تو امت باقی رہتی ہے۔

یہ حرکت بے مقصد گردش نہیں۔ طواف میں ایک ادب ہے، ایک سمت ہے، ایک ربط ہے، ایک تکرار ہے جو فراموشی کو توڑتی ہے۔ مسلسل رجوع سے دل زندہ رہتا ہے۔ اسی لیے اقبال پائندگی کو طواف کے ساتھ باندھتے ہیں۔ جو ملت اپنے مرکز کے گرد حرکت چھوڑ دے، وہ جلد یا بدیر اپنی داخلی لَے کھو دیتی ہے۔

زندگی اور بقا کا تعلق:

زندگی اور بقا ایک ہی چیز نہیں۔ کچھ قومیں زندہ دکھائی دیتی ہیں مگر باطن میں تھک چکی ہوتی ہیں، اور کچھ جماعتیں بظاہر کم زور ہونے کے باوجود اندر سے زندہ ہوتی ہیں۔ اقبال یہاں دونوں کو اکٹھا کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پیوندِ حرم سے زندگی ملتی ہے اور طوافِ حرم سے پائندگی۔ یعنی نسبت روح کو گرم رکھتی ہے اور مسلسل رجوع تاریخ کو قائم رکھتا ہے۔

یہ بات فرد پر بھی لاگو ہوتی ہے۔ ایک شخص اگر اپنے دل کے قبلے کو بکھرنے دے تو وہ باہر سے مصروف اور کامیاب ہو کر بھی اندر سے منتشر رہ سکتا ہے۔ مگر اگر اس کے باطن میں ایک مرکز زندہ ہو اور وہ بار بار اس کی طرف لوٹتا رہے تو اس کی شخصیت میں ثبات پیدا ہوتا ہے۔ اقبال ملت کے پردے میں فرد کی بھی تربیت کر رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کی ایک بڑی مشکل یہ ہے کہ مرکز کا احترام تو باقی ہے، مگر مرکز کے ساتھ زندہ پیوند کم زور پڑتا جاتا ہے۔ لوگ قبلہ جانتے ہیں مگر قبلہ شعور کم ہے، حج کا شوق رکھتے ہیں مگر طواف کی ملی معنویت پر کم غور کرتے ہیں، حرم سے محبت کرتے ہیں مگر اپنے اجتماعی فیصلوں کو اسی نسبت سے نہیں ناپتے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ بقا صرف جذباتی محبت سے نہیں آتی، زندہ ربط اور مسلسل رجوع سے آتی ہے۔

یہ شعر ہمیں یہ بھی سمجھاتا ہے کہ حرکت ہی زندگی ہے، مگر وہ حرکت جو صحیح مرکز کے گرد ہو۔ اگر سمت کھو جائے تو دوڑ بھی تھکن بن جاتی ہے۔ اور اگر مرکز مل جائے تو بار بار کی واپسی بھی تازگی بن جاتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت اپنی پائندگی کا راز پھر سے اس طواف میں پہچانے۔

مثال

جیسے ایک سیارہ اپنے مرکزِ کشش کے ساتھ ربط میں رہے تو اپنا مدار قائم رکھتا ہے، ویسے ہی ملت اپنے حرم کے گرد زندہ نسبت قائم رکھے تو اس کی بقا مضبوط رہتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حرم کے ساتھ ملت کے ربط کو اس کی زندگی اور پائندگی کا راز قرار دیتے ہیں۔ پیوندِ حرم سے روح زندہ رہتی ہے اور طوافِ حرم سے امت کی سمت اور بقا محفوظ رہتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button