رموز بے خودی

دامن خود میزند بر اخگرش

دامن خود میزند بر اخگرش

ہر چہ غش باشد رباید از زرش

ترجمہ

وہ (رہنما) اپنا دامن اس کے انگارے پر مارتا ہے، اور اس کے سونے میں جو کھوٹ ہو اسے دور کر دیتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو فرد اور قوم کو کھوٹ اور برائیوں سے پاک کر کے خالص بنا دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

انگارے پر دامن مارنا:

اقبال کہتے ہیں کہ رہنما اپنا دامن اس کے انگارے پر مارتا ہے، یعنی وہ اپنی توجہ، محنت اور تربیت سے فرد کے اندر چھپی حرارت اور صلاحیت کو مزید بھڑکاتا اور نکھارتا ہے۔

جیسے سنار سونے کو آگ میں تپاتا ہے تاکہ وہ خالص ہو، ویسے ہی رہنما فرد کو آزمائش اور تربیت کی بھٹی سے گزارتا ہے۔

کھوٹ کو دور کرنا:

شاعر کہتے ہیں کہ وہ اس کے سونے میں جو کھوٹ اور ملاوٹ ہو، اسے دور کر دیتا ہے۔ یعنی رہنما فرد اور قوم کو برائیوں، کمزوریوں اور خامیوں سے پاک کر دیتا ہے۔

اس تربیت کے بعد جو کچھ باقی رہتا ہے، وہ خالص سونا یعنی نکھرا ہوا کردار اور پاکیزہ سیرت ہوتی ہے۔

تزکیہ اور تطہیر:

اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ کامل رہنما کا ایک بڑا کام فرد اور قوم کا تزکیہ اور تطہیر ہے، یعنی انہیں باطنی کھوٹ سے پاک کرنا۔

خالص کردار کی تشکیل:

یہی تطہیر اور یہی تربیت ہے جو ایک عام فرد کو خالص، باکردار اور قابلِ اعتماد انسان بنا دیتی ہے۔

مثال

جیسے سنار سونے کو آگ میں تپا کر اس کی کھوٹ نکال دیتا ہے اور خالص سونا حاصل کرتا ہے، ویسے ہی کامل رہنما فرد کو تربیت کی بھٹی سے گزار کر اس کی خامیوں کو دور کر دیتا ہے۔

خلاصہ

اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما فرد اور قوم کو تربیت کی بھٹی سے گزار کر ان کی کھوٹ اور خامیوں کو دور کر دیتا ہے اور انہیں خالص و باکردار بنا دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button