شمع او بخت امم را کوکب است
شمع او بخت امم را کوکب است
روشن از وی امشب و هم دیشب است
ترجمہ
اس کی شمع قوموں کی قسمت کے لیے ستارہ ہے، اور اسی سے آج کی رات بھی روشن ہے اور گزری ہوئی رات بھی۔
تشریح
اس شعر میں اقبال تاریخ کی روشنی کو اس درجہ بلند کرتے ہیں کہ وہ محض چراغ نہیں رہتی بلکہ “بختِ امم” کا “کوکب” بن جاتی ہے۔ شمع نزدیک کی روشنی دیتی ہے اور کوکب دور سے سمت بھی دیتا ہے۔ اقبال نے دونوں کو یک جا کیا ہے۔ گویا تاریخ قوموں کے لیے وہ روشنی ہے جو قریب کے اندھیرے کو بھی کم کرتی ہے اور دور کے راستے کی رہنمائی بھی کرتی ہے۔ اس کے بغیر امم اپنی قسمت کے سفر میں یا تو اندھے قدم اٹھائیں گی یا دوسروں کے ستاروں کی طرف دیکھتی رہیں گی۔
“روشن از وی امشب و هم دیشب است” میں ایک نہایت لطیف زمانی وحدت موجود ہے۔ تاریخ کی روشنی صرف حال کو نہیں دکھاتی، ماضی کو بھی روشن کرتی ہے۔ امشب اور دیشب دونوں اسی سے منور ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ حال کو بھی قابلِ فہم بناتی ہے اور ماضی کو بھی مہمل اندھیرے میں نہیں چھوڑتی۔ وہ دونوں زمانوں کے درمیان روشن ربط قائم کرتی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ قوم اپنے ماضی کو بھی اس نور میں دیکھے اور اپنے حال کو بھی۔ تبھی اس کی قسمت اندھی تقلید کے بجائے بیدار بصیرت سے متعین ہوگی۔
شمع اور کوکب:
شمع کا نور قریب کا ہے، کوکب کا نور رہنما ہے۔ اقبال نے تاریخ کو دونوں کی صفات دی ہیں۔ وہ دل و دماغ کے قریب بھی روشنی پیدا کرتی ہے اور دور کے سفر کے لیے سمت بھی مہیا کرتی ہے۔
ملت کے لیے یہ دوہرا کام نہایت اہم ہے: ایک طرف وہ اپنے حال کے مسائل کو سمجھتی ہے، دوسری طرف اپنی بڑی تاریخی تقدیر اور راہ کو بھی دیکھتی ہے۔
بختِ امم:
بخت یہاں محض اندھی قسمت نہیں، تاریخی امکان اور تقدیرِ قومی کے معنی رکھتا ہے۔ قومیں اپنی قسمت اس وقت بہتر بناتی ہیں جب ان کے پاس اپنے آپ کو سمجھنے اور اپنی راہ متعین کرنے کی روشن بصیرت ہو۔ تاریخ یہی بصیرت عطا کرتی ہے۔
اس لیے تاریخ کو نظر انداز کرنا دراصل اپنی اجتماعی قسمت کو اندھیرے میں چلانے کے مترادف ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ بہت بڑی غفلت ہے۔
ماضی و حال کی مشترک روشنی:
امشب اور دیشب دونوں کو ایک ہی نور سے روشن کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ تاریخ زمانوں کو ٹکڑوں میں نہیں دیکھتی۔ ماضی الگ اندھیرا کمرہ نہیں، حال سے پیوست روشن کائنات کا حصہ ہے۔
یہی وحدت خودی کو تسلسل دیتی ہے۔ قوم جب اپنے دیشب کو سمجھتی ہے تب امشب بھی زیادہ واضح ہوتا ہے، اور فرد بھی یہی قانون اپنے وجود میں محسوس کرتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج اگر قومیں اپنی روشنی محض بیرونی ماڈلوں، وقتی کامیابیوں، یا عارضی نعروں سے لیں تو ان کی بصیرت کم زور رہتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل رہنما نور اپنی یادِ سرگزشت، اپنی روایت، اور اپنی تاریخی خودی کے چراغ سے آتا ہے۔
یہ شعر ہمیں دعوت دیتا ہے کہ اپنی قومی قسمت کا ستارہ باہر نہ ڈھونڈیں۔ اپنی تاریخ کے چراغ کو روشن رکھیں، کیونکہ اسی سے ماضی بھی معنی خیز ہوگا اور حال بھی۔ اقبال کے نزدیک یہی نور خودی اور ملت دونوں کی رہنمائی کرتا ہے۔
مثال
جیسے مسافر کو راستہ دکھانے کے لیے قریب کا چراغ بھی چاہیے اور دور کا ستارہ بھی، ویسے ہی قوم کو اپنی سرگزشت کی روشنی سے حال بھی سمجھنا ہوتا ہے اور مستقبل کی راہ بھی۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں تاریخ کو قوموں کی قسمت کا رہنما نور قرار دیتے ہیں۔ یہی روشنی ماضی اور حال دونوں کو منور کرتی ہے اور ملت کو اپنی راہ دیکھنے کے قابل بناتی ہے۔
