رموز بے خودی

چون ز ربط مدعائی بسته شد

چون ز ربط مدعائی بسته شد

زندگانی مطلع برجسته شد

ترجمہ

جب زندگی کسی ایک مدعا کے ربط میں بندھ گئی تو وہ ایک نمایاں مطلع بن گئی۔

تشریح

اس شعر میں اقبال مقصد اور زندگی کے ربط کو نہایت خوب صورت استعاراتی انداز میں واضح کرتے ہیں۔ “مدعا” سے مراد وہ اعلیٰ نصب العین ہے جس کی خاطر فرد یا ملت اپنی قوتوں کو ترتیب دیتی ہے۔ جب زندگی اس مدعا کے ربط میں بندھتی ہے تو وہ بکھری ہوئی حرکت نہیں رہتی، بلکہ ایک معنی خیز نظام اختیار کر لیتی ہے۔ “بسته شد” کا لفظ قید کے معنی میں نہیں، شیرازہ اور نظم کے معنی میں ہے۔ جیسے کسی کتاب کے اوراق بندھے ہوں تو وہ کتاب بنتی ہے، ویسے ہی زندگی جب کسی اعلیٰ مقصد سے بندھتی ہے تو اس کی حرکت معنی، تسلسل اور وقار اختیار کر لیتی ہے۔

“زندگانی مطلع برجسته شد” میں اقبال شاعرانہ زبان کو فلسفیانہ حقیقت سے جوڑتے ہیں۔ مطلع غزل کا پہلا شعر ہوتا ہے، جہاں سے پوری فضا، بحر اور آہنگ قائم ہوتا ہے۔ “برجسته” سے مراد روشن، نمایاں اور بلند پایہ ہے۔ یعنی مقصد سے بندھی ہوئی زندگی صرف منظم ہی نہیں ہوتی، بلکہ ایسی درخشندگی حاصل کر لیتی ہے کہ گویا وہ پوری انسانی داستان کا ایک ممتاز آغاز بن جائے۔ ایک بے مقصد زندگی تھکی ہوئی نثر کی طرح ہے، جبکہ مقصد سے وابستہ زندگی ایک باوقار مطلع کی مانند اپنا آہنگ خود پیدا کرتی ہے۔

مدعا کا ربط:

مدعا زندگی پر اوپر سے تھوپا گیا بوجھ نہیں بلکہ اس کی قوتوں کو سمت دینے والا مرکز ہے۔ جب انسان کے پاس کوئی اعلیٰ مقصد نہیں ہوتا تو اس کی خواہشیں الگ الگ سمتوں میں کھینچتی ہیں۔ کبھی خوف، کبھی راحت، کبھی شہرت، کبھی منفعت، کبھی عادت اسے چلانے لگتی ہے۔ لیکن جب مدعا سامنے آ جاتا ہے تو یہی منتشر قوتیں ایک رخ اختیار کر لیتی ہیں۔

ملت کے لیے بھی یہی قانون ہے۔ اگر اس کے پاس نصب العین واضح ہو تو اختلافات بھی نظم کے تابع آ سکتے ہیں، قربانی بھی معنی پا سکتی ہے، اور محنت بھی ایک بلند تر انجام کی خدمت بن سکتی ہے۔ اسی لیے اقبال “ربط” پر زور دیتے ہیں، صرف خواہش پر نہیں۔

مطلع کی تمثیل:

مطلع غزل کا وہ دروازہ ہے جس سے پوری نظم کا ذوق قائم ہوتا ہے۔ اقبال زندگی کو مطلع کہہ کر بتاتے ہیں کہ مقصد سے وابستہ حیات خود اپنے اندر حسن، ترتیب، صوت اور تاثر پیدا کرتی ہے۔ یعنی جب زندگی کے اعمال کسی مدعا سے مربوط ہو جائیں تو اس کے ہر قدم میں ایک شعوری آہنگ پیدا ہو جاتا ہے۔

یہ تمثیل اس لیے بھی اہم ہے کہ مطلع آغاز ہوتا ہے، اختتام نہیں۔ اقبال گویا یہ کہہ رہے ہیں کہ جب مقصد کے ساتھ زندگی بندھتی ہے تو اس کا ہر دن نیا آغاز بن سکتا ہے۔ وہ تھکن کا استعارہ نہیں رہتی، تخلیقی حرکت کا مظہر بن جاتی ہے۔

بکھراؤ سے نجات:

زندگی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ بہت کچھ کرتی ہے مگر جانتی نہیں کہ کیوں کرتی ہے۔ ایسے میں عمل ہوتے تو ہیں، مگر ان کے درمیان باہمی ربط نہیں ہوتا۔ اقبال اس مرض کی جڑ پکڑتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اصل مسئلہ قوت کی کمی نہیں، مقصد کی کمی ہے۔ جب مقصد آتا ہے تو بکھری ہوئی صلاحیتیں ایک دوسرے کی مددگار بننے لگتی ہیں۔

یہ اصول فردی تربیت، خاندانی زندگی، تعلیمی نظام، اور ملی بقا سب پر صادق آتا ہے۔ بے ربط عمل انسان کو تھکا دیتا ہے، اور مربوط عمل اسے سنوارتا ہے۔ اقبال اس شعر میں اسی سنورنے کی بشارت دیتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان بہت کچھ کر رہا ہے مگر اکثر اس کے اعمال ایک متحد مدعا سے مربوط نہیں۔ تعلیم الگ رخ پر، سیاست الگ رخ پر، عبادت الگ دائرے میں، اور معاشرت الگ معیار پر چلتی دکھائی دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ توانائی صرف ہوتی ہے مگر ایک نمایاں ملی مطلع پیدا نہیں ہوتی۔ اقبال اس شعر میں سوال اٹھاتے ہیں: کیا ہماری زندگی کسی بڑے مدعا کے ربط میں بندھی ہوئی ہے؟

اگر یہ ربط پیدا ہو جائے تو عام سی کوششیں بھی غیر معمولی معنی اختیار کر سکتی ہیں۔ یہی ربط زندگی کو نمایاں، بلند اور باوقار بناتا ہے۔ اقبال کی دعوت یہ ہے کہ زندگی کو مدعا سے باندھو، تبھی وہ اپنی اصل شعری اور اخلاقی شان میں نمودار ہوگی۔

مثال

جیسے بکھرے ہوئے موتی دھاگے میں پروئے جانے کے بعد ہار بن جاتے ہیں، ویسے ہی اعمال کسی مدعا کے ربط میں آ کر بامعنی اور نمایاں زندگی میں ڈھل جاتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ اعلیٰ مقصد سے بندھی ہوئی زندگی بکھری ہوئی نہیں رہتی، بلکہ ایک روشن اور نمایاں مطلع بن جاتی ہے۔ مقصد اعمال کو نظم، حسن اور معنویت عطا کرتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button