رموز بے خودی

بهر محتاجی دلش آنگونه سوخت

بهر محتاجی دلش آنگونه سوخت

با یهودی چادر خود را فروخت

ترجمہ

ضرورت مند کے لیے ان کا دل اس طرح تڑپا کہ انہوں نے ایک یہودی کے ہاتھ اپنا چادر تک فروخت کر دی۔

تشریح

اس شعر میں اقبال حضرت فاطمہ الزہراء کی سخاوت، درد مندی، اور انسان دوستی کے ایک نہایت اثر انگیز پہلو کو سامنے لاتے ہیں۔ “بهر محتاجی دلش آنگونه سوخت” میں دل کا “سوختن” محض جذباتی نرمی نہیں، بلکہ ایسا درد ہے جو انسان کو عمل پر آمادہ کر دے۔ یعنی محتاجی دیکھ کر ان کا دل صرف غمگین نہیں ہوا، بلکہ وہ کیفیت پیدا ہوئی جس نے انہیں اپنی چیز قربان کرنے پر آمادہ کیا۔ اقبال اسی سوزِ دل کو اصل اخلاقی عظمت سمجھتے ہیں۔

دوسرے مصرعے میں “با یهودی چادر خود را فروخت” کا ذکر اس ایثار کو اور نمایاں کر دیتا ہے۔ یہاں اصل نکتہ یہ نہیں کہ خریدار کون تھا، بلکہ یہ کہ حضرت فاطمہ الزہراء نے ضرورت مند کی حاجت کو پورا کرنے کے لیے اپنی ذاتی آسائش اور پردے کی ایک اہم چیز تک سے دست بردار ہونا گوارا کیا۔ اس سے ان کی انسانیت اور سخاوت کی وسعت ظاہر ہوتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہ وہی امومت ہے جو صرف اپنے بچوں کے لیے نہیں، بلکہ انسان کے درد کے لیے بھی جاگتی ہے۔

دل کا سوز:

اخلاقی عظمت صرف اصول جاننے سے پیدا نہیں ہوتی؛ اس کے لیے دل کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ جب دل واقعی کسی کے درد سے جلتا ہے تو انسان محض دیکھ کر نہیں رہ جاتا، کچھ دیتا بھی ہے۔

اقبال حضرت فاطمہ الزہراء کی اسی زندہ قلبی کیفیت کو نمایاں کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک اصل سخاوت وہ ہے جس کی جڑ اندر کے سوز میں ہو۔

ایثار کی حقیقت:

ایثار یہ نہیں کہ آدمی فالتو چیز دے دے۔ ایثار تب ظاہر ہوتا ہے جب انسان اپنی ضرورت، اپنی آسائش، یا اپنی محبوب چیز تک قربان کر دے۔

حضرت فاطمہ الزہراء کی اس نسبت سے اقبال ایک ایسا نسوانی نمونہ پیش کرتے ہیں جس میں دل کی نرمی ہاتھ کی سخاوت بن جاتی ہے۔

انسان دوستی کی وسعت:

شعر میں یہ بھی اشارہ ہے کہ رحم اور سخاوت کو مذہبی یا سماجی تنگ دائروں میں قید نہیں ہونا چاہیے۔ جب دل درد سے جاگتا ہے تو وہ انسان کو بطور انسان دیکھتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضرت فاطمہ الزہراء کا اسوہ صرف داخلی خانگی شفقت تک محدود نہیں رہتا، بلکہ محتاج کی عمومی خبر گیری تک پھیل جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج صدقہ اور خیرات بھی کبھی کبھی رسمی بن جاتی ہے، مگر اقبال ہمیں وہ معیار یاد دلاتے ہیں جس میں دل پہلے جلتا ہے، پھر ہاتھ کھلتا ہے۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ حقیقی کرم میں اپنی راحت کی قربانی بھی شامل ہوتی ہے۔ حضرت فاطمہ الزہراء کی سخاوت اسی لیے دل میں اترتی ہے کہ اس کے پیچھے ایثار اور زندہ درد دونوں موجود ہیں۔

مثال

جیسے کوئی شخص سخت سردی میں اپنا گرم کپڑا اس ضرورت مند کو دے دے جس کے پاس کچھ نہ ہو، ویسے ہی ایثار کی اصل پہچان یہ ہے کہ آدمی اپنی راحت کم کر کے دوسرے کی حاجت پوری کرے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کی ایسی سخاوت دکھاتے ہیں جو صرف نرمی نہیں بلکہ عملی ایثار ہے۔ ان کا درد مند دل محتاجی دیکھ کر اپنی ذاتی چیز تک قربان کر دیتا ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button