رموز بے خودی

همچو خنجر بر فسانت می زند

همچو خنجر بر فسانت می زند

باز بر روی جهانت می زند

ترجمہ

یہ خنجر کی طرح تیری سان پر چلتی ہے، پھر تیرے جہان کے رخ پر اپنی ضرب بھی لگاتی ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال تاریخ کی ایک اور فعال اور تیز صورت سامنے لاتے ہیں۔ پچھلے شعر میں تاریخ ملت کے اعصاب تھی، یہاں وہ ایک ایسی قوت بن کر سامنے آتی ہے جو دھار پیدا کرتی ہے اور پھر عمل میں آتی ہے۔ “بر فسانت می زند” کی تصویر سان پر چڑھنے یا سان پر چلنے کی طرف اشارہ دیتی ہے۔ خنجر جب سان سے گزرتا ہے تو کند نہیں رہتا، اس میں کاٹ پیدا ہوتی ہے، اس کی دھار جاگتی ہے۔ اقبال کے نزدیک تاریخ بھی یہی کام کرتی ہے: وہ قوم کے اندر کی سوئی ہوئی قوت، شعور، غیرت، اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو تیز کرتی ہے۔

مگر تاریخ کا کام صرف دھار پیدا کرنا نہیں۔ “باز بر روی جهانت می زند” میں اقبال بتاتے ہیں کہ یہ تیز شدہ قوت پھر جہان کے رخ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ یعنی تاریخ فقط اندرونی یاد نہیں، خارجی تاثیر بھی پیدا کرتی ہے۔ ایک قوم جب اپنی سرگزشت، اپنی خودی، اور اپنے مقاصد سے آشنا ہو جاتی ہے تو وہ دنیا میں مفعول نہیں رہتی، فاعل بنتی ہے۔ اس کی ضرب، اس کا اثر، اس کا کارنامہ، اور اس کی تہذیبی موجودگی پھر جہان کے چہرے پر لکھی جانے لگتی ہے۔

سان اور دھار:

سان پر چلنا تکلیف، رگڑ، اور تربیت کے بغیر ممکن نہیں۔ خنجر کی دھار آسانی سے پیدا نہیں ہوتی؛ اسے تیز ہونا پڑتا ہے۔ اقبال یہی دکھاتے ہیں کہ تاریخ بھی قوم اور فرد دونوں کو اس رگڑ سے گزارتی ہے جس سے قوت پیدا ہوتی ہے۔

یہ رگڑ ماضی کی یاد، شکست و ریخت کی خبر، آزمائشوں کی پہچان، اور پرکھے ہوئے اصولوں کے شعور سے پیدا ہوتی ہے۔ بے حافظہ قوم کے پاس دھار نہیں رہتی۔

اندرونی تیزی سے بیرونی اثر تک:

خودی پہلے اندر سے تیز ہوتی ہے، پھر باہر کام کرتی ہے۔ اقبال کے یہاں یہ ترتیب بہت اہم ہے۔ اگر اندر دھار نہ ہو تو باہر ضرب بھی بے اثر ہوگی۔ تاریخ اندر کی قوت کو جگا کر باہر کی تاثیر بناتی ہے۔

یہی ملی زندگی میں بیداری اور تہذیبی کارگزاری کے درمیان تعلق ہے۔ قوم پہلے اپنی یاد سے بیدار ہوتی ہے، پھر اپنے جہان میں نقش چھوڑتی ہے۔

جہان کے رخ پر ضرب:

“روی جهان” کا مطلب صرف خارجی دنیا نہیں، زمانے کا چہرہ بھی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ملت اپنی خودی سے محروم رہ کر زمانے کی مار نہ کھاتی رہے، بلکہ اپنی بیدار قوت سے خود زمانے پر اثر ڈالے۔

یہاں تاریخ ایک ماضی پرست پناہ گاہ نہیں بلکہ مستقبل ساز ہتھیار بن جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقبال کے نزدیک تاریخ کا اصل مصرف عمل ہے، نہ کہ محض یاد کی لذت۔

آج کے لیے سبق:

آج اگر تاریخ صرف تقریر، جذبات، یا نصابی یادداشت بن کر رہ جائے تو اس کی دھار ماند پڑ جاتی ہے۔ اقبال کا مطالبہ یہ ہے کہ تاریخ قوم کے اندر شعوری تیزی پیدا کرے، اس کے فیصلے کو تیز کرے، اور پھر اس سے دنیا میں حقیقی اثر پیدا ہو۔

یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ ماضی کی یاد کو محض فخر یا نوحہ نہ بناؤ۔ اسے اپنی سان بناؤ، اپنی دھار تیز کرو، اور پھر اپنے جہان کے رخ پر تعمیری اثر ڈالو۔ اقبال کے نزدیک یہی زندہ تاریخ کی قوت ہے۔

مثال

جیسے کند خنجر سان پر چڑھ کر ہی کاٹ پیدا کرتا ہے، ویسے ہی ملت اپنی تاریخ کی رگڑ سے گزر کر ہی ایسی قوت حاصل کرتی ہے جو دنیا میں اثر ڈال سکے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تاریخ کو ایسی قوت قرار دیتے ہیں جو قوم کو اندر سے تیز کرتی اور پھر اسے دنیا پر اثر انداز ہونے کے قابل بناتی ہے۔ تاریخ کی سچی یاد دھار بھی ہے اور ضرب بھی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button