بایدت آهنگ تسخیر همه
بایدت آهنگ تسخیر همه
تا تو می باشی فراگیر همه
ترجمہ
تجھے سب کو اپنے دائرۂ اثر میں لینے کی دھن ہونی چاہیے، تاکہ تو خود ہمہ گیر بن سکے۔
تشریح
یہ شعر بیکرانی کی طلب کو عمل کی سطح پر لے آتا ہے۔ اقبال یہاں “تسخیر” کا لفظ استعمال کرتے ہیں، مگر اس کا مفہوم محض ظاہری غلبہ یا جابرانہ فتح نہیں۔ ان کے نزدیک مسلم کی خودی میں ایسی وسعت ہونی چاہیے کہ وہ زندگی کے میدانوں، علم کے دائرے، اخلاق کے تقاضوں، اور انسانی خدمت کے امکانات سے منہ نہ موڑے۔ جو خودی صرف ایک گوشے میں سمٹ کر رہنا چاہے، وہ فراگیر نہیں بن سکتی۔ شعر کے مطابق:
آهنگ تسخیر:
“آهنگ” نیت، دھن، مزاج اور داخلی رُخ کا نام ہے۔ اقبال پہلے ارادے کو درست کرتے ہیں۔ جس انسان کے اندر بڑی جستجو نہ ہو، اس کے سامنے بڑی راہیں بھی نہیں کھلتیں۔ تسخیر کا پہلا مرحلہ باہر نہیں، باطن میں شروع ہوتا ہے۔ آدمی پہلے اپنے اندر یہ فیصلہ پیدا کرے کہ وہ محدود نہیں رہے گا، وہ حق، علم، کردار اور اثر کے میدان وسیع کرے گا۔
ارادہ چھوٹا ہو تو قسمت بھی اکثر چھوٹے دائرے میں گھومتی رہتی ہے۔
تسخیر همه کا مفہوم:
یہ “سب” صرف زمین یا اقتدار نہیں، بلکہ وہ تمام میدان ہیں جہاں انسان اپنی امانت ادا کر سکتا ہے۔ اپنے نفس کو مسخر کرنا، علم کو حاصل کرنا، وقت کو سنبھالنا، رشتوں میں عدل قائم کرنا، تہذیب پر اثر ڈالنا، اور حق کے پیغام کو وسیع کرنا بھی اسی تسخیر کا حصہ ہے۔ اقبال کے ہاں مسلم کی خودی محض دفاعی وجود نہیں؛ وہ تعمیری، موثر اور آفاقی وجود ہے۔
غلبہ اس وقت پاک بنتا ہے جب وہ نفس، مقصد اور اخلاق کے تابع ہو۔
فراگیر همه:
فراگیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں ظرف پیدا ہو، اس کی نظر وسیع ہو، اور اس کی تاثیر اپنے محدود حلقے سے باہر نکل سکے۔ جو خود صرف ایک کمرے، ایک جماعت، ایک مصلحت یا ایک خوف میں بند ہو، وہ سب کو کیسے سمیٹے گا؟ اقبال کہتے ہیں کہ بڑی تاثیر کے لیے بڑی نیت درکار ہے۔ جو دل سب کے لیے کشادہ ہو، وہی بڑی تہذیبی اور اخلاقی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے۔
وسعتِ اثر ہمیشہ وسعتِ دل اور وسعتِ مقصد سے جنم لیتی ہے۔
تسخیر اور حرص کا فرق:
یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔ اقبال حرص، استیلا پسندی اور نفسانی قبضے کی تعلیم نہیں دیتے۔ وہ ایسی خودی چاہتے ہیں جو اپنے کمال، اپنی دعوت اور اپنے خیر کو وسیع کرے۔ نفسانی حرص دوسروں کو گھٹا کر بڑھتی ہے، جبکہ اقبالی تسخیر دوسروں کو اٹھا کر، خدمت کر کے، اور زندگی کے میدانوں میں خیر پھیلا کر اثر پیدا کرتی ہے۔
اگر نیت حق کی ہو تو وسعت نعمت بنتی ہے، اور اگر نیت نفس کی ہو تو وہی وسعت فساد بن جاتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ اپنے آپ کو ابتدا ہی میں محدود تعریفوں کے حوالے کر دیتے ہیں: میں بس اتنا ہوں، میرا دائرہ بس یہی ہے، مجھ سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ اقبال اس ذہنیت کو توڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اپنے اندر ہمہ گیر ارادہ پیدا کرو۔ اپنی صلاحیت کو صرف ذاتی کامیابی تک نہ رکھو بلکہ اسے علم، خدمت، کردار اور امت کی تعمیر تک پھیلاؤ۔
اسلامی خودی کو بڑا بننے کے لیے پہلے بڑا ارادہ کرنا پڑتا ہے۔
مثال
اگر ایک معلم صرف اپنی نوکری تک محدود رہے تو اس کا اثر محدود رہے گا، مگر اگر وہ نئی نسل کی فکری تعمیر، اخلاقی تربیت اور علمی وسعت کو اپنا مقصد بنا لے تو وہ اپنے ایک کمرۂ جماعت سے کہیں زیادہ وسیع اثر پیدا کر سکتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ہمہ گیری حاصل کرنے کے لیے انسان کے اندر سب میدانوں کو خیر، علم اور کردار کے ذریعے مسخر کرنے کا بڑا ارادہ ہونا چاہیے۔ جو خودی بڑی نیت رکھتی ہے، وہی فراگیر تاثیر پیدا کرتی ہے۔