رموز بے خودی

ای گرفتار رسوم ایمان تو

ای گرفتار رسوم ایمان تو

شیوه های کافری زندان تو

ترجمہ

اے شخص، تیرا ایمان محض رسوم میں گرفتار ہو گیا ہے، اور کافرانہ طور طریقے تیرے لیے قید خانہ بن گئے ہیں۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کی ایک نہایت گہری بیماری کی نشاندہی کرتے ہیں: ایمان اپنی اصل روح سے کٹ کر محض رسوم میں قید ہو جانا۔ وہ مسلمان کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ تمہارا ایمان زندہ حقیقت نہیں رہا، بلکہ رسوم، عادات، موروثی طرزوں اور بے روح ظاہرداری کے اندر پھنس گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ ایک اور سخت بات کہتے ہیں: تمہارے اوپر کافرانہ شیوهے، یعنی وہ طور طریقے جو توحیدی مزاج سے ہم آہنگ نہیں، قید خانہ بن چکے ہیں۔ شعر کے مطابق:

رسوم میں گرفتار ایمان:

رسوم زندگی کا حصہ ہو سکتی ہیں، مگر جب وہ اصل ایمان کی جگہ لے لیں تو دین ایک زندہ رابطہ نہیں رہتا بلکہ جامد عادت بن جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک اصل ایمان دل کو بدلتا ہے، عقل کو جگاتا ہے، کردار کو سیدھا کرتا ہے، اور زندگی کے ہر گوشے میں خدا کی حضوری پیدا کرتا ہے۔ لیکن جب ایمان رسم بن جائے تو نماز صرف حرکت رہ جاتی ہے، ذکر صرف آواز رہ جاتا ہے، اور نسبتِ دینی محض نام کی چیز بن جاتی ہے۔

یہ گرفتاری اس لیے خطرناک ہے کہ انسان خود کو دیندار سمجھتا رہتا ہے، مگر اس کے اندر وہ تبدیلی پیدا نہیں ہوتی جو ایمان کا اصل ثمر ہے۔ گویا وہ مذہبی صورت رکھتا ہے، مگر روحانی حقیقت سے دور ہوتا جاتا ہے۔

شیوه های کافری:

اقبال کا مطلب یہاں صرف غیر مسلم اقوام کی ظاہری نقل نہیں، بلکہ وہ تمام فکری، اخلاقی اور تہذیبی انداز مراد ہیں جو توحید کے خلاف یا اس سے بے نیاز ہوں۔ جب مسلمان اپنی زندگی کے فیصلوں میں خواہش، نمود، طبقاتی غرور، روحانی سستی یا باطل کے سانچوں کو اختیار کرتا ہے تو وہ دراصل “شیوه های کافری” کا شکار ہو جاتا ہے، چاہے اس کے پاس مذہبی الفاظ بھی موجود ہوں۔

اس لیے اقبال کی تنقید کسی خاص لباس یا ایک سطحی رسم تک محدود نہیں، بلکہ اس پوری ذہنیت پر ہے جو اسلام کے دعوے کے باوجود غیر اسلامی پیمانوں پر جینا شروع کر دیتی ہے۔

زندان کی تعبیر:

یہ بہت سخت مگر سچی تعبیر ہے۔ وہ شیوهے جو انسان کو آزاد، بیدار اور باوقار بنانے کے بجائے اسے رواج، تقلید اور باطل سے باندھ دیں، وہ زندان ہی ہوتے ہیں۔ قید خانہ ہمیشہ دیواروں سے نہیں بنتا؛ کبھی وہ ذہنی عادتوں سے بنتا ہے، کبھی سماجی دباؤ سے، کبھی خود ساختہ تقدس سے، اور کبھی اس مذہبی ڈھانچے سے جو اصل ایمان کو مفلوج کر دیتا ہے۔

اقبال چاہتے ہیں کہ مسلمان یہ پہچانے کہ اس کی بہت سی پابندیاں خارجی جبر سے زیادہ داخلی غفلت کی پیدا کردہ ہیں۔ وہ رسموں کا عادی ہے، اس لیے زندان کو گھر سمجھ بیٹھا ہے۔

ایمان اور آزادی:

اقبال کے ہاں ایمان آزاد کرنے والی قوت ہے۔ وہ انسان کو خدا کے سوا ہر جھوٹے آقا سے نجات دیتا ہے، اس کے باطن کو پاک کرتا ہے، اور اسے ایک باوقار خودی عطا کرتا ہے۔ اگر ایمان کے نام پر انسان قید، جمود، تقلید اور بے عملی میں گرتا جائے تو سمجھنا چاہیے کہ کہیں نہ کہیں ایمان کی حقیقت رسوم کے نیچے دب گئی ہے۔

اسی لیے اس شعر میں تنبیہ بھی ہے اور علاج کا اشارہ بھی: ایمان کو رسم سے نکال کر دوبارہ زندہ تجربہ بنانا ہوگا۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بہت سے مسلمان اپنے دین کو چند سماجی نشانیوں، مذہبی تقریبات یا موروثی عادات تک محدود کر دیتے ہیں۔ ان کی معیشت، اخلاق، سیاست، تہذیب اور ذہنی پیمانے کسی اور کے تابع ہوتے ہیں، جبکہ دین صرف شناختی غلاف بن جاتا ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں جھنجھوڑتا ہے کہ ایسا ایمان زندہ ایمان نہیں، بلکہ گرفتاری ہے۔

اگر امت کو دوبارہ آزادی چاہیے تو اسے رسوم سے اوپر اٹھ کر قرآنی ایمان کی اصل حرارت، جرأت اور تبدیلی پیدا کرنے والی قوت کو اختیار کرنا ہوگا۔

مثال

جیسے کوئی شخص دوا کی شیشی کو سینے سے لگائے رکھے مگر دوا پیئے نہیں، تو شیشی اس کا علاج نہیں کرتی، ویسے ہی دین کی رسمیں اگر حقیقتِ ایمان میں نہ بدلیں تو وہ نجات کا ذریعہ نہیں بنتیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جب ایمان اپنی زندہ روح کھو کر صرف رسوم میں قید ہو جائے تو غیر توحیدی طور طریقے انسان کے لیے زندان بن جاتے ہیں۔ علاج یہ ہے کہ دین کو دوبارہ قرآنی حقیقت اور زندگی بدلنے والی قوت کے طور پر جیا جائے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button