ورنه گرد تربتش گردیدمی
ورنه گرد تربتش گردیدمی
سجده ها بر خاک او پاشیدمی
ترجمہ
ورنہ میں تو ان کی تربت کے گرد گھومتا رہتا، اور اپنی پیشانیاں ان کی خاک پر بچھا دیتا۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کا تکملہ ہے اور اقبال کے جذباتی و روحانی اظہار کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہاں شاعر حضرت فاطمہ الزہراء کے لیے اپنی بے پناہ عقیدت کو شعری مبالغے کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ “گرد تربتش گردیدمی” اور “سجده ها بر خاک او پاشیدمی” عقیدت کی انتہائی شدت کا اظہار ہیں، نہ کہ کوئی شرعی حکم یا عملی دعوت۔ اس نکتے کو خود پچھلا شعر واضح کر چکا ہے کہ شاعر کا قدم آئینِ حق اور فرمانِ مصطفیٰ سے بندھا ہوا ہے۔ اس لیے یہاں مراد یہ ہے کہ اگر شرعی حدود کی پابندی نہ ہوتی تو دل کا جذبہ اس درجے کا تھا کہ وہ اپنی محبت کا انتہائی اظہار کرتا۔
اقبال کے اس انداز سے دو باتیں سامنے آتی ہیں۔ پہلی یہ کہ حضرت فاطمہ الزہراء کے مقام کے بارے میں ان کے دل میں کتنی گہری تعظیم ہے۔ دوسری یہ کہ یہ تعظیم اپنی صحیح صورت میں بھی اطاعتِ مصطفیٰ کے تابع رہتی ہے۔ یوں شاعر ایک طرف اہلِ بیت کے لیے بے مثال عقیدت ظاہر کرتے ہیں اور دوسری طرف توحید اور شرع کی حد کو بھی محفوظ رکھتے ہیں۔ یہی اس شعر کی اصل خوب صورتی ہے: محبت اپنی انتہا پر ہے، مگر اطاعت اس پر نگران ہے۔
شعری مبالغہ کا مقام:
بڑی عقیدت اور شدید محبت کو بیان کرنے کے لیے شاعری میں مبالغہ ایک معروف اسلوب ہے۔ اس کا مقصد حکم دینا نہیں بلکہ دل کی شدت کو محسوس کرانا ہوتا ہے۔
اقبال یہاں اسی اسلوب سے کام لیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ سجدہ کسی غیر اللہ کے لیے جائز ہے، بلکہ یہ دکھا رہے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہراء کے مقام کے بارے میں ان کا دل کس درجے کی تعظیم محسوس کرتا ہے۔
عقیدت اور شریعت کا توازن:
یہ شعر اکیلا پڑھا جائے تو شدت کا پہلو غالب نظر آتا ہے، مگر پچھلے شعر کے ساتھ مل کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبال خود اس جذبے کو آئینِ حق کے تابع رکھ رہے ہیں۔
اسی لیے اس شعر کا اصل حسن اس توازن میں ہے کہ دل کی محبت کم نہیں کی گئی، مگر عمل کی حد بھی باقی رکھی گئی۔ یہی اسلامی ادب ہے۔
تربت کی نسبت:
تربت سے مراد اس پاک ہستی کی یاد، نسبت، اور مقامِ عقیدت ہے۔ شاعر کی نگاہ میں یہ نسبت اس قدر بلند ہے کہ وہ اس کی خاک کو بھی تعظیم کی انتہا سے دیکھتا ہے۔
یہ وہی کیفیت ہے جو محبت کو رسمی یاد سے بلند کر کے زندہ روحانی تعلق میں بدل دیتی ہے، مگر پھر بھی اس کا اظہار شریعت کی حدود میں رہتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بعض لوگ عقیدت کے نام پر حد سے بڑھ جاتے ہیں اور بعض محبت کے نام سے ہی گھبراتے ہیں۔ اقبال ہمیں ایک درمیانی مگر بلند راستہ دکھاتے ہیں: محبت بھی پوری، مگر اطاعت کے ساتھ۔
یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ اہلِ بیت سے شدید عقیدت ایمان کی خوب صورتی ہو سکتی ہے، بشرطیکہ اس کا اظہار توحید، سنت، اور فرمانِ مصطفیٰ کے دائرے میں رہے۔ یہی صحیح محبت کا ادب ہے۔
مثال
جیسے کوئی شخص اپنے محبوب استاد کے لیے دل میں انتہائی احترام رکھتا ہو مگر پھر بھی مدرسے کے ضابطوں کے اندر رہ کر ہی اس احترام کا اظہار کرے، ویسے ہی سچی عقیدت جذبات کو حد سے نہیں نکالتی بلکہ صحیح آداب میں ڈھالتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کے لیے اپنی انتہائی عقیدت کو شعری مبالغے سے ظاہر کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی واضح رہتا ہے کہ یہ محبت آئینِ حق اور فرمانِ مصطفیٰ کے تابع ہے۔ یہی محبت کا صحیح اسلامی ادب ہے۔