رموز بے خودی

بندهها از پا گشود آن فتنه را

بندهها از پا گشود آن فتنه را

بر سر ما آزمود آن فتنه را

ترجمہ

اس فتنے نے بندوں کے پاؤں کھول دیے، اور اس فتنے کو آ کر ہمارے سر پر آزمایا گیا۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں تاتاری فتنہ کے اثرات کو مزید واضح کرتے ہیں۔ “بندهها از پا گشود” ایک نہایت پُر معنی تعبیر ہے: گویا اس فتنے نے بندوں کے پاؤں سے بندشیں کھول دیں، نظم توڑ دیا، استحکام چھین لیا، اور لوگوں کو ایسا بے سہارا کر دیا کہ وہ زمین پر قائم نہ رہ سکے۔ پھر یہی فتنہ “بر سر ما” آزمایا گیا، یعنی پوری شدت کے ساتھ امت کے سر پر لایا گیا تاکہ اسے کڑا امتحان دیا جائے۔ اقبال یہاں تباہی کے ساتھ آزمائش کے پہلو کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:

پاؤں کھل جانے کا استعارہ:

پاؤں پر بندش ہونا استحکام، وقار، نظم اور زمین سے جڑے رہنے کی علامت ہے۔ جب پاؤں کھل جائیں تو آدمی لڑکھڑا جاتا ہے، توازن کھو دیتا ہے، اور راستہ بھی درست نہیں چل پاتا۔ اقبال اس فتنہ کے اثر کو اسی صورت میں دکھاتے ہیں: اس نے افراد، اداروں اور پوری تہذیب کا توازن ہلا دیا۔

یہ صرف جسمانی شکست کا بیان نہیں بلکہ اجتماعی بنیادوں کے ڈھیلے پڑ جانے کا بیان ہے۔ جب قوم کا علمی مرکز ٹوٹ جائے، قیادت بکھر جائے، اعتماد ختم ہو جائے اور اجتماعی سمت دھندلا جائے تو گویا اس کے پاؤں کھل جاتے ہیں۔

فتنے کا ہمارے سر پر آزمایا جانا:

“بر سر ما” کا مطلب ہے کہ یہ کوئی دور کا واقعہ نہ تھا بلکہ براہِ راست ہماری تقدیر میں ڈال دیا گیا امتحان تھا۔ “آزمود” سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال اسے صرف دشمنی نہیں بلکہ ایک کڑی آزمائش کے طور پر بھی دیکھتے ہیں۔ آزمائش میں انسان یا قوم کے باطن کا سچ ظاہر ہوتا ہے: اس کا ایمان، اس کی کمزوری، اس کا جھوٹا غرور اور اس کی اصل طاقت سب سامنے آ جاتی ہے۔

امت پر یہ فتنہ آیا تو اس کی بہت سی ظاہری قوتیں ٹوٹ گئیں، مگر یہی مرحلہ یہ بھی بتا گیا کہ امت کی اصل حیات صرف سلطنت میں نہیں، بلکہ اس کے باطن میں ہے۔ اگر باطن زندہ ہو تو شکست کے بعد بھی بقا ممکن رہتی ہے۔

امتحان کا مقصد:

اقبال کے ہاں آزمائش محض سزا کا نام نہیں ہوتی۔ وہ بسا اوقات تطہیر، بیداری اور اصل قوت کو ظاہر کرنے کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ جب کوئی قوم آسانی میں غافل ہو جائے، اپنے شرف کو معمولی سمجھنے لگے یا اپنی اصل سے دور ہو جائے تو سخت فتنہ اسے اس کی کمزوری کا آئینہ دکھاتا ہے۔

اس معنی میں یہ شعر نوحہ کے ساتھ تنبیہ بھی ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت ماضی کے اس زخم کو یوں پڑھے کہ اس سے یہ معلوم ہو کہ باطنی انحطاط اور خارجی فتنہ مل کر کس طرح تہذیبی زلزلہ پیدا کرتے ہیں۔

بندوں سے مراد:

یہاں “بندهها” سے مراد عام لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور پوری امت کے افراد بھی۔ فتنے کی شدت یہی ہوتی ہے کہ وہ صرف حکمرانوں کو نہیں ہلاتا بلکہ عام آدمی کے روزمرہ اعتماد، اس کے علم، اس کے گھر، اس کے شہر اور اس کی نفسیات کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اقبال اس لفظ سے اجتماعی مصیبت کی وسعت بتاتے ہیں۔

اس لیے قومی بحران کو صرف اقتدار کی تبدیلی سمجھنا غلط ہے۔ اصل بحران وہ ہوتا ہے جو بندوں کے قدم، دل اور شعور سب کو ہلا دے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے بہت سے فتنے بھی اسی نوعیت کے ہیں: وہ صرف سیاسی نہیں بلکہ نفسیاتی، اخلاقی، تعلیمی اور تہذیبی ہیں۔ ان سے ہمارے قدم ڈھیلے ہوتے ہیں، یقین کمزور ہوتا ہے، اور سمت دھندلا جاتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں بتاتا ہے کہ ایسے وقت میں صرف ظاہری ردعمل کافی نہیں؛ جڑوں کو مضبوط کرنا، قدم جما کر رکھنا اور باطن کو درست کرنا ضروری ہے۔

اگر ہم فتنے کو صرف حادثہ سمجھ کر گزر جائیں گے تو دوبارہ اسی طرح پکڑے جائیں گے۔ لیکن اگر اسے آزمائش سمجھ کر اپنے اندر استقامت، علم اور توحیدی مرکزیت پیدا کریں گے تو یہی صدمہ بیداری کا سبب بن سکتا ہے۔

مثال

جیسے ایک شدید زلزلہ صرف عمارتیں نہیں گراتا بلکہ لوگوں کے کھڑے رہنے کے اعتماد کو بھی ہلا دیتا ہے، ویسے ہی تہذیبی فتنے بھی صرف سلطنت نہیں توڑتے بلکہ قوم کے قدم، توازن اور شعور کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ اسی لیے ان کا علاج صرف تعمیر نو نہیں بلکہ باطنی استحکام بھی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں تاتاری فتنہ کے اس اثر کو بیان کرتے ہیں کہ اس نے امت کے قدموں کا توازن ہلا دیا اور اسے ایک کڑے امتحان سے گزارا۔ یہ شعر ہمیں سکھاتا ہے کہ قومی فتنے صرف بیرونی حادثے نہیں ہوتے بلکہ ایسی آزمائشیں ہوتے ہیں جو باطن، نظم اور استحکام سب کو پرکھتی ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button