رموز بے خودی

غنچہ ئی بر می دمد از شاخسار

غنچہ ئی بر می دمد از شاخسار

گیردش باد نسیم اندر کنار

ترجمہ

ایک غنچہ شاخسار سے ابھرتا ہے، اور بادِ نسیم اسے آغوش میں لے لیتی ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں نمو کے ایک نہایت لطیف مرحلے کو بیان کرتے ہیں۔ زندگی جب شاخ سے غنچے کی صورت میں نمودار ہوتی ہے تو وہ ابھی نازک، ابتدائی اور حفاظت کی محتاج ہوتی ہے۔ ایسے وقت میں بادِ نسیم اس کے لیے مضر نہیں بنتی بلکہ اسے اپنے کنار میں لے لیتی ہے، گویا فطرت کی نرم قوتیں اس نوزائیدہ امکان کی پرورش کرتی ہیں۔ اقبال اس تصویر سے ملت کی اندرونی نشوونما، نئی نسل کے ظہور، اور اس ماحول کی اہمیت واضح کرتے ہیں جو نازک ابھرتی ہوئی قوتوں کو توڑنے کے بجائے سنبھالتا ہے۔ شعر کے مطابق:

شاخسار سے غنچہ کا ابھرنا:

غنچہ خود سے پیدا نہیں ہوتا، وہ شاخسار سے نکلتا ہے۔ اس میں اقبال ایک اہم اصول بتاتے ہیں کہ نئی زندگی ہمیشہ کسی زندہ اصل سے وابستہ ہوتی ہے۔ جس غنچے کی جڑ شاخ میں ہو، اس کے اندر غذا، ربط اور تسلسل موجود ہوتا ہے۔ اسی طرح نئی نسل، نیا فکر اور نئی تحریک اگر امت کی اصل روح، اس کے ایمانی سرمائے اور اس کی صحیح روایت سے جڑی ہو تو اس میں بقا کی امید پیدا ہوتی ہے۔

جو ابھرنا جڑ سے کٹا ہوا ہو وہ اکثر جلد مرجھا جاتا ہے۔ اقبال نئی نمود کو پسند کرتے ہیں، مگر شرط یہ ہے کہ وہ اصل شاخسار سے وابستہ ہو۔

غنچے کی نزاکت:

غنچہ کمال کی آخری صورت نہیں، ابتدا کی نازک منزل ہے۔ اس میں رنگ بھی پوشیدہ ہے، خوشبو بھی، مگر سب کچھ امانت کے طور پر بند ہے۔ اسی طرح امت کی بعض ابھرتی ہوئی قوتیں ابھی کامل نہیں ہوتیں۔ ایک نوجوان ذہن، ایک نئی دینی بیداری، ایک نوخیز ادارہ یا ایک تازہ اصلاحی تحریک ابتدا میں خام بھی ہو سکتی ہے، مگر اس خامی میں امکان بہت ہوتا ہے۔

دانشمندی یہ نہیں کہ ناپختگی دیکھ کر اسے توڑ دیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ اس امکان کو صحیح سمت، صحیح غذا اور صحیح حفاظت دی جائے۔

بادِ نسیم کی آغوش:

نسیم کا کردار یہاں نہایت اہم ہے۔ باد اگر تند ہو تو غنچہ ٹوٹ سکتا ہے، مگر نسیم نرم ہوتی ہے، سنبھالتی ہے، حرکت دیتی ہے اور زندگی کو سازگار فضا مہیا کرتی ہے۔ اقبال گویا یہ بتا رہے ہیں کہ ملت کی تعمیر میں صرف سختی کافی نہیں۔ تربیت میں رفق، حکمت، محبت اور نرم مزاجی بھی ضروری ہیں۔

جو ماحول نوزائیدہ خیر کو تحقیر، جلدبازی اور شدت سے کچل دے وہ باغ کی افزائش کا دشمن بن جاتا ہے۔ نسیم کی طرح سہارا دینے والی فضا ہی غنچوں کو گل بنا سکتی ہے۔

تربیت اور ماحول:

اس شعر کا مرکزی سبق یہ ہے کہ استعداد کے ساتھ ماحول بھی لازم ہے۔ صرف شاخسار کا ہونا کافی نہیں، نسیم بھی چاہیے۔ ملت کے اندر صلاحیتیں ہمیشہ پیدا ہوتی رہتی ہیں، مگر وہ اسی وقت پھلتی ہیں جب خاندان، مدرسہ، معاشرہ اور قیادت ان کی صحیح حفاظت کریں۔

بہت سی نیک قوتیں اس لیے ضائع ہو جاتی ہیں کہ انہیں ابتدا ہی میں یا تو غیر ضروری سختی ملتی ہے یا بے راہ آزادی۔ نسیم توازن کی علامت ہے: نہ تو جمود، نہ تباہ کن طوفان۔

آج کے لیے سبق:

آج ہمیں اپنی نئی نسل، نئے اہلِ علم اور نئے خیر خواہ اداروں کے ساتھ نسیم جیسا سلوک سیکھنا ہوگا۔ ان کی تربیت میں شفقت، دعا، ربط اور حکمت ہونی چاہیے۔ اگر ہم ہر نوخیز غنچے کو معیارِ کمال پر پرکھ کر توڑ دیں گے تو باغ خالی ہو جائے گا۔ زندہ ملت وہ ہے جو اپنے غنچوں کو پہچانے اور انہیں گل بننے کا موقع دے۔

مثال

جیسے ایک نوآموز طالب علم اگر اچھے استاد کے ہاتھ آ جائے تو اس کی خام صلاحیت رفتہ رفتہ نمایاں ہو جاتی ہے، لیکن اگر ابتدا ہی میں اس کا مذاق اڑایا جائے یا اسے بے راہ چھوڑ دیا جائے تو وہ کھلنے سے پہلے ہی مرجھا سکتا ہے، ویسے ہی ملت کے غنچوں کو بھی نسیم جیسی تربیت چاہیے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ نئی زندگی زندہ شاخ سے پیدا ہوتی ہے اور اس کی پرورش کے لیے نرم، حکیم اور محافظ فضا ضروری ہے۔ غنچے کی نمود اور نسیم کی آغوش ملت کی صحیح تربیت اور بقا کے دو لازم اصول ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button