خوف حق عنوان ایمان است و بس
خوف حق عنوان ایمان است و بس
خوف غیر از شرک پنهان است و بس
ترجمہ
اللہ کا خوف ہی ایمان کی اصل علامت ہے، اور اس کے سوا ہر خوف ایک چھپا ہوا شرک ہے۔
تشریح
علامہ اقبال `بخش ۸` کو ایک نہایت بلند اور فیصلہ کن اصول پر ختم کرتے ہیں۔ پوری حکایت، نماز، شیر، جرأت، دل، فقر، عشق اور استقامت کا حاصل اب ایک جملے میں سمٹ جاتا ہے: مومن کے دل میں اصل خوف صرف حق کا ہونا چاہیے۔ اس کے سوا باقی خوف اگر دل پر غالب ہو جائیں تو وہ باطن کی آزادی کو کھا جاتے ہیں۔ شعر کے مطابق:
خوفِ حق کا مفہوم:
خوفِ حق سے مراد گھبراہٹ یا مایوس کن ڈر نہیں، بلکہ وہ ہیبت، ادب، جواب دہی اور بیداری ہے جو انسان کو اللہ کے سامنے سنجیدہ رکھتی ہے۔ یہ خوف محبت کے خلاف نہیں بلکہ محبت کو صحیح رخ دیتا ہے۔ جب انسان جانتا ہے کہ اسے ایک سچے رب کے حضور جواب دینا ہے، تو اس کی نیت، اس کا عمل، اس کی زبان اور اس کی ترجیحات سنورنے لگتی ہیں۔
اقبال کے نزدیک یہی خوف ایمان کو رسمی دعوے سے نکال کر زندہ اخلاقی قوت میں بدلتا ہے۔
عنوان ایمان کیوں:
عنوان کسی شے کی پہچان اور سرنامہ ہوتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ ایمان کی پہچان یہ ہے کہ دل میں خدا کا خوف ہو۔ اگر یہ خوف نہ ہو تو ایمان محض زبان یا روایت کی حد تک رہ سکتا ہے، مگر اس کی عملی تاثیر کمزور پڑ جاتی ہے۔ خدا خوفی وہ اندرونی نگہبان ہے جو انسان کو تنہائی، طاقت، لالچ اور بحران میں بھی سیدھا رکھتی ہے۔
گویا ایمان کے بہت سے پھول ہیں، مگر ان کی جڑ میں یہ بیدار خدا خوفی موجود ہونی چاہیے۔
خوفِ غیر اور شرکِ پنہاں:
یہ شعر کا سب سے تیز حصہ ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ غیر اللہ کا غالب خوف ایک پوشیدہ شرک ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان فطری احتیاط یا انسانی احساس سے بالکل خالی ہو جائے، بلکہ یہ کہ دل کا اصل فیصلہ کن مرکز کسی مخلوق، کسی نظام، کسی آدمی یا کسی فائدے کے خوف کے قبضے میں نہ جائے۔
جب غیر اللہ کا خوف دل میں حاکم بن جاتا ہے تو انسان آہستہ آہستہ اپنی آزادی، سچائی اور وقار اس کے حوالے کرنے لگتا ہے۔ یہی پوشیدہ شرک ہے، کیونکہ دل کا قبلہ بدلنے لگتا ہے۔
پوری حکایت کا حاصل:
عالمگیر نے شیر سے اس لیے نہ ڈرنے کی قوت پائی کہ اس کے اندر کسی اور بڑا خوف موجود تھا: خدا کے حضور کی سنجیدگی۔ جب دل ایک اعلیٰ خوف سے معمور ہو تو چھوٹے خوف اپنی جگہ کھو دیتے ہیں۔ اسی لیے اقبال نے نماز، حضور، دل کی جمعیت اور شیرانہ استقامت سب کو آخر میں اسی اصول کے تحت سمیٹ دیا۔
یہی وہ باطنی توحید ہے جس سے مومن میدان میں بھی آزاد رہتا ہے اور خلوت میں بھی۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج انسان بہت سے خوفوں میں جیتا ہے: نوکری کا خوف، ساکھ کا خوف، لوگوں کی رائے کا خوف، طاقتور حلقوں کا خوف، تنہائی کا خوف، ناکامی کا خوف۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر یہ سب خوف دل کے تخت پر بیٹھ جائیں تو ایمان کی آزادی کمزور پڑ جائے گی۔ دل کو ایک بڑے خوف، یعنی خدا کے حضور جواب دہی کے احساس سے آباد کرو، پھر باقی خوف اپنی اصل حد میں آ جائیں گے۔
یہ شعر مومن کی داخلی آزادی کا آخری منشور ہے: خدا سے ڈرو، پھر غیر اللہ کے سامنے بے جا نہ ڈرو۔
مثال
ایک شخص اگر سچ بات صرف اس لیے نہ چھپائے کہ اسے اللہ کے حضور جواب دینا ہے، تو لوگوں کی ناراضی کا خوف اس پر پوری طرح حاکم نہیں رہتا۔ یہی خوفِ حق باقی خوفوں کو ان کی حد میں رکھتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق ایمان کی اصل پہچان خدا خوفی ہے۔ جب دل میں اللہ کا خوف زندہ ہو تو غیر اللہ کے بے جا خوف کمزور پڑ جاتے ہیں، اور مومن اندر سے آزاد، باوقار اور سچا رہتا ہے۔
