رموز بے خودی

ای پریشان محفل دیرینه ات

ای پریشان محفل دیرینه ات

مرد شمع زندگی در سینه ات

ترجمہ

اے وہ قوم جس کی پرانی محفل بکھر گئی ہے، تیرے سینے کے اندر زندگی کی شمع بجھ گئی ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال پچھلے تاریخی استدلال کے بعد براہ راست امت کو مخاطب کرتے ہیں۔ وہ گویا آئینہ سامنے رکھ کر فرماتے ہیں کہ جب محفلِ دیرینہ بکھر جاتی ہے تو صرف بیرونی نظام خراب نہیں ہوتا، بلکہ دل کے اندر جلنے والی شمعِ حیات بھی مدھم یا مردہ ہو جاتی ہے۔ “محفلِ دیرینہ” سے مراد وہ اجتماعی زندگی ہے جو مدتوں کی روایت، دینی ربط، اخلاقی آہنگ، مشترک مقصد اور روحانی مرکز سے بنی ہو۔ جب یہی محفل پریشان ہو جائے تو فرد کے سینے میں بھی وہ حرارت باقی نہیں رہتی جو زندگی کو معنی، سمت اور تاثیر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:

محفلِ دیرینہ کیا ہے:

محفلِ دیرینہ سے مراد محض پرانی مجلس یا ماضی پرستی نہیں، بلکہ وہ اجتماعی سانچہ ہے جو نسلوں کے تجربے، عبادت، علم، تہذیب، روایت اور مشترک شعور سے بنتا ہے۔ ایک ملت کی اصل قوت اسی میں ہوتی ہے کہ اس کے افراد خود کو کسی بڑی معنوی محفل کا حصہ سمجھیں۔ یہ محفل گھر سے مدرسے تک، مسجد سے بازار تک، اور فکر سے کردار تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔

اقبال بتاتے ہیں کہ جب یہ محفل سلامت ہو تو فرد تنہا نہیں رہتا؛ وہ ایک زندہ تسلسل سے بندھا رہتا ہے۔

پریشانی کا مطلب:

“پریشان” کا لفظ صرف غمگین یا مضطرب ہونے کے معنی میں نہیں، بلکہ منتشر، بے ربط، اجزائے ترکیبی کے ٹوٹ جانے اور نظم کے بکھرنے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب ملت کی محفل پریشان ہوتی ہے تو شعائر کمزور پڑتے ہیں، اقدار متنازع ہو جاتی ہیں، بزرگوں کا وزن گھٹ جاتا ہے، اور نئی نسل ایک واضح مرکز کے بغیر رہ جاتی ہے۔

یہی وہ مرحلہ ہے جہاں ظاہری آزادی بڑھتی ہوئی محسوس ہو سکتی ہے، مگر باطنی زندگی سکڑنے لگتی ہے۔

شمعِ زندگی کی رمز:

سینے کے اندر شمعِ زندگی سے مراد وہ باطنی نور، ایمانی حرارت، اخلاقی بیداری اور مقصدی شعور ہے جو انسان کو محض زندہ مخلوق نہیں بلکہ ذمہ دار انسان بناتا ہے۔ شمع روشنی بھی دیتی ہے اور گرمی بھی۔ اگر یہ شمع بجھ جائے تو انسان حرکت تو کرتا رہتا ہے مگر اس کے پاس سمت نہیں رہتی، آواز تو ہوتی ہے مگر تاثیر نہیں رہتی۔

اقبال کے نزدیک ملت کی اجتماعی بقا اور فرد کی باطنی حیات ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں۔ محفل بجھے تو سینہ بھی سرد ہو جاتا ہے۔

اجتماعی زوال اور باطنی موت:

اس شعر کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اجتماعی انتشار آخرکار شخصی بحران بن جاتا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو تہذیبی اور دینی تسلسل سے جدا محسوس کرے، وہ رفتہ رفتہ اپنی روحانی مرکزیت بھی کھو دیتا ہے۔ پھر اس کے فیصلے خواہش کے زیر اثر ہو جاتے ہیں، اس کی نظر میں نفع و ضرر بدل جاتا ہے، اور زندگی کا اعلیٰ مقصد نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

گویا محفل کی پریشانی صرف اداروں کا مسئلہ نہیں بلکہ دل کی شمع کا مسئلہ بھی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کے بہت سے افراد اپنی تنہائی، فکری بے سمتی اور روحانی تھکن کو صرف ذاتی مسئلہ سمجھتے ہیں، حالانکہ اس کے پیچھے اجتماعی بکھراؤ بھی کام کر رہا ہوتا ہے۔ اگر گھر، مسجد، علم، روایت اور صالح صحبت کے رشتے کمزور ہوں تو دل کے اندر کی شمع پر بھی اثر پڑتا ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ باطنی احیا کے لیے اجتماعی محفل کی مرمت بھی ضروری ہے۔

اس لیے ملت کی جمعیت کی حفاظت صرف سیاسی یا فقہی ضرورت نہیں، بلکہ دل کی زندگی کی حفاظت بھی ہے۔

مثال

جیسے ایک بڑی مجلس کا مرکزی چراغ بجھ جائے تو ہر گوشہ اندھیرے میں چلا جاتا ہے، ویسے ہی اجتماعی محفل کے بکھرنے سے افراد کے دل بھی سرد اور بے نور ہونے لگتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ ملت کی پرانی محفل کے بکھر جانے کا اثر سیدھا دلوں کی زندگی پر پڑتا ہے۔ جب جمعیت اور روایت ٹوٹتی ہے تو سینے کی شمعِ حیات بھی بجھنے لگتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button