رموز بے خودی

گر زمینی آسمان سازد ترا

گر زمینی آسمان سازد ترا

آنچه حق می خواهد آن سازد ترا

ترجمہ

اگر تو ابھی زمینی ہے تو وہ تجھے آسمانی بنا دے گا، اور تجھے ویسا بنا دے گا جیسا حق چاہتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال شریعت اور دینِ مصطفی کی تربیتی قوت کو ایک نہایت بلند اور امید افزا صورت میں پیش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر انسان ابھی زمینی ہے، یعنی مٹی سے بندھا ہوا، خواہشات میں پھنسا ہوا، محدود نگاہ اور کم ہمت ہے، تو حق کی یہ تربیت اسے آسمانی بنا سکتی ہے۔ “آسمان سازد ترا” کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا چھوڑ دے، بلکہ یہ کہ وہ اپنی موجودہ سطح سے بلند ہو جائے، اپنے باطن میں وسعت پیدا کرے، اور اپنی فطرت کو اس رخ پر لے آئے جہاں وہ خدائی مراد کے مطابق بن سکے۔

یہاں اقبال کا اصل زور اس بات پر ہے کہ دین انسان کو جوں کا توں قبول کر کے وہیں چھوڑ نہیں دیتا۔ وہ اس کی تشکیل کرتا ہے۔ اسے بدلتا ہے۔ اسے اوپر اٹھاتا ہے۔ اور آخر کار اسے “آنچه حق می خواهد” کے سانچے میں ڈھالتا ہے۔ یہی شریعت کی تربیت کا اعلی ترین مقصد ہے کہ انسان اپنی خواہش کے بجائے حق کی مراد کے مطابق بنے۔

زمینی ہونے کا مطلب:

زمینی ہونا یہاں محض مادی وجود رکھنا نہیں، بلکہ اس کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کا شعور صرف نیچے کی چیزوں تک محدود ہو۔ وہ نفع و نقصان کے چھوٹے پیمانوں میں قید ہو، راحت کے دائرے سے باہر نہ نکلے، مقصد سے زیادہ خواہش کو اہم سمجھے، اور اپنی روحانی و اخلاقی وسعت سے ناواقف رہے۔ اقبال کے نزدیک اکثر انسان اسی ابتدائی درجے پر زندگی گزارتا ہے۔ اس میں قوت کے بیج موجود ہوتے ہیں، مگر وہ ابھی کھلے نہیں ہوتے۔

دینِ مصطفی اسی زمینی انسان کو اٹھاتا ہے۔ عبادت سے اس کے باطن کو صاف کرتا ہے، شریعت سے اس کے عمل کو منظم کرتا ہے، محبت سے اس کے دل کو زندہ کرتا ہے، اور مجاہدہ سے اس کے ارادے کو بلند کرتا ہے۔ یوں وہ دھیرے دھیرے زمین سے وابستہ رہتے ہوئے بھی آسمانی صفات کا حامل ہو جاتا ہے۔

آسمانی بننے کا مفہوم:

آسمانی بننے سے مراد فرشتہ بن جانا نہیں، بلکہ انسان بننے کے اعلی درجے تک پہنچنا ہے۔ یعنی ایسا انسان جس کی نگاہ وسیع ہو، نیت پاک ہو، ارادہ مضبوط ہو، اور عمل خدائی مقصد سے ہم آہنگ ہو۔ آسمان یہاں بلندی، وسعت، روشنی، ترتیب اور نسبتِ حق کی علامت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ دین انسان کو زمین سے کاٹتا نہیں بلکہ زمین پر رہتے ہوئے اسے آسمانی معیار عطا کرتا ہے۔

اور جب وہ کہتے ہیں “آنچه حق می خواهد آن سازد ترا” تو اس میں انتہائی گہرا تربیتی تصور موجود ہے۔ اصل کمال یہ نہیں کہ انسان اپنی خواہشات پوری کر لے، بلکہ یہ ہے کہ وہ حق کی مراد کا پیکر بن جائے۔ یہ مقام اطاعت، محبت، ضبط، معرفت اور عمل کے امتزاج سے حاصل ہوتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج انسان کی سب سے بڑی الجھن یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی موجودہ حالت ہی کا آخری معیار سمجھ لیتا ہے۔ اگر وہ کمزور ہے تو کمزوری کو فطرت سمجھ لیتا ہے، اگر وہ خواہشات کا غلام ہے تو اسی کو آزادی مان لیتا ہے، اور اگر اس کی نگاہ پست ہے تو وہ اسے حقیقت پسندی کا نام دے دیتا ہے۔ اقبال اس سارے جمود کو توڑتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمہاری موجودہ حالت تمہارا مقدر نہیں۔ دین تمہیں اٹھا سکتا ہے، بدل سکتا ہے، اور وہ بنا سکتا ہے جو تم ابھی نہیں ہو۔

یہ شعر امید، تربیت اور خودی کی بلندی کا اعلان ہے۔ وہ انسان کو احساس دلاتا ہے کہ اگر وہ حق کے آئینے میں خود کو ڈال دے تو اس کی ہستی ایک نئے درجے پر پہنچ سکتی ہے۔

مثال

جیسے ایک خام پتھر تراشے جانے کے بعد خوبصورت مینار کا حصہ بن سکتا ہے، ویسے ہی زمینی انسان بھی حق کی تربیت سے بلند تر وجود پا سکتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ دین انسان کو پست حالت میں نہیں چھوڑتا بلکہ اسے بلند کر کے حق کی مراد کے مطابق ڈھالتا ہے۔ زمینی وجود آسمانی اوصاف پا سکتا ہے اگر وہ شریعت کی صحیح تربیت قبول کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button