جوی خون از ساعد معمار رفت
جوی خون از ساعد معمار رفت
پیش قاضی ناتوان و زار رفت
ترجمہ
معمار کے بازو سے خون کی نہر بہہ نکلی، اور وہ کمزور و بے حال ہو کر قاضی کے پاس جا پہنچا۔
تشریح
یہ شعر پوری حکایت کا دروازہ عدالت کی طرف کھولتا ہے۔ ظلم ہو چکا، خون بہہ چکا، مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اقبال مظلوم کو قاضی کے پاس لے جاتے ہیں۔ یعنی اسلامی مساوات محض اخلاقی وعظ نہیں بلکہ ادارہ جاتی انصاف بھی ہے۔ کمزور، زخمی اور بے بس انسان بھی قانون کے سامنے اپنی فریاد رکھ سکتا ہے۔ شعر کے مطابق:
خون کی نہر:
“جوی خون” ایک شدید تصویری تعبیر ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ظلم کی سنگینی دھندلی نہ رہے۔ یہ کوئی ہلکی لغزش نہیں بلکہ ایسا جبر ہے جس نے جسم چیر دیا ہے۔ خون کا بہنا اس بات کی علامت بھی ہے کہ ظلم ہمیشہ ایک قیمت وصول کرتا ہے، اور اکثر وہ قیمت مظلوم کے بدن، رزق اور اعصاب سے ادا کی جاتی ہے۔
یعنی فریاد کی بنیاد محض شکایت نہیں، کھلا ہوا زخم ہے۔
ناتوان و زار:
اقبال مظلوم کی حالت پوری شدت سے دکھاتے ہیں: وہ قوی، بے خوف یا لشکر کے ساتھ نہیں آیا، بلکہ ناتوان اور زار آیا ہے۔ یہی اسلامی مساوات کا اصل امتحان ہے۔ اگر عدالت صرف طاقت وروں کی زبان سمجھے تو وہ عدالت نہیں رہتی۔ قاضی کی عظمت تب ہوگی جب وہ اسی کمزور، لرزتے اور خون آلود انسان کی آواز کو بھی وزن دے۔
اسلامی قانون کی شان یہ ہے کہ مظلوم کی کمزوری اس کے حق کو کم نہیں کرتی۔
قاضی کی طرف رجوع:
معمار نے انتقام کے لیے لشکر نہیں ڈھونڈا، بغاوت نہیں کی، بلکہ قاضی کے پاس گیا۔ اس میں اقبال کا ایک نہایت اہم سیاسی سبق پوشیدہ ہے: حق کے حصول کا بلند ترین راستہ قانون اور عدل کا راستہ ہے۔ اگر معاشرے میں ایسا دروازہ کھلا ہو جہاں مظلوم کو سن لیا جائے تو ریاست کے اندر اخلاقی امید باقی رہتی ہے۔
یہی امید آئندہ اشعار میں سلطنت کو قرآن کے سامنے جھکائے گی۔
مساوات کی عملی صورت:
اب تک مساوات کا نظری تصور تھا؛ اس شعر میں وہ عملی شکل میں سامنے آتا ہے۔ ایک ہاتھ کٹا ہوا معمار بادشاہ کے خلاف قاضی کے پاس جا رہا ہے۔ یہ منظر خود اعلان کر رہا ہے کہ اسلام میں حق کی بنیاد منصب نہیں، انسانیت ہے۔ اگر قانون زندہ ہو تو رعیت کا ایک فرد بھی سلطان کو چیلنج کر سکتا ہے۔
یہی وہ اصول ہے جسے اقبال پوری حکایت میں نمایاں کرنا چاہتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج کے دور میں بھی کمزور آدمی کو ایسے اداروں کی ضرورت ہے جہاں وہ خوف کے بغیر شکایت لے جا سکے: عدالت، محتسب، انکوائری نظام، یا کوئی بااعتماد قانونی فورم۔ اگر صرف طاقت ور ہی انصاف تک پہنچ سکیں تو مساوات ایک لفظ رہ جاتی ہے۔ اقبال سکھاتے ہیں کہ اسلامی روح اسی وقت زندہ رہتی ہے جب زخمی انسان کے لیے بھی درِ انصاف کھلا ہو۔
قانون کی سچائی کا معیار یہ نہیں کہ وہ کتاب میں کیا لکھتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ مظلوم اس تک پہنچ سکتا ہے یا نہیں۔
مثال
جب کسی عام مزدور یا ملازم کو اپنے مالک یا افسر کے خلاف لیبر کورٹ یا عدالت تک رسائی ملتی ہے تو یہی اصول زندہ ہوتا ہے کہ کمزور بھی حق مانگ سکتا ہے اور طاقت ور بھی جواب دہ ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں ظلم کے بعد امید کا راستہ کھولتے ہیں۔ زخمی معمار کا قاضی کی طرف جانا اس بات کا اعلان ہے کہ اسلامی مساوات کا مرکز زندہ قانون اور مظلوم کے لیے قابلِ رسائی انصاف ہے۔