ارج می گیرد ازو ناارجمند
ارج می گیرد ازو ناارجمند
بنده را از سجده سازد سر بلند
ترجمہ
جو بظاہر بے قدر ہو وہ بھی اس سے وقار پاتا ہے، اور بندے کو سجدے ہی کے ذریعے سربلند بنا دیتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں علامہ اقبال قرآنِ حکیم اور دینِ محمدی کی ایک عظیم الٹی منطق پیش کرتے ہیں: جو دنیا کی نگاہ میں ناارجمند ہو، وہ بھی اس سے عزت پا لیتا ہے؛ اور جو بندہ اپنے رب کے سامنے سجدہ کرتا ہے، وہی حقیقت میں سربلند ہو جاتا ہے۔ بظاہر یہ تضاد محسوس ہوتا ہے کہ سجدہ، یعنی جھکنا، سر بلند کیسے بنا دیتا ہے؟ اقبال اسی راز کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اسلام میں عزت کا سرچشمہ خودنمائی، تکبر یا مخلوق پر غلبہ نہیں، بلکہ خدا کے سامنے خالص بندگی ہے۔ شعر کے مطابق:
ناارجمند کون؟
دنیا کے پیمانے اکثر دولت، نسب، قوت، شہرت یا اقتدار کو قدر کا معیار بناتے ہیں۔ ان پیمانوں کے مطابق بہت سے لوگ ناارجمند ٹھہرتے ہیں: غلام، غریب، غیر معروف، کمزور، یا وہ جن کے پاس دنیاوی سرمایہ کم ہو۔ اقبال بتاتے ہیں کہ قرآن ایسے لوگوں کو ایک نیا معیار دیتا ہے۔ وہ ان کی قیمت مادی پیمانوں سے نہیں، تقویٰ، شعور، حق سے نسبت اور کردار کی قوت سے لگاتا ہے۔
اسی لیے اسلامی تاریخ میں وہ لوگ بھی بلند مقام پاتے ہیں جنہیں دنیا حقیر سمجھتی تھی، کیونکہ وحی نے ان کے اندر عزت کا اصل جوہر جگا دیا۔
ارج کا ربانی معیار:
“ارج می گیرد ازو” سے مراد یہ ہے کہ عزت قرآن سے پیدا ہوتی ہے، نہ کہ محض اجتماعی پروپیگنڈے یا دنیاوی کامیابی سے۔ قرآن انسان کو بتاتا ہے کہ اس کی اصل قدر اس کے رب سے تعلق، اس کے اخلاقی وزن اور اس کے مقصدی وجود میں ہے۔ جب یہ شعور پیدا ہوتا ہے تو کمزور آدمی بھی اندر سے طاقتور ہو جاتا ہے۔
یہی ارج انسانی خودی کو بلند کرتا ہے۔ انسان اپنے آپ کو بازار کے نرخ سے نہیں، حق کے میزان سے پرکھنا سیکھتا ہے۔
سجود اور سربلندی:
دوسرا مصرع اقبال کی پوری فکری کائنات کا مرکز ہے۔ “بنده را از سجده سازد سر بلند”۔ یعنی بندگی ذلت نہیں، اصل عزت ہے۔ جب انسان ہر جھوٹے مرکز کے سامنے جھکنے سے انکار کر کے صرف خدا کے سامنے جھکتا ہے، تو وہ باقی سب کے سامنے آزاد ہو جاتا ہے۔ یہی سجدہ اس کی گردن کو دنیاوی جبر سے بچاتا ہے اور اسے داخلی وقار دیتا ہے۔
اس لیے مومن کا سجدہ کمزوری کا اشارہ نہیں بلکہ اعلان ہے کہ اس کا سر صرف حق کے سامنے جھکے گا۔ یہی جھکنا اسے مخلوق کی غلامی سے نکال کر سرفرازی عطا کرتا ہے۔
الٹی دنیا، سیدھا معیار:
دنیا کا عام منطق کہتا ہے کہ جو زیادہ اکڑتا ہے وہ بلند ہے، اور جو جھکتا ہے وہ کمزور ہے۔ اقبال اس منطق کو الٹ دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک تکبر انسان کو اندر سے چھوٹا کر دیتا ہے، جبکہ سجدہ اسے حقیقی بلندی دیتا ہے۔ کیونکہ تکبر نفس کا جھوٹا دعویٰ ہے اور سجدہ حق کی سچی شناخت۔
اسی لیے قرآن ایسے انسان بناتا ہے جو بندہ ہو کر بھی بادشاہوں سے زیادہ باوقار اور محروم ہو کر بھی دنیا داروں سے زیادہ مالامال ہوتے ہیں۔
امت کے لیے معنی:
اگر امت اپنے وقار کی بنیاد محض سیاسی غلبے، معیشت یا عددی طاقت پر رکھے گی تو وہ ہر اتار چڑھاؤ کے ساتھ کمزور ہو جائے گی۔ لیکن اگر وہ پھر سے سمجھ لے کہ اس کی عزت قرآن، تقویٰ، عدل اور بندگی سے ہے تو اس کا وقار زیادہ گہرا اور پائیدار ہوگا۔
اقبال امت کو یہی یاد دلاتے ہیں کہ سربلندی کا راستہ سجدے سے گزرتا ہے۔ جو امت اپنے رب کے سامنے جھکتی ہے، وہ باطل کے سامنے کھڑی ہو سکتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بہت سے لوگ عزت کو ظاہری اثر، شہرت یا طاقت سے ناپتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر ہمیں دوبارہ اصل معیار کی طرف لوٹاتا ہے۔ اگر ہم اپنی عزت کو ربانی میزان سے دیکھنا سیکھ لیں تو احساسِ کمتری، مرعوبیت اور جھوٹی بڑائی تینوں سے بچ سکتے ہیں۔
قرآن ایسے بندے پیدا کرتا ہے جو سجدہ گزار ہوتے ہوئے بھی زمانے کے سامنے سربلند رہتے ہیں۔ یہی مومن کی شان اور امت کی اصل عظمت ہے۔
مثال
جیسے ایک درخت جتنا اپنی جڑ میں گہرا اترتا ہے اتنا ہی آسمان کی طرف بلند ہوتا ہے، ویسے ہی بندہ جتنا خدا کے سامنے جھکتا ہے اتنا ہی حقیقی وقار پاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ قرآن بے قدر سمجھے جانے والوں کو بھی اصل عزت دیتا ہے، اور بندگی و سجود ہی انسان کو حقیقی سربلندی بخشتے ہیں۔ اسلامی عزت کا سرچشمہ دنیاوی اکڑ نہیں بلکہ ربانی سجدہ ہے۔