رموز بے خودی

از اجل این قوم بی پرواستی

از اجل این قوم بی پرواستی

استوار از «نحن نزلنا»ستی

ترجمہ

یہ قوم اجل سے بے خوف ہے، کیونکہ اس کا استحکام اس وعدے پر قائم ہے کہ ہم ہی نے یہ ذکر نازل کیا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کے دوام کی ایک اور بنیاد بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ یہ قوم اجل سے اس معنی میں بے پروا ہے کہ اس کی اصل حیات کسی محض فانی انسانی تدبیر پر قائم نہیں بلکہ اس ربانی امانت پر قائم ہے جس کے بارے میں خدا نے خود فرمایا: “ہم ہی نے ذکر کو نازل کیا ہے”۔ یہاں “نحن نزلنا” قرآن کے اس الٰہی اعلان کی طرف اشارہ ہے جس میں وحی کی حفاظت کا وعدہ موجود ہے۔ اقبال کے نزدیک جب امت کی بنیاد محفوظ ذکر پر ہو تو اس میں ایک ایسی پائیداری پیدا ہوتی ہے جو عام قوموں کو میسر نہیں۔ شعر کے مطابق:

اجل سے بے پروائی کا مطلب:

یہاں بے پروائی سے مراد غرور یا لاابالی پن نہیں ہے۔ اقبال یہ نہیں کہہ رہے کہ امت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہو سکتا یا اس پر زوال کے ادوار نہیں آ سکتے۔ وہ یہ بتا رہے ہیں کہ اس کی اصل حقیقت ایسی بنیاد پر قائم ہے جسے محض زمانہ مٹا نہیں سکتا۔ اس لیے اسے ایسی مایوسی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے جو عام فانی چیزوں کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔

گویا امت کا اعتماد اپنی عددی قوت پر نہیں بلکہ اس سچائی پر ہے کہ اس کے پاس وہ ذکر موجود ہے جسے خدا نے خود اتارا اور محفوظ رکھا۔ یہی نسبت اسے تاریخ کے اندھیروں میں بھی امید دیتی ہے۔

«نحن نزلنا» کی بنیاد:

“نحن نزلنا” اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن اور ذکر کی اصل حفاظت انسانوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑی گئی، بلکہ اس کے پیچھے ربانی ضمانت موجود ہے۔ اقبال کے نزدیک امت کی بقا کا راز یہی ہے کہ اس کا مرکزِ حیات محفوظ وحی ہے۔ قومیں اپنے افکار گنوا دیتی ہیں، تہذیبیں اپنی کتابیں اور اپنی اصل روایت کھو دیتی ہیں، مگر امتِ مسلمہ کے پاس وہ زندہ مرکز موجود رہتا ہے جس سے وہ بار بار اپنی حیات تازہ کر سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اسلام میں اصل قوت کسی فرد، خاندان یا سلطنت میں نہیں بلکہ کتابِ الٰہی میں ہے۔ جب تک امت اس ذکر سے مربوط رہتی ہے، اس کی روح مرنے نہیں پاتی۔

استواری کا سرچشمہ:

استحکام بیرونی ڈھانچوں سے بھی آتا ہے، مگر وہ سب عارضی ہو سکتے ہیں۔ اقبال یہ بتاتے ہیں کہ امت کی اصل استواری اس وحی سے ہے جو اس کے لیے معیار بھی ہے، اصلاح کا ذریعہ بھی اور تجدید کا سرچشمہ بھی۔ جب کوئی قوم اپنے اصل معیار سے محروم ہو جائے تو اس کا توازن ٹوٹ جاتا ہے، مگر امتِ مسلمہ کا اصل معیار محفوظ ہے۔ اسی لیے اس کے لیے واپسی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔

اس استواری کا مطلب یہ نہیں کہ امت خود بخود درست حالت میں رہے گی، بلکہ یہ ہے کہ اس کے پاس اصلاح کی ایک ناقابلِ فنا بنیاد موجود ہے۔ وہ اگر بیدار ہونا چاہے تو اس کا اصل نور بجھا ہوا نہیں ملتا۔

تاریخی امید کی دلیل:

اقبال مسلمانوں کو یہ احساس دینا چاہتے ہیں کہ تاریخ کی شکستیں حتمی نہیں ہیں۔ اگر کوئی قوم اپنی اصل کتاب، اپنا اخلاقی پیمانہ اور اپنا زندہ ذکر محفوظ پائے تو وہ بکھرنے کے باوجود پھر سے جمع ہو سکتی ہے۔ امت کے لیے یہ امید محض جذباتی تسلی نہیں بلکہ ایک دینی حقیقت ہے۔

اسی لیے “بی پرواستی” کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ امت کو موت کے خوف، ماضی کے صدمے اور مستقبل کی تاریکی سے مغلوب نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے پاس اپنے رب کے وعدے سے جڑی ہوئی دلیلِ حیات موجود ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج امت کی کمزوری کا ایک سبب یہ ہے کہ وہ اپنے محفوظ مرکز کو چھوڑ کر ثانوی چیزوں میں نجات ڈھونڈتی ہے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر امت کو پھر سے اعتماد، توازن اور دوام کا شعور چاہیے تو اسے قرآن کے ساتھ اپنا تعلق محض تلاوت تک محدود نہیں بلکہ فکری، اخلاقی اور اجتماعی سطح پر زندہ کرنا ہوگا۔

جب قوم اپنے استحکام کو خدا کے ذکر سے وابستہ سمجھے گی تو وہ وقتی بحرانوں سے کم ٹوٹے گی، اور اپنے اندر نئی قوت پیدا کرنے کے قابل ہوگی۔

مثال

جیسے ایک درخت اگر اپنی جڑ سے مضبوطی سے جڑا ہو تو آندھی اس کی شاخیں جھکا سکتی ہے مگر اسے مکمل طور پر اکھاڑنا آسان نہیں ہوتا۔ امتِ مسلمہ کی اصل جڑ وہ ذکر ہے جس کی حفاظت خدا نے اپنے ذمہ لی ہے؛ اسی لیے اس کے لیے تجدید اور بقا کا امکان ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں امتِ مسلمہ کی بے خوفی کو اس ربانی بنیاد سے جوڑتے ہیں جس پر اس کی حیات قائم ہے۔ چونکہ اس کا مرکز محفوظ ذکرِ الٰہی ہے، اس لیے اس کے اندر دوام، تجدید اور واپسی کی قوت موجود رہتی ہے۔ یہی اس کی امید بھی ہے اور اس کی ذمہ داری بھی۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button