رموز بے خودی

قوت قلب و جگر گردد نبی

قوت قلب و جگر گردد نبی

از خدا محبوب تر گردد نبی

ترجمہ

نبی دل اور جگر کی قوت بن جاتا ہے، اور اللہ کی محبت کے تابع ہو کر باقی تمام محبوبات سے بڑھ کر محبوب ہو جاتا ہے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مومن کے تعلق کی اندرونی کیفیت بیان کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک رسالت صرف ایک خارجی عقیدہ یا تاریخی خبر نہیں، بلکہ ایسی نسبت ہے جو دل کو قوت، باطن کو جرات، اور زندگی کو نئی مرکزیت عطا کرتی ہے۔ اسی لیے شاعر کہتا ہے کہ نبی مومن کے لیے قوتِ قلب و جگر بھی بنتا ہے اور خدا کے بعد سب سے بڑھ کر محبوب بھی۔ شعر کے مطابق:

قوتِ قلب و جگر کا مفہوم:

دل سے مراد محبت، یقین اور باطنی سکون ہے، جبکہ جگر ہمت، برداشت اور جرأت کی علامت ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ہم سمجھیں: نبی کی سچی معرفت صرف ذہنی معلومات نہیں دیتی بلکہ انسان کے اندر نئی قوت پیدا کرتی ہے۔ جب آدمی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ، صبر، شجاعت، رحم اور توحیدی استقامت سے وابستہ ہوتا ہے تو اس کے دل کا خوف کم ہوتا ہے اور اس کی ہمت بڑھتی ہے۔

گویا نبوی نسبت مومن کے باطن میں ایک ایسا سہارا پیدا کرتی ہے جو مشکل وقت میں اسے ٹوٹنے نہیں دیتا۔

محبت کا درست معنی:

دوسرے مصرعے کا ظاہر اگر تنہا پڑھا جائے تو غلط فہمی ہو سکتی ہے، اس لیے اقبال کے پورے دینی مزاج کے مطابق اسے سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے نزدیک نبی کی محبت اللہ کے مقابلے میں نہیں، بلکہ اللہ ہی کی محبت کے حکم اور اس کی رضا کے تابع ہے۔ یعنی مومن کے دل میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اس درجے تک پہنچتی ہے کہ وہ باقی سب دنیوی محبوبات، مفادات اور وابستگیوں سے بلند ہو جاتی ہے، کیونکہ یہی محبت اطاعت اور ہدایت کا راستہ بنتی ہے۔

یہ دراصل محبت کی ترتیب ہے: خدا مرکز ہے، اور اسی مرکز کی وجہ سے رسول کی محبت باقی ساری محبتوں پر غالب ہو جاتی ہے۔

محبت اور اطاعت کا ربط:

اقبال کے ہاں محبت محض جذباتی شیفتگی نہیں۔ اگر نبی محبوب ہے تو اس کی سنت، اس کی حکمت، اس کی اخلاقی ترتیب اور اس کے لائے ہوئے دین کو بھی انسان کی زندگی میں مرکزی جگہ ملنی چاہیے۔ ایسی محبت ہی قوتِ قلب بنتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو اپنے نفس، اپنے خوف اور اپنے بکھراؤ سے نکال کر ایک بلند نمونے کے تابع کرتی ہے۔

محبت اگر اطاعت سے خالی ہو تو جلد نعرہ بن جاتی ہے، اور اطاعت اگر محبت سے خالی ہو تو خشک بوجھ۔ رسالت ان دونوں کو یکجا کرتی ہے۔

فرد سے ملت تک:

فردی سطح پر نبی کی محبت دل کو مضبوط کرتی ہے، مگر اجتماعی سطح پر یہی محبت امت کو ایک مرکز دیتی ہے۔ جب مختلف مزاج، علاقوں اور نسلوں کے لوگ ایک ہی نبی کی نسبت سے محبت رکھتے ہیں تو ان کے دلوں کے درمیان وہ ربط پیدا ہوتا ہے جو محض سیاسی نعروں سے نہیں آتا۔

اس لیے اقبال کے نزدیک نبوی محبت صرف نجی کیفیت نہیں بلکہ امت کی روحانی وحدت کی بنیاد بھی ہے۔

آج کے لیے رہنمائی:

آج بہت سے لوگوں کے دل میں محبتیں تو بہت ہیں، مگر مرکز نہیں۔ کوئی شہرت سے بندھا ہے، کوئی قومیت سے، کوئی شخصیت پرستی سے، کوئی محض فائدے سے۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ جب دل میں نبوی محبت صحیح ترتیب سے جاگتی ہے تو انسان کی محبتیں بھی پاک ہوتی ہیں اور اس کی جرأت بھی بلند ہوتی ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مومن کو کمزور جذبات میں نہیں، بلکہ روشن وفاداری اور باوقار قوت میں بدلتی ہے۔

مثال

ایک نوجوان اگر کسی مشہور شخصیت سے متاثر ہو تو اس کی چال، لباس یا زبان بدل سکتی ہے۔ مگر اگر وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سچے اسوہ سے وابستہ ہو تو اس کی نیت، اخلاق، ہمت اور زندگی کی ترجیحات بدلنے لگتی ہیں۔ یہی اصل قوت ہے۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت مومن کے لیے دل و جگر کی قوت ہے۔ یہ محبت اللہ کی محبت کے تابع ہو کر باقی سب دنیوی محبوبات پر غالب آتی ہے اور فرد و ملت دونوں کو باطنی طاقت عطا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button