رموز بے خودی

نور چشم رحمة للعالمین

نور چشم رحمة للعالمین

آن امام اولین و آخرین

ترجمہ

وہ رحمة للعالمین، یعنی اولین و آخرین کے امام کی آنکھوں کا نور ہیں۔

تشریح

اس شعر میں اقبال حضرت فاطمہ الزہراء کے مقام کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت سے بیان کرتے ہیں۔ “نورِ چشم” محض محبت کا عام اظہار نہیں، بلکہ دل کے سب سے قریب، سب سے عزیز، اور سب سے روشن حصے کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ وہ رحمة للعالمین کی نورِ چشم ہیں، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی شخصیت نبوی محبت، نبوی تربیت، اور نبوی رضامندی کے خاص دائرے میں پرورش پاتی ہے۔

دوسرے مصرعے میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو “امام اولین و آخرین” کہا گیا ہے۔ اس سے نسبت کی عظمت اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ حضرت فاطمہ الزہراء کی حیثیت صرف ایک باپ کی بیٹی ہونے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ وہ اس ہستی سے وابستہ ہیں جو پوری انسانیت کے لیے رہنما، رحمت، اور معیارِ کمال ہے۔ اقبال اس نسبت کے ذریعے بتاتے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہراء کی نسوانی عظمت کسی مقامی یا خاندانی مرتبے کی نہیں، بلکہ اسلام کی مرکزی روح سے براہ راست جڑی ہوئی ہے۔

نورِ چشم کی تعبیر:

آنکھ کا نور وہ چیز ہے جس کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں۔ اقبال کی یہ تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ حضرت فاطمہ الزہراء حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے محض عزیز نہیں بلکہ انتہائی محبوب اور قلبی قرب کی حامل ہستی ہیں۔

یہ قرب محض جذباتی نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی بھی ہے۔ اسی نسبت سے ان کے مقام میں طہارت، وقار، اور نبوی خلق کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔

رحمة للعالمین سے نسبت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت پوری کائنات کے لیے ہے۔ ایسی ہستی سے نسبت رکھنے والی شخصیت کی عظمت بھی محض گھر کی چار دیواری تک محدود نہیں رہ سکتی۔

حضرت فاطمہ الزہراء اسی رحمت کی گھریلو، نسوانی، اور امومتی تجسیم بن کر سامنے آتی ہیں۔ ان میں نرمی، وقار، اور وفاداری اسی نبوی چشمے سے پھوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

امامِ اولین و آخرین:

یہ لقب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمہ گیر رہبری کو ظاہر کرتا ہے۔ اقبال یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ الزہراء کی شان کسی چھوٹے دائرے کی پیداوار نہیں، بلکہ اس امام سے وابستگی کا نتیجہ ہے جس کی امامت زمان و مکان سے بلند ہے۔

یوں حضرت فاطمہ الزہراء کی عظمت میں آفاقیت کا پہلو بھی شامل ہو جاتا ہے۔ ان کا نمونہ صرف ایک گھرانے کے لیے نہیں، پوری امت کی خواتین کے لیے رہنما بن جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج رشتوں کو اکثر محض سماجی یا جذباتی تعلق سمجھ لیا جاتا ہے، مگر اقبال ہمیں سکھاتے ہیں کہ بعض نسبتیں تربیت، اخلاق، اور شناخت کے بڑے سرچشمے بن جاتی ہیں۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حضرت فاطمہ الزہراء کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ان کے نبوی قرب کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہی قرب ان کے اسوہ کو روشنی، وقار، اور امت کے لیے رہنمائی عطا کرتا ہے۔

مثال

جیسے کسی چراغ کی شمع اگر اصل آفتاب سے روشنی لے تو اس کا نور محدود نہیں رہتا، ویسے ہی حضرت فاطمہ الزہراء کی شخصیت نبوی نسبت سے غیر معمولی روشنی حاصل کرتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں حضرت فاطمہ الزہراء کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نورِ چشم قرار دے کر ان کی عظمت کو نبوی رحمت اور آفاقی امامت کے ساتھ وابستہ کرتے ہیں۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button