رموز بے خودی

ای که از تأثیر افیون خفته ئی

ای که از تأثیر افیون خفته ئی

عالم اسباب را دون گفته ئی

ترجمہ

اے وہ شخص جو افیون کے اثر سے سو گیا ہے، تو نے عالمِ اسباب کو حقیر کہہ دیا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال ایک خطرناک مذہبی و نفسیاتی بیماری پر ضرب لگاتے ہیں: وہ ذہنیت جو دنیا کے عالمِ اسباب کو حقیر سمجھ کر اس سے کنارہ کش ہو جاتی ہے۔ “افیون” یہاں محض ایک نشہ آور شے نہیں بلکہ اس فکری اور روحانی بے حسی کا استعارہ ہے جو آدمی کو عمل سے سلا دیتی ہے۔ یہ افیون کبھی غلط تقدیر پرستی کی شکل میں آتی ہے، کبھی بے جا خانقاہی جمود میں، کبھی آخرت کے نام پر دنیا سے فرار میں، اور کبھی اس خیال میں کہ چونکہ اصل حقیقت روحانی ہے اس لیے اسباب کی دنیا سے مشغول ہونا کمتر کام ہے۔ اقبال اسی نیند کو توڑنا چاہتے ہیں۔

“عالمِ اسباب” سے مراد وہ دنیا ہے جہاں چیزیں قوانین، وسائل، محنت، نسبتوں اور اسباب کے ذریعے سامنے آتی ہیں۔ کھیتی اگانی ہو تو زمین، پانی، بیج اور موسم سے کام لینا پڑتا ہے۔ بیماری کا علاج ہو تو علم، دوا اور تدبیر چاہیے۔ معاشرہ سنوارنا ہو تو تعلیم، نظم، اخلاق، ادارے اور مسلسل عمل درکار ہوتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس دنیا کو “دون” یعنی حقیر کہنا دراصل اپنی ذمہ داری سے فرار ہے۔ جو قوم اسباب کے عالم کو کمتر سمجھتی ہے وہ عملاً دوسروں کی محکوم بن جاتی ہے، کیونکہ دنیا میں غلبہ انھی کو ملتا ہے جو اسباب کے نظام کو سمجھتے اور برتتے ہیں۔

افیون کی حقیقت:

افیون انسان کو وقتی سکون دیتی ہے مگر اس کی قوت، بیداری اور ارادہ سلب کر لیتی ہے۔ اقبال یہی دکھاتے ہیں کہ بعض خیالات بھی افیون بن جاتے ہیں۔ وہ انسان کو یہ احساس دیتے ہیں کہ وہ بہت بلند ہے، مگر حقیقت میں اسے حرکت سے محروم کر دیتے ہیں۔ ایسی بلند خیالی دراصل پست عملی پیدا کرتی ہے۔

اسی لیے اقبال کا اعتراض صرف فکری غلطی پر نہیں، اس کے نتیجے پر بھی ہے۔ اگر ایک قوم افیون زدہ ہو جائے تو وہ دنیا کے چلتے ہوئے نظام سے باہر ہو جاتی ہے، اس کے ہاتھ سے تدبیر نکل جاتی ہے، اور وہ دوسروں کے بنائے ہوئے نقشوں میں جینے لگتی ہے۔

عالمِ اسباب کی قدر:

اقبال کے نزدیک عالمِ اسباب حقیر نہیں، امتحانی اور تعمیری میدان ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں نیت عمل سے ملتی ہے، علم تدبیر بن کر ظاہر ہوتا ہے، اور ایمان مادی دنیا میں اپنی مؤثر صورت پیدا کرتا ہے۔ اگر اسباب کا عالم نہ ہو تو ارادے کی آزمائش بھی نہ ہو، اور خیر کی عملی صورت بھی پیدا نہ ہو۔

یہاں اقبال مادی پرستی کی دعوت نہیں دے رہے۔ وہ صرف اتنا کہہ رہے ہیں کہ اسباب کا نظام اللہ کے بنائے ہوئے نظام کا حصہ ہے۔ اسے حقیر سمجھنا دراصل اسی الٰہی سنت کو کم تر سمجھنا ہے جس کے ذریعے دنیا کا کام چلتا ہے۔

فرار اور ذمہ داری:

بعض لوگ عالمِ اسباب سے دوری کو روحانیت سمجھ لیتے ہیں، مگر اقبال کے نزدیک یہ اکثر ذمہ داری سے فرار ہوتا ہے۔ اگر کسی امت کو عدل، علم، عزت، آزادی اور تہذیبی وقار چاہیے تو اسے اسباب کے میدان میں اترنا ہی ہوگا۔ دعا کے ساتھ دوا بھی، شوق کے ساتھ تدبیر بھی، اور ایمان کے ساتھ صنعت و تنظیم بھی درکار ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کا لہجہ یہاں تند ہے۔ وہ مسلمان کو تسلی نہیں دے رہے، جھنجھوڑ رہے ہیں۔ نیند جتنی گہری ہو، بیداری کی آواز اتنی ہی سخت ہوتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی بعض حلقوں میں یہ خیال ملتا ہے کہ دنیاوی نظام، سائنسی تحقیق، معاشی تنظیم، یا اجتماعی تدبیر جیسے امور گویا کم تر اور غیر روحانی ہیں۔ اقبال اس رویے کو تباہ کن سمجھتے ہیں۔ اگر امت اسباب کے عالم سے کنی کتراتی رہے گی تو اسے وہی لوگ چلا کر دکھائیں گے جو اسباب کی زبان سمجھتے ہیں۔

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بیدار ایمان اسباب کی دنیا سے بھاگتا نہیں، اسے سمجھتا اور اپنے مقصد کے تابع کرتا ہے۔ افیون زدہ مذہبیت بے عملی پیدا کرتی ہے، جبکہ اقبال کی مذہبیت حرکت، نظم اور تعمیری قوت پیدا کرتی ہے۔

مثال

جیسے کوئی مریض دوا کو حقیر سمجھ کر صرف آرزو پر زندہ رہنا چاہے تو شفا سے دور ہو جاتا ہے، ویسے ہی اسباب کے نظام کو حقیر سمجھنے والی قوم عملی قوت سے محروم ہو جاتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں اس افیون زدہ ذہنیت کو للکارتے ہیں جو عالمِ اسباب کو حقیر سمجھتی ہے۔ ان کے نزدیک یہی عالمِ اسباب عمل، ذمہ داری اور ملی قوت کی تعمیر کا اصل میدان ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button