رموز بے خودی

واعظ دستان زن افسانه بند

واعظ دستان زن افسانه بند

معنی او پست و حرف او بلند

ترجمہ

وہ واعظ قصہ تراش اور افسانہ بُننے والا ہے، اس کا معنی پست ہے مگر اس کی آواز اور بات بہت بلند ہے۔

تشریح

اس شعر میں علامہ اقبال اس واعظ پر تنقید کرتے ہیں جس کی خطابت میں شور بہت ہو، قصے بہت ہوں، جذباتی بیانیہ بہت ہو، مگر معنی کی گہرائی، سچائی کی ذمہ داری اور قرآنی بصیرت کم ہو۔ “دستان زن” اور “افسانه بند” دونوں تعبیریں اس شخص کی طرف اشارہ کرتی ہیں جو لوگوں کو کہانیوں، مبالغوں، حکایات اور زبانی تاثیر سے متاثر تو کرتا ہے، مگر ان کے شعور کو بیدار نہیں کرتا۔ اقبال پھر نہایت مختصر اور قاتل تشخیص دیتے ہیں: “معنی او پست و حرف او بلند”۔ شعر کے مطابق:

واعظ کی اصل ذمہ داری:

واعظ کا کام صرف سامعین کو رلانا، گرم کرنا یا حیران کرنا نہیں، بلکہ حق کو واضح کرنا، ضمیر کو جگانا، اور زندگی کو قرآن کے تابع کرنے کی دعوت دینا ہے۔ اگر وعظ معنی سے خالی ہو جائے تو وہ مذہبی تفریح یا جذباتی استعارہ بن جاتا ہے۔ اقبال اسی بگاڑ کو پکڑتے ہیں۔

وہ چاہتے ہیں کہ دعوت کی زبان بلند ہو سکتی ہے، مگر بلند آواز سے پہلے بلند معنی ہونا چاہیے۔ ورنہ لفظ زیادہ اور نور کم رہ جاتا ہے۔

دستان اور افسانہ:

قصہ اور حکایت بذاتِ خود بری چیز نہیں۔ قرآن خود قصص سے عبرت دیتا ہے۔ مگر جب قصہ حقیقت پر غالب آ جائے، جب افسانہ دعوت کی جگہ لے لے، اور جب سامعین کے دل کو صرف وقتی کیفیت ملے مگر بصیرت نہ ملے، تو وعظ اصل کام سے ہٹ جاتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ایسا واعظ سامعین کو حقیقت سے قریب نہیں کرتا، بلکہ بسا اوقات ان کی کمزوری کو خوش نما خوابوں سے ڈھانپ دیتا ہے۔

یعنی افسانہ بند واعظ سننے والے کو بدلنے کے بجائے اسے سن کر مطمئن ہو جانے کا عادی بنا دیتا ہے۔

معنی کا پست ہونا:

“معنی او پست” میں اقبال کی اصل ضرب ہے۔ یعنی بات کے پیچھے سچائی کم ہے، فکر کم ہے، قرآن کی گہرائی کم ہے، انسانی مسئلے کی صحیح تشخیص کم ہے، اور دعوت کی ذمہ داری کم ہے۔ ایسے واعظ کا کلام سننے میں خوبصورت، جذباتی یا متاثر کن ہو سکتا ہے، مگر وہ دل و دماغ کو نئی جہت نہیں دیتا۔

پست معنی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ وہ امت کو خود فریبی میں مبتلا رکھتا ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ دین سن لیا، مگر دراصل حقیقت سے ابھی دور ہیں۔

حرف کا بلند ہونا:

حرف کا بلند ہونا یہاں آواز کی بلندی، خطابت کی قوت، الفاظ کی گونج، یا مجلس پر اثر قائم کرنے کی صلاحیت کا استعارہ ہے۔ اقبال اسے یکسر رد نہیں کرتے، مگر تنبیہ کرتے ہیں کہ اگر یہ سب معنی کے تابع نہ ہوں تو یہ حسن کے بجائے خطرہ بن جاتا ہے۔ اونچی آواز پست معنی کو بڑا نہیں بنا دیتی۔

گویا تقریر کی بلندی اور فکر کی بلندی دو الگ چیزیں ہیں۔ اقبال مسلمانوں کو اس فرق کو سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں۔

امت کے لیے پیغام:

ایک ایسی امت جو پہلے ہی رسوم، افسانوی مذہب اور غیر قرآنی عادتوں کی قید میں ہو، اسے اگر مزید افسانہ بند وعظ ملے تو اس کی حالت اور خراب ہو جاتی ہے۔ اسے ایسی دعوت چاہیے جو اسے حقیقت سے جوڑے، عمل پر لائے، اور قرآن کے زندہ مرکز کی طرف پلٹائے۔

اقبال اسی لیے وعظ کے اندر فکری وقار، معنوی گہرائی اور قرآنی بنیاد کی طرف بلاتے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی ہم ایسی مذہبی زبان بہت دیکھتے ہیں جس میں شور زیادہ، کلپس زیادہ، جذبات زیادہ، لیکن فکری بنیاد کم ہوتی ہے۔ اقبال کا یہ شعر ایک پیمانہ دیتا ہے: صرف یہ نہ دیکھو کہ کون زیادہ بولتا ہے، یہ دیکھو کہ اس کے معنی کتنے بلند ہیں۔

امت اگر واقعی سنبھلنا چاہتی ہے تو اسے افسانہ بند مذہبی خطابت کے بجائے ایسے کلام کی ضرورت ہے جو قرآن سے اٹھے، عقل کو روشن کرے، اور دل کو عمل کی طرف لے جائے۔

مثال

جیسے میٹھے مگر بے غذائیت کھانے انسان کو وقتی لطف تو دیتے ہیں مگر طاقت نہیں دیتے، ویسے ہی پست معنی والا بلند وعظ دل کو وقتی کیف تو دے سکتا ہے مگر زندگی کو قوت نہیں دیتا۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں ایسے واعظ پر تنقید کرتے ہیں جو قصوں اور افسانوں سے مجلس گرم کرے مگر اس کی بات کا معنی پست ہو۔ امت کے لیے اصل ضرورت بلند لفظ نہیں، بلند معنی اور قرآنی بصیرت ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button