ساخت آن صنعت گر فرهاد زاد
ساخت آن صنعت گر فرهاد زاد
مسجدی از حکم سلطان مراد
ترجمہ
اس فرہاد صفت صنعت گر نے سلطان مراد کے حکم سے ایک مسجد تعمیر کی۔
تشریح
یہاں اقبال حکایت کا دائرہ وسیع کرتے ہیں۔ اب صرف ایک ہنرمند نہیں، بلکہ ہنر اور اقتدار کا تعلق سامنے آتا ہے۔ معمار نے مسجد بنائی ہے، اور وہ بھی سلطان کے حکم سے۔ یعنی ایک طرف سلطنت کی قوت ہے، دوسری طرف ایک کاریگر کی صلاحیت۔ اقبال اس نسبت میں یہ دکھاتے ہیں کہ اجتماعی زندگی میں بڑے کام اکثر حکم اور ہنر کے ملاپ سے وجود میں آتے ہیں، مگر اس ملاپ کی اخلاقی صحت ضروری ہے۔ شعر کے مطابق:
فرہاد زاد کا استعارہ:
“فرہاد زاد” کہنا صرف تعریف نہیں، ایک تہذیبی استعارہ ہے۔ فرہاد محبت، محنت اور سنگ تراشی کی غیر معمولی قوت کی علامت ہے۔ اقبال معمار کو اس استعارے سے جوڑ کر بتاتے ہیں کہ یہ عام درجے کا کاریگر نہیں بلکہ ایسا فنکار ہے جس کے اندر تخلیقی شدت اور محنت کی وقعت موجود ہے۔
یعنی مسجد محض اینٹ اور پتھر سے نہیں، ایک زندہ ہنر سے بنی ہے۔
مسجد کی معنویت:
مسجد اسلامی معاشرے میں صرف عبادت گاہ نہیں، مرکزِ اجتماع، مرکزِ تعلیم اور مرکزِ اخلاق بھی ہے۔ اس لیے مسجد بنانا دراصل ایک روحانی اور تہذیبی خدمت ہے۔ معمار کا کام یہاں زیادہ مقدس ہو جاتا ہے، کیونکہ وہ ایسی جگہ کی تعمیر کر رہا ہے جہاں بندہ اور خدا کا تعلق تازہ ہوگا، جہاں جماعت پیدا ہوگی، اور جہاں امت کو اپنی وحدت کا شعور ملے گا۔
اس پہلو سے دیکھیں تو ہنر مند کا مقام اور بلند ہو جاتا ہے۔
سلطان کا حکم اور کاریگر کا عمل:
حکم سلطان کا ہے، مگر تعمیر کاریگر کی ہے۔ اقبال اس سادہ حقیقت میں ایک بڑی اخلاقی ترتیب دکھاتے ہیں: اقتدار ارادہ دے سکتا ہے، مگر وجود میں لانے والا ہاتھ اکثر کسی اور کا ہوتا ہے۔ جو بادشاہ اس فرق کو بھول جائے، وہ خود پسندی میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور جو معمار اپنی خدمت کو محض مزدوری سمجھے، وہ اپنے کام کی تہذیبی عظمت کم کر دیتا ہے۔
درست توازن یہ ہے کہ حکم اور عمل دونوں اپنی حد پہچانیں۔
اسلامی مساوات کا دوسرا پہلو:
یہ شعر بتاتا ہے کہ ایک مسجد جیسا عظیم کام بھی دراصل اجتماعی تعاون کا نتیجہ ہے۔ بادشاہ، معمار، مزدور، سامان لانے والے، اور بعد میں وہاں نماز پڑھنے والی جماعت، سب اس حقیقت میں شریک ہوتے ہیں۔ اسلامی مساوات یہی ہے کہ کسی ایک فریق کو مطلق عظمت نہ دی جائے اور کسی دوسرے کے کردار کو مٹایا نہ جائے۔
یہاں ہنر مند ریاست کا تابع ہوتے ہوئے بھی روحانی خدمت کا شریک اور باوقار فرد ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج بھی ادارے، حکومتیں اور بڑے سرپرست منصوبے شروع کرتے ہیں، مگر اصل قدر تب بنتی ہے جب کام کرنے والوں کا احترام محفوظ رہے۔ کوئی بھی مقدس یا عوامی منصوبہ اس وقت تک اخلاقی نہیں ہو سکتا جب تک اس کے پیچھے کام کرنے والے انسانوں کی عزت برقرار نہ ہو۔ اقبال اسی ابتدا میں آنے والے ظلم کے پس منظر کو تیار کرتے ہیں۔
یعنی عظیم عمارت کی عظمت صرف اس کے گنبد میں نہیں، ان ہاتھوں کی حرمت میں بھی ہے جنہوں نے اسے کھڑا کیا۔
مثال
کسی یونیورسٹی یا مسجد کے منصوبے کا کریڈٹ اکثر بڑے عہدے دار لے جاتے ہیں، مگر اگر معمار، انجینئر اور کارکن کی عزت نہ رکھی جائے تو عمارت کھڑی ہونے کے باوجود انصاف کی بنیاد کمزور رہتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال دکھاتے ہیں کہ مسجد کی تعمیر سلطان کے حکم اور معمار کے ہنر کے اشتراک سے ہوئی۔ اسلامی مساوات کا تقاضا یہ ہے کہ اقتدار کے ساتھ ساتھ عمل کرنے والے انسان کی حرمت بھی پوری طرح تسلیم کی جائے۔