دعوی او را دلیل استیم ما
دعوی او را دلیل استیم ما
از براهین خلیل استیم ما
ترجمہ
ہم اس کے دعوے کی دلیل ہیں، اور ہم خلیل کے دلائل میں سے ہیں۔
تشریح
یہ شعر ملتِ اسلامیہ کی ذمہ داری کو بے حد بلند مقام پر لے جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہم بیت الحرم کے دعوے کی دلیل ہیں، اور ہم خلیل اللہ کے دلائل میں سے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مرکز صرف اپنے وجود سے نہیں بولتا، اس کی صداقت اس کے ماننے والوں کی زندگیوں میں بھی ظاہر ہونی چاہیے۔ اگر بیت الحرم ملت کا راز، راز دار، سوز اور ساز ہے، تو پھر امت کی سیرت، اخلاق، عبادت، وحدت اور کردار بھی اس مرکز کی گواہی بننے چاہیے۔ اقبال امت کو محض مرکز کی طرف دیکھنے والی جماعت نہیں، بلکہ اس مرکز کے معنی کو دنیا میں ثابت کرنے والی جماعت بنانا چاہتے ہیں۔
“دعوی” سے مراد وہ توحیدی، ابراہیمی اور محمدی دعویٰ ہے جو بیت الحرم اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے۔ “دلیل” سے مراد وہ زندہ شہادت ہے جو لفظوں سے نہیں، وجود سے قائم ہوتی ہے۔ اقبال گویا مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں کہ اگر تمہاری زندگی، تمہاری وحدت، تمہاری عبادت اور تمہارا اخلاق اس مرکز کے مطابق نہیں، تو پھر دعویٰ صرف زبان میں رہ جائے گا۔ اور اگر تم صحیح طرح جیو، تو تم خود دلیل بن جاؤ گے۔ یہ شعر ملت کی عظمت بھی ہے اور اس کی سخت ترین ذمہ داری بھی۔
دعویٰ اور دلیل کا ربط:
ہر بڑا دعویٰ دلیل چاہتا ہے۔ بیت الحرم توحید، مرکزیت، وحدت اور ابراہیمی تسلیم کا دعویٰ رکھتا ہے۔ اس دعوے کی سب سے بڑی دلیل وہ لوگ ہیں جو اس کے گرد اپنی زندگی مرتب کرتے ہیں۔ اگر ان کی زندگیوں میں تفرقہ، بے اخلاقی، خود غرضی اور بے سمتی ہو تو دعویٰ کمزور نظر آنے لگتا ہے۔ اقبال یہی ربط قائم کرتے ہیں کہ مرکز کی سچائی صرف نظری نہیں، عملی شہادت بھی مانگتی ہے۔
یہاں امت کی حیثیت ایک زندہ آیت کی سی ہو جاتی ہے۔ وہ کتاب کے حروف کی طرح نہیں، چلتی پھرتی دلیل کی طرح دنیا کے سامنے آتی ہے۔ اقبال کے نزدیک مسلم شخصیت کا وقار اسی میں ہے کہ وہ اپنے مرکز کے معنی کو اپنے وجود سے سچا ثابت کرے۔
خلیل کے دلائل میں سے ہونا:
“از براهین خلیل استیم ما” کے اندر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پوری روحانی وراثت موجود ہے۔ خلیل اللہ کے دلائل محض عقلی استدلال نہیں، بت شکنی، توحید، تسلیم، قربانی، ہجرت اور خدا کے ساتھ زندہ تعلق کی شہادت بھی ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ ہم انہی براهین میں سے ہیں۔ یعنی مسلمان کا وجود خود ابراہیمی پیغام کے زندہ تسلسل کی دلیل ہونا چاہیے۔
یہ رشتہ امت کو محض تاریخی فخر نہیں دیتا، بلکہ اس کے کندھوں پر بار بھی رکھتا ہے۔ اگر ہم خلیل کے دلائل میں سے ہیں، تو پھر ہماری سیرت میں بھی توحید کی غیرت، آزمائش میں ثبات، اور مرکزِ حق سے وفاداری ہونی چاہیے۔ ورنہ نسبت باقی رہ کر بھی دلیل کمزور پڑ جاتی ہے۔
امت بطور شہادت:
یہ شعر بتاتا ہے کہ امت کی اصل عظمت صرف اپنی عبادت کرنے میں نہیں، بلکہ دنیا کے لیے شہادت بننے میں ہے۔ شہادت کا مطلب یہ نہیں کہ محض زبان سے بات کہی جائے، بلکہ یہ کہ زندگی خود ایک دلیل بن جائے۔ عدل، رحمت، وفاداری، وحدت، حیا، اور مرکزیت کے ساتھ وابستہ زندگی دنیا کو یہ دکھاتی ہے کہ بیت الحرم اور ابراہیمی ورثہ صرف ماضی کی یادگار نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہے۔
یہی وجہ ہے کہ اقبال ملت کے اخلاقی زوال پر اتنے حساس ہیں۔ اگر امت اپنی شہادتی حیثیت کھو دے تو وہ اپنے مرکز کے دعوے کی قوت بھی کمزور کر دیتی ہے۔ اس لیے اس شعر میں دعوت بھی ہے اور محاسبہ بھی۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان اپنے مرکز سے محبت تو بہت کرتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کی زندگی بھی اس محبت کی دلیل ہے؟ اقبال کا یہ شعر ہمیں اسی سوال کے سامنے کھڑا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے مرکز کے دعوے کی دلیل بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ذاتی، خاندانی، تعلیمی، معاشرتی اور اجتماعی زندگی کو ایسا بنانا ہوگا کہ وہ توحید، وحدت اور ابراہیمی وفاداری کا زندہ ثبوت بن جائے۔
یہ شعر امید بھی دیتا ہے، کیونکہ اقبال امت کو حقیر نہیں سمجھتے۔ وہ اسے دلیل کہتے ہیں۔ یعنی اس کے اندر وہ امکان موجود ہے کہ وہ پھر سے شہادتِ حق بن سکتی ہے۔ شرط یہ ہے کہ وہ نسبت کو محض فخر کے لفظ میں نہ رکھے، بلکہ اپنے اخلاق، اپنے ربط اور اپنے کردار میں ابراہیمی برہان کو دوبارہ زندہ کرے۔
مثال
جیسے کسی درخت کی صحت کی سب سے بڑی دلیل اس کے میٹھے پھل ہوتے ہیں، ویسے ہی کسی مرکز کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل اس سے وابستہ لوگوں کی زندہ اور باوقار سیرت ہوتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں امت کو بیت الحرم اور ابراہیمی ورثے کی زندہ دلیل قرار دیتے ہیں۔ مسلمان کی زندگی اگر اپنے مرکز کے معنی کو سچا ثابت کرے تو وہ خود شہادتِ حق بن جاتی ہے۔