دل ز غیر الله مسلمان بر کند
دل ز غیر الله مسلمان بر کند
نعره ی لا قوم بعدی می زند
ترجمہ
مسلمان اپنا دل غیر اللہ سے کھینچ لیتا ہے، اور پکار اٹھتا ہے کہ میرے لیے ایمان سے اوپر کوئی قومی بت باقی نہیں۔
تشریح
علامہ اقبال بخش ۹ کو ایک نہایت بلند توحیدی اور اجتماعی اعلان پر ختم کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مسلمان کی اصل پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے دل کو غیر اللہ کی غلامی سے آزاد کرے، اور پھر نسبی، نسلی، جغرافیائی یا خود ساختہ قومی بتوں سے بلند ہو کر ایک وسیع تر ایمانی وحدت اختیار کرے۔ شعر کے مطابق:
دل کا غیر اللہ سے برکندن:
یہاں بات محض نظری انکار کی نہیں، دل کی وابستگی کے ٹوٹنے کی ہے۔ انسان زبان سے توحید کا اقرار کر سکتا ہے، مگر اگر دل کے اندر اصل محبت، اصل خوف، اصل وفاداری اور اصل جھکاؤ غیر اللہ کے پاس ہو تو توحید ابھی پوری طرح زندہ نہیں ہوئی۔ اقبال کے نزدیک مسلمان کی پہچان یہی ہے کہ وہ دل کے تخت سے ہر جھوٹے مرکز کو اتار دے۔
اس آزادی کے بغیر نہ فرد آزاد ہوتا ہے، نہ امت۔
لا قوم بعدی کا مفہوم:
اس مصرعے کو نسلی یا جغرافیائی قومیت کے انکار کے تناظر میں سمجھنا چاہیے۔ اقبال یہاں یہ نہیں کہتے کہ انسان اپنی زبان، اپنی سرزمین یا اپنے تاریخی پس منظر سے نفرت کرے، بلکہ یہ کہ ان میں سے کوئی چیز اس کی آخری اور اعلیٰ شناخت نہ بن جائے۔ مسلمان جب دل کو غیر اللہ سے آزاد کرتا ہے تو پھر وہ ایسی قومیت کو بھی آخری مرکز نہیں مانتا جو اسے امت سے کاٹ دے۔
یعنی اس کے لیے ایمان کی وحدت نسبی یا سیاسی قومیت سے بلند ہو جاتی ہے۔
توحید اور ملت کا تعلق:
یہ شعر بتاتا ہے کہ امت کی وحدت محض سیاسی منصوبہ نہیں، توحید کا نتیجہ ہے۔ جب دل ایک خدا کی طرف جھکتا ہے تو وہ بہت سے چھوٹے معبودوں، چھوٹی وفاداریوں اور چھوٹے تعصبات سے بھی نجات پانے لگتا ہے۔ اسی سے ملت کا دائرہ وسیع اور زندہ ہوتا ہے۔
اقبال کے نزدیک توحید دل کو آزاد کرتی ہے، اور یہی آزادی امت کو ایک بڑی شناخت عطا کرتی ہے۔
اقبال کی تنقیدِ قومیت:
اقبال جدید قومیت کے اس تصور پر تنقید کرتے ہیں جو انسان کو ایمان کی وسیع نسبت سے کاٹ کر زمین، نسل یا زبان کے محدود دائرے میں بند کر دے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ محدود شناختیں اگر آخری مرکز بن جائیں تو امت کا نبوی شیرازہ کمزور پڑتا ہے۔ اس لیے وہ مسلمان کو پکار کر کہتے ہیں: دل کو غیر اللہ سے پاک کر، اور اپنی اعلیٰ ترین نسبت کو ایمان اور رسالت کے ساتھ وابستہ رکھ۔
یہی وہ اعلان ہے جو رکن دوم: رسالت کے پورے مضمون کو ایک توحیدی نتیجے تک پہنچاتا ہے۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج مسلمان بیک وقت کئی شناختوں میں جیتا ہے: ملک، قوم، زبان، طبقہ، مکتب۔ ان سب کی اپنی جگہ ہو سکتی ہے، مگر اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی نبوی امت سے بلند ہو جائے تو دل میں ایک نیا بت پیدا ہو جاتا ہے۔ اصل آزادی یہ ہے کہ انسان اپنی تمام شناختوں کو توحید اور رسالت کے تابع رکھے۔
تبھی مسلمان کا دل غیر اللہ سے بھی آزاد ہوگا اور اس کی اجتماعی ہستی بھی بکھرے گی نہیں۔
مثال
ایک شخص اپنے خاندان، شہر یا ملک سے محبت کر سکتا ہے، مگر اگر انہی وابستگیوں کے نام پر وہ سچ، انصاف یا ایمانی اخوت کو قربان کر دے تو یہ محبت حد سے بڑھ کر بت بننے لگتی ہے۔ اقبال اسی خطرے سے خبردار کرتے ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق مسلمان کی اصل آزادی یہ ہے کہ وہ دل کو غیر اللہ سے خالی کرے اور اپنی اعلیٰ ترین شناخت کو ایمان اور امت کے ساتھ وابستہ رکھے۔ یہی توحید قومی بتوں کو ان کی حد میں رکھتی ہے اور ملت کی وحدت کو مضبوط کرتی ہے۔