قوم را ربط و نظام از مرکزی
قوم را ربط و نظام از مرکزی
روزگارش را دوام از مرکزی
ترجمہ
قوم کو اس کا ربط اور نظم ایک مرکز سے ملتا ہے، اور اس کے زمانے اور دوام کو بھی ایک مرکز ہی قائم رکھتا ہے۔
تشریح
اس شعر میں اقبال پہلے بیان کیے گئے اصول کو اب صریح اجتماعی زبان میں بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ قوم کا ربط بھی مرکز سے ہے، اس کا نظام بھی مرکز سے ہے، اور اس کے زمانے کا دوام بھی مرکز سے ہے۔ گویا مرکز کے بغیر قوم صرف منتشر افراد کا مجموعہ رہ جاتی ہے، جبکہ مرکز اسے ربط، سمت، ترتیب اور بقا عطا کرتا ہے۔ “ربط” دلوں، شعوروں اور وفاداریوں کے تعلق کا نام ہے، اور “نظام” انھی قوتوں کی مرتب صورت ہے۔ اگر ربط ہو مگر نظام نہ ہو تو قوت بکھر سکتی ہے، اور اگر نظام ہو مگر ربط نہ ہو تو وہ خشک اور عارضی رہ سکتا ہے۔ اقبال ان دونوں کو ایک ہی مرکز کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
دوسرا مصرعہ اس بات کو تاریخ اور زمانے کے دائرے میں لے جاتا ہے۔ قوم صرف ایک لمحے میں نہیں جیتی؛ اس کا ایک “روزگار” ہوتا ہے، یعنی اس کی تاریخی عمر، اس کی تہذیبی سانس، اس کی نسلوں کا تسلسل۔ اقبال فرماتے ہیں کہ اس دوام کی جڑ بھی مرکز میں ہے۔ وہ قومیں جن کا مرکز بکھر جائے یا جن کا مرکز محض رسمی رہ جائے، ان کے اندر کچھ عرصہ نظم باقی رہ سکتا ہے مگر ان کا تہذیبی استمرار کمزور ہو جاتا ہے۔ مرکز قوم کو صرف اکٹھا نہیں کرتا، اسے وقت کے اندر قائم بھی رکھتا ہے۔
ربط کا سرچشمہ:
قوم کے افراد مختلف زبانیں، علاقوں، نفسیات اور حالات رکھتے ہیں، اس لیے ان کے درمیان حقیقی ربط محض قربتِ مکانی سے پیدا نہیں ہوتا۔ اقبال کے نزدیک وہ ربط کسی اعلیٰ مرکز سے پیدا ہوتا ہے جو ان سب کو ایک بڑے معنی میں شریک کر دے۔ یہ مرکز انہیں صرف یہ نہیں بتاتا کہ وہ کون ہیں، بلکہ یہ بھی بتاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کیوں جڑے ہیں۔ ربط کا اصل حسن یہی ہے کہ وہ فرد کو تنہا نہیں چھوڑتا اور جماعت کو بے روح نہیں ہونے دیتا۔
یہ ربط اگر کمزور ہو جائے تو قوم کے افراد ایک ہی سرحد میں رہ کر بھی اجنبی ہو سکتے ہیں۔ اور اگر مضبوط ہو تو مختلف زمینوں میں رہ کر بھی ایک ہی ملی شعور کے حامل بن سکتے ہیں۔ اقبال اسی گہرے ربط کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔
نظام کی ضرورت:
نظام ربط کی مرتب صورت ہے۔ صرف جذبات، دعوے یا وقتی اتحاد کافی نہیں ہوتے۔ انہیں عبادت، تہذیب، عادت، سمت، قانون، وفاداری اور شعور کی شکل میں ڈھلنا ہوتا ہے۔ اقبال یہاں یہ بتا رہے ہیں کہ اگر مرکز سچا ہو تو وہ ربط کو نظام میں بدل دیتا ہے۔ قوم کے منتشر عناصر ایک ترتیب کے تابع ہونے لگتے ہیں، اور یہی ترتیب اس کی طاقت بنتی ہے۔
یہ نظام جبر سے بھی قائم کیا جا سکتا ہے، مگر وہ دیرپا نہیں ہوتا۔ اقبال کا مطلوب نظام اندرونی قبولیت اور قلبی مرکزیت سے پیدا ہوتا ہے۔ ایسا نظام قوم کی روح کے خلاف نہیں جاتا بلکہ اس کی پوشیدہ قوتوں کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اسے محض حکومتی انتظام کی سطح پر نہیں رکھتے۔
دوامِ روزگار:
دوام سے مراد صرف زندہ رہ جانا نہیں بلکہ زمانے کے اندر اپنی اصل کے ساتھ قائم رہنا ہے۔ بہت سی قومیں ظاہراً باقی رہتی ہیں مگر اپنی روح کھو دیتی ہیں۔ اقبال کے نزدیک اصل دوام وہ ہے جس میں قوم کا ربط، اس کا اخلاق، اس کی عبادت، اس کی تہذیب اور اس کی خودی مسلسل زندہ رہے۔ یہ دوام کسی ایک نسل کے جذبے سے ممکن نہیں، اس کے لیے ایسا مرکز چاہیے جو نسل در نسل ایک ہی ملی سانس کو جاری رکھ سکے۔
اسی لیے یہ شعر مرکز کی اہمیت کو عارضی نہیں بلکہ تاریخی بناتا ہے۔ قوم اگر صرف وقتی جوش پر قائم ہو تو جلد تھک سکتی ہے۔ مگر اگر اس کا مرکز زندہ ہو تو اس کی نئی نسلیں بھی اسی ربط سے قوت لے سکتی ہیں۔ یہی ملت کی تاریخ کو مسلسل بناتا ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہماری بہت سی اجتماعی کمزوریاں اسی لیے ہیں کہ ہم ربط اور نظام کو الگ الگ دیکھتے ہیں۔ کبھی جذبات ہوتے ہیں مگر نظم نہیں، کبھی نظم ہوتا ہے مگر دل نہیں۔ اقبال اس شعر میں سکھاتے ہیں کہ دونوں کی جڑ ایک سچے مرکز میں ہے۔ اگر مرکز زندہ ہو تو دل بھی جڑتے ہیں اور ادارے بھی معنی پاتے ہیں۔ اگر مرکز کمزور ہو تو نہ ربط مضبوط رہتا ہے نہ نظام دیرپا ہوتا ہے۔
یہ شعر ہمیں امت کی بقا کے سوال پر بھی غور کراتا ہے۔ ہماری تہذیبی عمر اور ہماری ملی توانائی کا راز محض جدید تنظیم یا تاریخی نوستالجیا میں نہیں، بلکہ ایسے مرکز میں ہے جو ہمارے دلوں، عبادت، شعور اور سمت کو جوڑے۔ اقبال کا پورا استدلال اب اسی بات کو بیت الحرام کے ساتھ متعین کرنے جا رہا ہے۔
مثال
جیسے کسی مضبوط درخت کی شاخیں الگ الگ سمتوں میں پھیلتی ہیں مگر سب ایک ہی تنے اور جڑ سے ربط پا کر قائم رہتی ہیں، ویسے ہی قوم کا ربط، نظام اور دوام ایک مرکز سے قائم رہتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ قوم کا باہمی ربط، اس کی منظم صورت اور اس کی تاریخی بقا سب ایک مرکز کے ساتھ وابستہ ہیں۔ مرکز کے بغیر ملت منتشر اور ناپائیدار ہو سکتی ہے۔