رموز بے خودی

شوکت شام و فر بغداد رفت

شوکت شام و فر بغداد رفت

سطوت غرناطه هم از یاد رفت

ترجمہ

شام کی شوکت مٹ گئی، بغداد کا جاہ و جلال بھی جاتا رہا، اور غرناطہ کی عظمت بھی آخرکار فراموش ہو گئی۔

تشریح

اقبال اس شعر میں دنیاوی سلطنتوں اور تمدنی جلال کی فانی حیثیت کو یاد دلاتے ہیں۔ شام، بغداد اور غرناطہ اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کی سیاسی و تمدنی عظمتوں کی علامت ہیں، مگر اقبال کہتے ہیں کہ یہ سب وقت کے ساتھ چلی گئیں یا بھلا دی گئیں۔ اس کے مقابلے میں حسینیت کی حرارت باقی رہی۔ مقصد یہ دکھانا ہے کہ اصل بقا جاہ و جلال میں نہیں، حق کے ساتھ وفا میں ہے۔ شعر کے مطابق:

شوکتِ شام:

شام یہاں فقط جغرافیہ نہیں، اقتدار، سیاست اور سلطنت کا استعارہ بھی ہے۔ اس کی شوکت ایک وقت میں غالب تھی، مگر وہ پائیدار نہ رہی۔ اقبال اس سے بتاتے ہیں کہ جبر کی بنیاد پر کھڑا ہوا یا محض دنیاوی نظم کے زور پر قائم رہنے والا جلال دائمی نہیں ہوتا۔

جو حق کے بغیر بلند ہو، وہ وقت کے ساتھ نیچے آ ہی جاتا ہے۔

فرِّ بغداد:

بغداد علم، تہذیب، خلافت اور تمدنی مرکزیت کی علامت بھی ہے۔ اقبال اس کے زوال کا ذکر کر کے دکھاتے ہیں کہ صرف ثقافتی شکوہ، علمی عظمت یا سیاسی مرکزیت بھی ابدی نہیں۔ جب روحانی حرارت کمزور پڑ جائے تو بڑے سے بڑا تمدنی چراغ بھی مدھم ہو سکتا ہے۔

اس لیے تمدن کا حسن بھی حق کی روح سے مسلسل غذا مانگتا ہے۔

سطوتِ غرناطه:

غرناطہ اسلامی اسپین کی تہذیبی، جمالیاتی اور سیاسی رفعت کی یاد دلاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس کی سطوت بھی یاد سے محو ہو گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی کوئی قدر نہ تھی، بلکہ یہ کہ دنیاوی عظمتیں، چاہے کتنی بھی دل کش ہوں، اگر ان کی جڑیں ابدی روح سے نہ جڑی رہیں تو وقت انہیں تاریخ کے صفحات میں دبا دیتا ہے۔

یاد وہی رہتی ہے جو حق کی خدمت میں ابدی معنی پیدا کرے۔

حسینیت کی بقا:

یہ شعر دراصل ایک تقابل ہے: سلطنتیں مٹتی ہیں، مگر حسینی حقیقت باقی رہتی ہے۔ شام، بغداد اور غرناطہ کے نام اپنی جگہ عظمت رکھتے ہیں، مگر ان کی شان دنیاوی اور تاریخی تھی؛ حسینیت کی شان روحانی اور ابدی ہے۔ اس لیے اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ امت کا اصل سرمایہ قلعے، دارالحکومت اور محلات نہیں بلکہ وہ روح ہے جو کربلا سے ملی۔

جو سرمایہ دل میں رہے، وہ شہر کے زوال سے زائل نہیں ہوتا۔

آج کے لیے سبق:

آج بھی قومیں صرف انفراسٹرکچر، شان، طاقت، شہرت اور ادارہ جاتی جلال پر فخر کرتی ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ یہ سب فانی ہیں۔ اگر ان کے پیچھے حق، عدل، حریت اور قربانی کا باطن نہ ہو تو ان کی چمک دیرپا نہیں ہوتی۔

اسلامی خودی کو اپنی اصل دولت شہروں کی شوکت میں نہیں، حسینی روح میں تلاش کرنی چاہیے۔

مثال

بہت سے بڑے سیاسی نظام اور تہذیبی مراکز تاریخ میں بہت روشن دکھائی دیتے تھے، مگر چند صدیوں بعد ان کا نام بھی کمزور ہو گیا؛ جبکہ سچی قربانی اور اصولی کردار نسلوں تک زندہ رہتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دنیاوی سلطنتوں کی فانی حیثیت یاد دلاتے ہیں۔ شام، بغداد اور غرناطہ کی شوکت مٹ سکتی ہے، مگر حسینی روح اس سے کہیں زیادہ پائیدار اور ابدی سرمایہ ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button