خوگر پیکار پیہم دیدمش
خوگر پیکار پیہم دیدمش
ہم خودی ہم زندگی نامیدمش
ترجمہ
میں نے اسے ہمیشہ مسلسل جدوجہد کا خوگر (عادی) دیکھا ہے۔ اسی لیے میں نے اسے خودی بھی کہا اور زندگی بھی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں خودی کو مسلسل جدوجہد اور زندگی کے ہم معنی قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک خودی کی پہچان اس کی بے پناہ حرکت اور کشمکش ہے۔ شعر کے مطابق:
مسلسل جدوجہد کی خوگر:
خودی کبھی ٹھہرتی نہیں، وہ ہمیشہ مسلسل جدوجہد، مقابلے اور کشمکش میں مصروف رہتی ہے۔ یہی حرکت اور تڑپ اس کی اصل پہچان ہے۔
اقبال کہتے ہیں کہ انہوں نے خودی کو ہمیشہ خود سے مقابلہ کرتے اور آگے بڑھتے دیکھا ہے، کیونکہ اس کا مزاج ہی جہدِ مسلسل ہے۔
خودی اور زندگی کا ایک ہونا:
چونکہ جدوجہد ہی زندگی کی علامت ہے، اسی لیے اقبال خودی کو ہی زندگی کا نام دیتے ہیں۔ جہاں خودی ہے وہاں زندگی ہے، اور جہاں خودی مٹی وہاں زندگی بھی ختم۔
یوں خودی اور زندگی دو الگ چیزیں نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔
حرکت میں زندگی:
ٹھہراؤ موت ہے اور مسلسل جدوجہد زندگی۔ خودی اسی اصول پر قائم ہے کہ وہ کبھی رکنے یا جمود کا شکار ہونے کو قبول نہیں کرتی۔
جدوجہد کا تقاضا:
اقبال انسان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی خودی کو بیدار رکھے اور مسلسل جدوجہد کے ذریعے اپنی زندگی کو بامعنی اور توانا بنائے۔
مثال
جیسے بہتا ہوا پانی صاف، شفاف اور زندہ رہتا ہے اور ٹھہرا ہوا پانی سڑ کر بدبودار ہو جاتا ہے، ویسے ہی خودی مسلسل جدوجہد سے زندہ اور توانا رہتی ہے اور جمود سے مرجھا جاتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر میں اقبال بتاتے ہیں کہ خودی مسلسل جدوجہد کی خوگر ہے، اور اسی لیے وہ خودی بھی ہے اور زندگی بھی، کیونکہ حرکت ہی زندگی کا اصل راز ہے۔

