ای پریها جوهر اندر قاف تو
ای پریها جوهر اندر قاف تو
ذوالفقار حیدر از اسلاف تو
ترجمہ
اے جس کے قاف کے اندر ہی پریوں جیسا جوہر چھپا ہے، ذوالفقارِ حیدر بھی تیرے ہی اسلاف میں سے ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں تیر یا شمشیر کی زبان سے اس کے شرفِ نسب اور روحانی وراثت کا ذکر کرواتے ہیں۔ ذوالفقارِ حیدر کا حوالہ لا کر وہ بتاتے ہیں کہ اصل عظمت فولاد کی ساخت میں نہیں، بلکہ اس نسبت، مقصد اور اخلاقی تاریخ میں ہے جس سے وہ قوت جڑی ہو۔ شعر کے مطابق:
جوہر کی اہمیت:
“جوہر” اقبال کے ہاں محض دھات کی اصل نہیں بلکہ باطنی حقیقت، اصلیت اور شرفِ ماہیت کی علامت بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اصل پہچان ظاہری چمک میں نہیں بلکہ اندر کے جوہر میں ہوتی ہے۔ اگر قوت کے اندر جوہر نہ ہو تو وہ صرف سختی ہے؛ اور اگر جوہر ہو تو وہی سختی وقار، امانت اور خدمت میں بدل سکتی ہے۔
یہی نکتہ انسانوں پر بھی صادق آتا ہے۔ اصل معیار شکل، شور یا دعویٰ نہیں، بلکہ وہ باطنی جوہر ہے جو کردار اور نیت میں ظاہر ہوتا ہے۔
ذوالفقار کی نسبت:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ذوالفقار صرف ایک تاریخی تلوار نہیں، بلکہ شجاعت، عدالت، حق پسندی اور پاکیزہ قوت کی علامت ہے۔ اقبال جب ذوالفقار کو “اسلاف” میں شمار کرتے ہیں تو گویا ایک روحانی شجرہ نسب قائم کرتے ہیں: ہر وہ قوت جو حق کے لیے اٹھے، عدل کے لیے چلے، اور نفس یا ظلم کے تابع نہ ہو، اس میں ذوالفقاری شان کی جھلک آ سکتی ہے۔
یہ نسبت قوت کو تقدس نہیں بلکہ ذمہ داری دیتی ہے۔ اگر تم ذوالفقار کی وراثت کا دعویٰ رکھتے ہو تو تم میں حیدری عدل، جرات اور طہارت بھی ہونی چاہیے۔
شرفِ اسلاف اور حال کی ذمہ داری:
اقبال بار بار یہ سکھاتے ہیں کہ بزرگوں کی نسبت محض فخر کے لیے نہیں، بلکہ اپنے حال کی اصلاح کے لیے ہے۔ ذوالفقار کا نام لینا کافی نہیں؛ اس کے معنوی تقاضے پورے کرنا اصل کام ہے۔ جو قوت باطل کے لیے استعمال ہو، وہ ذوالفقار کی وارث نہیں کہلا سکتی، چاہے اس کے ہاتھ میں کیسی ہی تلوار کیوں نہ ہو۔
یعنی نسبت کو سند نہیں، معیار سمجھنا چاہیے۔ یہی اقبالی ادب ہے: اسلاف کی عظمت کا ذکر، مگر اس کے ساتھ اپنے حال کا محاسبہ بھی۔
قوت اور اخلاق کا رشتہ:
یہ شعر ایک بار پھر بتاتا ہے کہ قوت اپنے آپ میں خیر نہیں ہوتی۔ اگر وہ اخلاقی مرکز سے کٹی ہو تو تباہی بن سکتی ہے، مگر اگر وہ حیدری روح سے جڑی ہو تو کمزور کے لیے پناہ اور ظالم کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔ اقبال کے نزدیک یہی اصل جوہر ہے۔
اس لیے وہ قوت کے ظاہری سامان سے زیادہ اس کی اخلاقی تاریخ اور باطنی انتساب کو اہم بناتے ہیں۔ یہی انتساب قوت کو معنوی شرف عطا کرتا ہے۔
فرد اور ملت کے لیے پیغام:
فرد اگر اپنے علم، قوت، زبان یا اختیار کو کسی بڑی پاکیزہ روایت سے جوڑ لے تو اس کے عمل میں سنجیدگی اور احتساب پیدا ہوتا ہے۔ امت کے لیے بھی یہی اصول ہے: اگر وہ اپنی طاقت کو حیدری وراثت کے تناظر میں دیکھے تو وہ جبر، خودنمائی اور انتقام کے بجائے عدل، وقار اور خدمت کی طرف مائل ہوگی۔
پس یہ شعر وراثت کے نام پر غرور نہیں، بلکہ وراثت کے معیار پر خود احتسابی سکھاتا ہے۔
مثال
ایک ڈاکٹر اگر خود کو بقراط یا بڑے معالجین کی روایت سے جوڑے تو وہ اپنے پیشے کو کاروبار سے زیادہ خدمت سمجھنے لگتا ہے۔ اسی طرح قوت بھی جب کسی پاکیزہ وراثت سے جڑتی ہے تو اس کا اخلاقی رخ بدل جاتا ہے۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک اصل عظمت قوت کے جوہر میں ہے، اور اس جوہر کو ذوالفقارِ حیدر جیسی پاکیزہ نسبت شرف دیتی ہے۔ یہ نسبت قوت کو عدل، جرات اور اخلاقی ذمہ داری کے راستے پر کھڑا کرتی ہے۔
