رموز بے خودی

مسلم پیشین نیازی آفرید

مسلم پیشین نیازی آفرید

تا به ناز عالم آشوبی رسید

ترجمہ

پہلے مسلمان نے نیاز پیدا کی، تب وہ ایسے ناز تک پہنچا جو دنیا کو ہلا دینے والا تھا۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اپنے علاج کے سلسلے کا ایک نہایت اہم راز بیان کرتے ہیں: حقیقی عزت اور تاثیر، عاجزی اور نیاز کے بغیر پیدا نہیں ہوتی۔ “مسلم پیشین” سے مراد ابتدائی مسلمان ہے، وہ مؤمن جس نے ایمان کو محض نسبت نہیں بلکہ زندہ حال کے طور پر جیا۔ اس کی پہچان یہ تھی کہ اس کے اندر “نیاز” تھا۔ نیاز کا مطلب اللہ کے حضور فقر، انکسار، وابستگی، طلب، دعا، اور بندگی کی نرم مگر گہری کیفیت ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اسی نیاز نے اسے “ناز” تک پہنچایا۔ یعنی اس کی دنیا ہلا دینے والی شان، اس کی جرات، اس کا وقار، اور اس کی تہذیبی کشش کسی خود ساختہ تکبر سے پیدا نہیں ہوئی، بلکہ خدا کے سامنے جھکنے سے پیدا ہوئی۔

یہ اقبال کے فکری نظام کا بنیادی نکتہ ہے۔ دنیا عام طور پر سمجھتی ہے کہ نیاز کم زوری ہے اور ناز طاقت۔ مگر اقبال اس پیمانے کو الٹ دیتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جو بندہ اللہ کے سامنے نیاز سیکھ لیتا ہے، وہ دنیا کے سامنے مرعوب نہیں رہتا۔ اس کے اندر سے جھوٹے خوف نکل جاتے ہیں، اس کی نگاہ صاف ہو جاتی ہے، اس کا ضمیر سیدھا ہو جاتا ہے، اور اس کی شخصیت میں ایک ایسا وقار آتا ہے جو دوسروں کو بھی ہلا دیتا ہے۔ “عالم آشوبی” سے یہی مراد ہے کہ اس کا وجود تاریخ میں ساکن نہیں رہتا، قوتِ تاثیر بن جاتا ہے۔

نیاز کا مفہوم:

نیاز کو صرف عجز کی کم زور صورت سمجھنا غلط ہوگا۔ اقبال کے ہاں یہ فعال بندگی ہے۔ اس میں محتاجی ہے مگر اللہ کے حضور، نہ کہ دنیا کے سامنے۔ اس میں جھکنا ہے مگر حق کے لیے، نہ کہ باطل کے آگے۔ اس میں طلب ہے مگر ایسی طلب جو انسان کے باطن کو نرم، سچا، اور متوجہ بناتی ہے۔ یہی نیاز دل کو پاک کرتی ہے۔

ابتدائی مسلمان کی قوت اسی لیے گہری تھی کہ اس کا اندر اللہ کے سامنے جھکا ہوا تھا۔ اس کا دل دعا میں، اس کی آنکھ حیا میں، اور اس کا عمل اخلاص میں تربیت پاتا تھا۔ اسی نے اسے تاریخ میں غیر معمولی بنا دیا۔

ناز کی حقیقت:

“ناز” یہاں تکبر یا سرکشی نہیں، بلکہ وہ باوقار خود اعتمادی ہے جو حق سے وابستگی کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے رب سے جڑ جاتا ہے تو اس کی چال میں اکڑ نہیں آتی، مگر ذلت بھی نہیں رہتی۔ وہ نرم بھی ہوتا ہے اور مضبوط بھی۔ یہی ناز ہے: ایسا وقار جو بندگی کے بطن سے پیدا ہو۔

اقبال اسے “عالم آشوب” کہتے ہیں کیونکہ اس ناز میں تاریخی اثر پیدا ہوتا ہے۔ اس سے صرف فرد نہیں بدلتا، زمانے کے پیمانے بھی بدلنے لگتے ہیں۔ مسلمان کی پہلی قوت تلوار یا سیاست نہیں تھی؛ اس کی پہلی قوت یہی باطنی وقار تھا جو نیاز سے پیدا ہوا۔

پہلے مسلمان کا نمونہ:

“مسلم پیشین” ایک تاریخی یادگار ہونے کے ساتھ ایک اخلاقی معیار بھی ہے۔ یہ وہ انسان ہے جو سجدہ کرتا ہے تو دنیا سے نہیں ڈرتا، دعا کرتا ہے تو تاریخ بدل دیتا ہے، اور فقر اختیار کرتا ہے تو دلوں کا امیر بن جاتا ہے۔ اقبال ماضی کو قصہ نہیں بناتے؛ وہ اسے زندہ نمونہ بنا کر سامنے رکھتے ہیں تاکہ موجودہ مسلمان جان لے کہ اس کی گم شدہ قوت کا راستہ کہاں ہے۔

یہ نمونہ اس بات کی شہادت ہے کہ روحانی گہرائی اور تمدنی قوت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اصل میں پہلی کے بغیر دوسری دیرپا نہیں ہوتی۔ نیاز کے بغیر پیدا ہونے والا ناز محض غرور بنتا ہے، جبکہ نیاز سے پیدا ہونے والا ناز وقار بن جاتا ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج مسلمان عزت چاہتا ہے مگر اکثر اس کے ذرائع غلط جگہ تلاش کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ صرف طاقت، نعرہ، یا ظاہری شناخت اسے دوبارہ بلند کر دے گی۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ پہلی شرط نیاز ہے۔ جب تک دل میں فقرِ الی اللہ، دعا کی حرارت، سجدے کی سچائی، اور مرکز کے ساتھ زندہ ربط پیدا نہیں ہوگا، ناز محض ادا بن کر رہ جائے گا۔

یہ شعر ہمیں امید دیتا ہے کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ راستہ بند نہیں۔ جو پہلے مسلمان کے لیے سچ تھا، اصول کے طور پر آج بھی سچ ہے۔ اگر ہم نیاز پیدا کریں تو وقار کی ایک نئی شکل پھر سے جنم لے سکتی ہے۔ اقبال کی پوری دعوت اسی روحانی الٹ پھیر پر قائم ہے۔

مثال

جیسے درخت کی جڑ جتنی گہرائی میں اترتی ہے شاخ اتنی ہی وقار سے اوپر اٹھتی ہے، ویسے ہی بندگی کا نیاز جتنا سچا ہو، زندگی کا ناز اتنا ہی باوزن بنتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ ابتدائی مسلمان کی دنیا بدل دینے والی شان اس کے خدا کے سامنے عاجز ہونے سے پیدا ہوئی۔ نیاز نے ہی اسے ایسا ناز بخشا جو ذلت نہیں، باوقار تاثیر اور تاریخی قوت بن گیا۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button