در گره چون دانه دارد برگ و بر
در گره چون دانه دارد برگ و بر
چشم بر خود وا کند گردد شجر
ترجمہ
وہ گرہ کے اندر دانے کی طرح برگ و بار رکھتی ہے، پھر جب اپنے اوپر آنکھ کھولتی ہے تو درخت بن جاتی ہے۔
تشریح
یہ شعر پچھلے شعر کی تمثیل کو اور کھولتا ہے۔ وہاں حیات اپنے دھاگوں کو سمیٹ کر گرہ بناتی تھی، یہاں بتایا جا رہا ہے کہ اس گرہ کے اندر دانے کی طرح برگ و بر پہلے ہی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ یعنی وحدت کوئی خالی بندش نہیں، ایک تخلیقی امکان کی گود ہے۔ جب یہ گرہ اپنی ذات پر آنکھ کھولتی ہے تو شجر بن جاتی ہے۔ اس سے اقبال یہ عظیم نکتہ واضح کرتے ہیں کہ حیات کی جمعیت اور مرکزیت صرف تحفظ کے لیے نہیں ہوتی، نمو کے لیے بھی ہوتی ہے۔ دانہ بظاہر چھوٹا، بند اور محدود ہے، مگر اس کے اندر پورے درخت کی امکانیت پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی طرح وہ گرہ جسے زندگی اپنے اوپر باندھتی ہے، محض روکنے والا بندھن نہیں بلکہ برگ و بار کی مخفی دنیا بھی ہے۔
“چشم بر خود وا کند” کا فقرہ اس شعر کا قلب ہے۔ دانہ جب تک اپنے اوپر آنکھ نہیں کھولتا، وہ بس دانہ ہے۔ مگر جب خود آگاہی، بیداری اور اندر کی صلاحیت کا شعور جاگتا ہے، تو وہ شجر بننے لگتا ہے۔ یہ اقبال کے پورے فلسفے کے مطابق ہے: خود آگاہی کے بغیر نہ فرد مکمل ہوتا ہے، نہ ملت۔ جو قوم اپنے اندر موجود برگ و بر کو نہ پہچانے، وہ اپنی گرہ میں پڑی رہ سکتی ہے۔ اور جو اپنے امکان کو پہچان لے، وہ نمو کی طرف بڑھتی ہے۔ اس طرح یہ شعر خودی، مرکزیت اور اجتماعی بیداری تینوں کو ایک دانے اور درخت کی تمثیل میں جمع کر دیتا ہے۔
گرہ کے اندر دانہ:
دانے کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ بظاہر اختصار ہے اور باطن میں وسعت۔ اس کے اندر برگ بھی ہے، بر بھی ہے، سایہ بھی ہے، پھل بھی ہے، اور ایک پوری شجری دنیا بھی ہے۔ اقبال جب کہتے ہیں کہ گرہ کے اندر دانے کی طرح برگ و بر موجود ہیں تو وہ یہ بتاتے ہیں کہ وحدت کے اندر نمو کی دنیا پوشیدہ ہوتی ہے۔ جو زندگی اپنے آپ کو سمیٹتی ہے، وہ خالی نہیں سمٹتی؛ وہ اپنی قوت کو ایک تخلیقی مرکز میں جمع کرتی ہے۔
یہی فردی شخصیت میں بھی ہوتا ہے۔ انسان کے اندر جو اصول، اقدار اور نسبتیں گرہ کی طرح اسے جوڑتی ہیں، انہی کے اندر اس کی آئندہ پختگی، کردار، علم اور خدمت کے پھل پوشیدہ ہوتے ہیں۔ وہ بظاہر ضبط ہے مگر حقیقت میں نمو کا خزانہ ہے۔
خود پر آنکھ کھولنا:
“چشم بر خود وا کند” اقبال کے ہاں خود شناسی، شعور اور باطنی بیداری کی اعلیٰ تعبیر ہے۔ دانہ اپنے آپ پر آنکھ کھولے تو ہی شجر بنتا ہے۔ اسی طرح انسان یا قوم جب اپنے اصل جوہر، اپنی طاقت، اپنی ذمہ داری اور اپنی نسبت کو پہچانتی ہے تو اس کے اندر سے نمو شروع ہوتی ہے۔ یہ بیداری باہر سے محض نعرے سے پیدا نہیں ہوتی؛ اندر کی آنکھ کھلنے سے ہوتی ہے۔
یہ نکتہ اس پوری بحث میں مرکزی ہے، کیونکہ اقبال ملی حیات کو کسی بیرونی انتظام کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔ وہ اسے باطنی بیداری کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ جب قوم اپنے اوپر آنکھ کھولے گی تبھی اس کا بکھراؤ شجر کی شکل اختیار کرے گا۔ ورنہ دانہ دانہ ہی رہ جائے گا، گرہ گرہ ہی رہ جائے گی۔
شجر بننے کا مفہوم:
شجر نمو، ثبات، سایہ، پھل اور اجتماعی افادیت کی علامت ہے۔ دانہ اپنی ذات میں امکانی ہے، شجر ظاہر اور مفید ہے۔ اقبال کی نظر میں زندگی کا کمال یہی ہے کہ وہ اپنی چھپی ہوئی صلاحیت کو اتنی پوری طرح ظاہر کرے کہ وہ دوسروں کے لیے بھی نافع بن جائے۔ شجر اپنے لیے نہیں جیتا؛ وہ سایہ دیتا ہے، پھل دیتا ہے، نسل بڑھاتا ہے، زمین سے جڑتا ہے اور آسمان کی طرف بڑھتا ہے۔
ملت کی سطح پر بھی یہی قانون چلتا ہے۔ ایک قوم کے اندر بے شمار امکانات ہو سکتے ہیں، مگر اگر وہ خود آگاہی اور مرکزیت کے ساتھ نمو نہ پائے تو شجر نہیں بنے گی۔ اقبال چاہتے ہیں کہ امت دانے کی محدود صورت سے نکل کر شجر کی اجتماعی اور ثمر آور صورت اختیار کرے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم بہت سی جگہوں پر امکانات کی بات تو کرتے ہیں، مگر ان امکانات کو بیدار کرنے والی خود شناسی اور مرکزیت کم ہے۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ امکان صرف کافی نہیں؛ اسے آنکھ بھی کھولنی ہے۔ فرد کو اپنی قوت پہچاننی ہے، گھر کو اپنی تربیتی ذمہ داری، ادارے کو اپنا اصل مقصد، اور ملت کو اپنی جمعی روح۔ تبھی دانہ شجر بنے گا۔
یہ شعر امید سے بھرا ہوا ہے۔ اگر ابھی ہم محدود، بند یا منتشر محسوس ہوتے ہیں تو یہ آخری حالت نہیں۔ ممکن ہے برگ و بر ہمارے اندر ہی پوشیدہ ہوں۔ اگر ہم خود پر آنکھ کھول لیں، اپنی گرہ کو صحیح نمو کے ساتھ جوڑ لیں، تو ایک بڑا درخت ہم سے برآمد ہو سکتا ہے۔ یہی اقبال کی بشارت ہے۔
مثال
جیسے ایک چھوٹے سے بیج کے اندر پورے باغ کا امکان چھپا ہوتا ہے، ویسے ہی درست مرکز اور بیدار شعور کے ساتھ ایک محدود گرہ بھی شجر بننے کی قوت رکھتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ جمع شدہ حیات کے اندر دانے کی طرح برگ و بر کا امکان پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ جب وہ اپنے اوپر آنکھ کھولتی ہے تو نمو پا کر شجر بن جاتی ہے۔