رموز بے خودی

جذبہ باید در سرشت او یکی

جذبہ باید در سرشت او یکی

ہم عیار خوب و زشت او یکی

ترجمہ

اس کی سرشت میں جذبہ بھی ایک ہونا چاہیے، اور اس کے نزدیک اچھے اور برے کا معیار بھی ایک ہونا چاہیے۔

تشریح

علامہ اقبال اس شعر میں ملت کی فکری وحدت کے بعد اس کی اخلاقی اور جذباتی وحدت کا اصول بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ کسی قوم کی فطرت میں ایک مشترک جذبہ ہونا چاہیے، اور خیر و شر کو پرکھنے کا معیار بھی ایک ہونا چاہیے۔ اگر جذبات بکھرے ہوئے ہوں اور اقدار کے پیمانے مختلف ہوں تو قوم اندر سے کمزور ہو جاتی ہے۔ شعر کے مطابق:

سرشت میں ایک جذبہ:

“سرشت” سے مراد قوم کی گہری داخلی ساخت، اس کا مزاج اور اس کی نفسیاتی بنیاد ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ اس کے اندر ایک ایسا مشترک جذبہ ہو جو اسے ایک مرکز پر جمع رکھے۔ یہ جذبہ محض وقتی جوش نہیں بلکہ وہ باطنی میلان ہے جو قوم کے افراد کو ایک بڑے مقصد، ایک بڑی محبت اور ایک بڑے احساسِ ذمہ داری سے باندھتا ہے۔

اگر کسی قوم کے دل مختلف اور متضاد جذبوں میں بٹ جائیں تو اس کے افراد مل کر بھی ایک روح پیدا نہیں کر پاتے۔ اسی لیے شاعر جذبے کی وحدت پر زور دیتے ہیں۔

خوب و زشت کا ایک معیار:

قومیں صرف مشترک جذبات سے نہیں بلکہ مشترک اخلاقی پیمانوں سے بھی بنتی ہیں۔ اگر ایک طبقہ کسی عمل کو شرافت سمجھے اور دوسرا وہی چیز ذلت سمجھے، یا اگر ایک جگہ عدل فضیلت ہو اور دوسری جگہ مفاد کو برتری دے دی جائے، تو اخلاقی وحدت ٹوٹ جاتی ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ اچھے اور برے کا معیار ایک ہونا چاہیے، تاکہ قوم کے ضمیر میں فیصلہ کن وضاحت پیدا ہو۔

یہ وضاحت نہ ہو تو قوت بھی فساد بن سکتی ہے، علم بھی چالاکی بن سکتا ہے، اور جذبہ بھی فتنہ بن سکتا ہے۔

اخلاقی مرکزیت کی ضرورت:

ایک قوم کا اخلاقی عیار دراصل اس کے وجود کی میزان ہے۔ اسی سے طے ہوتا ہے کہ وہ کن باتوں پر فخر کرے گی، کن باتوں پر شرمندہ ہوگی، اور کس راہ کو اپنائے گی۔ اقبال کے نزدیک یہ معیار کسی وقتی فائدے، اکثریتی خواہش یا ظاہری طاقت سے نہیں نکلنا چاہیے، بلکہ ایک بلند حق سے نکلنا چاہیے۔

اسی لیے ان کا پورا استدلال توحید کی طرف لوٹتا ہے، کیونکہ وہاں سے خیر و شر کا بنیادی معیار یکساں اور پائیدار بنتا ہے۔

ملت کی تہذیبی حفاظت:

جب کسی قوم کا معیارِ حسن و قبح بکھر جائے تو وہ بیرونی دباؤ کے سامنے بہت جلد ڈھلنے لگتی ہے۔ پھر اسے یہ سمجھ نہیں آتا کہ کس بات پر قائم رہنا ہے اور کس بات سے بچنا ہے۔ اقبال چاہتے ہیں کہ ملت کے دل میں ایسی پختگی ہو کہ اس کے جذبات بھی ایک اخلاقی سمت میں بہیں اور اس کا فیصلہ بھی ایک روشن پیمانے سے ہو۔

یہی پختگی قوم کو تہذیبی بحران اور اخلاقی انتشار سے بچاتی ہے۔

فرد کی سطح پر معنی:

یہ اصول فرد پر بھی صادق آتا ہے۔ اگر انسان کے اندر کئی متضاد خواہشات پل رہی ہوں اور اس کے پاس اچھے اور برے کی واضح میزان نہ ہو تو اس کی شخصیت کمزور رہتی ہے۔ لیکن جب اس کے جذبات ایک اعلیٰ مرکز کے تابع ہو جائیں اور اس کا اخلاقی معیار واضح ہو جائے تو اس کی زندگی میں استقامت آتی ہے۔

یوں شاعر فرد اور ملت دونوں کے لیے ایک ہی سبق دیتے ہیں: جذبہ بھی پاک اور یکسو ہو، اور اخلاقی معیار بھی واضح اور مشترک ہو۔

مثال

ایک ٹیم میں اگر سب کے مقاصد الگ ہوں اور کامیابی کی تعریف بھی سب کے نزدیک مختلف ہو، تو وہ ٹیم باصلاحیت ہونے کے باوجود کمزور رہتی ہے۔ مگر جب جذبہ بھی مشترک ہو اور معیار بھی ایک ہو تو معمولی افراد بھی بڑا کام کر جاتے ہیں۔

خلاصہ

اقبال کے مطابق ملت کی داخلی قوت کے لیے ضروری ہے کہ اس کی سرشت میں جذبہ ایک ہو اور اچھے برے کا معیار بھی ایک ہو۔ یہی اخلاقی وحدت قوم کو مضبوط، واضح اور باوقار بناتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button