رموز بے خودی

تا نماید تاب نامشهود خویش

تا نماید تاب نامشهود خویش

شعله ی او پرده بند از دود خویش

ترجمہ

اپنی پوشیدہ چمک کو ظاہر کرنے کے لیے اس کی شعلہ اپنے ہی دھویں کا پردہ اوڑھ لیتی ہے۔

تشریح

یہ شعر حیات کے ایک نہایت لطیف اور پیچیدہ پہلو کو آشکار کرتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ زندگی اپنی نامشہود تاب کو ظاہر کرنے کے لیے اپنے ہی دھویں کا پردہ باندھتی ہے۔ بظاہر یہ بات الٹی محسوس ہوتی ہے: روشنی ظاہر ہونی ہو تو پردہ کیوں آئے؟ مگر اقبال کا نکتہ یہ ہے کہ باطن کی حقیقت اکثر ظاہر کی صورتوں، محدود قالبوں اور مادی پردوں کے اندر جلوہ کرتی ہے۔ شعله کی اصل تاب براہِ راست آنکھ کو شاید نہ سہہ سکے، اس لیے وہ دھویں کے پردے کے ساتھ ظاہر ہوتی ہے۔ زندگی کا باطن بھی اسی طرح اپنی اصل قوت کو مختلف صورتوں، حالات، اجسام، حوادث اور تجربات کے پردے میں نمایاں کرتا ہے۔

یہاں “نامشہود” بہت اہم لفظ ہے۔ حیات کی اصل تاب فوراً محسوس یا پیمائش کے قابو میں نہیں آتی۔ ہم اس کے آثار دیکھتے ہیں: حرکت، نمو، تجدید، تعلق، شوق، تخلیق۔ مگر اس کی اصل اندر چھپی رہتی ہے۔ اقبال اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زندگی کو صرف اس کے دھویں، یعنی ظاہری شکلوں سے سمجھ لینا کافی نہیں۔ ان پردوں کے پیچھے ایک باطنی آتش ہے جو اصل محرک ہے۔ اگر انسان صرف پردہ دیکھے اور آگ نہ پہچانے تو وہ حقیقت کے آدھے حصے پر رک جاتا ہے۔

تابِ نامشہود کا مفہوم:

تابِ نامشہود سے مراد وہ اندرونی روشنی ہے جو ابھی پوری طرح عیاں نہیں ہوئی مگر جس کے بغیر کوئی ظاہر قائم نہیں ہوتا۔ جیسے بیج کے اندر درخت کی ایک پوشیدہ قوت ہوتی ہے، ویسے ہی زندگی کے اندر ایک ایسی تاب ہوتی ہے جو مختلف صورتوں میں خود کو ظاہر کرتی ہے۔ اقبال اس باطن کو اہم قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہی اصل ہے اور صورتیں اس کے مظاہر ہیں۔ اگر ہم صرف مظاہر میں الجھ جائیں اور اس پوشیدہ تاب تک نہ پہنچیں تو ہم زندگی کی اصل عظمت کو نہیں سمجھ پاتے۔

یہ نکتہ انسان کی شخصیت پر بھی صادق آتا ہے۔ ہر شخص کے اندر کچھ مخفی امکانات، کچھ نامعلوم گہرائیاں، کچھ پوشیدہ روشنیاں ہوتی ہیں۔ اس کی ہر حرکت، ہر درد، ہر تجربہ، اور ہر جدوجہد شاید انہی میں سے کسی ایک کو ظاہر کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ اس لیے ظاہر کو حقیر سمجھنا بھی درست نہیں، اور اسے آخری حقیقت سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

دھویں کا پردہ کیوں:

دھویں کا پردہ اس بات کی علامت ہے کہ حقیقت ہمیشہ سیدھی اور عریاں صورت میں سامنے نہیں آتی۔ زندگی اپنے اظہار کے لیے مادہ، زمانہ، حالات، محدودیت اور آزمائش کے پردے استعمال کرتی ہے۔ یہ پردے کبھی کبھی انسان کو الجھاتے بھی ہیں، مگر اسی کے ذریعے باطن شکل پکڑتا ہے۔ شعلہ اگر صرف آگ ہی رہتا اور کسی صورت میں ڈھلتا نہ، تو شاید ہم اس کی بہت سی تاثیرات نہ دیکھ پاتے۔ اسی طرح باطنی حیات اگر کسی خارجی سانچے میں جلوہ نہ کرتی تو اس کے اثرات بھی مخفی رہتے۔

اقبال یہ بھی بتا رہے ہیں کہ بعض اوقات جس چیز کو ہم محض دھواں سمجھ کر کم اہم جانتے ہیں، وہی کسی بڑی حقیقت کے ظہور کا وسیلہ ہو سکتی ہے۔ انسان کی زندگی میں رنج، سوال، جستجو، کشمکش اور حتیٰ کہ کچھ ظاہری تضادات بھی ایسے پردے ہو سکتے ہیں جن کے پیچھے تابِ نامشہود کام کر رہی ہو۔

ظاہر اور باطن کا رشتہ:

اقبال کے ہاں ظاہر اور باطن میں دشمنی نہیں بلکہ ربط ہے۔ دھواں شعلے کا دشمن نہیں، اس کے اظہار کا ایک مرحلہ ہے۔ اسی طرح جسم روح کا دشمن نہیں، تاریخ معنی کا دشمن نہیں، اور ملت کی ظاہری ہئیت اس کی باطنی وحدت کی مخالف نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا ہم ظاہر کو باطن سے جوڑ کر دیکھتے ہیں یا نہیں۔ اگر ربط قائم ہو تو پردہ رہنمائی کرتا ہے، اگر ربط ٹوٹ جائے تو پردہ غفلت بن جاتا ہے۔

یہ بات ملی حیات میں بھی نہایت اہم ہے۔ امت کے پاس شعائر، مراکز، تاریخ، اور اجتماعی صورتیں ہیں۔ اگر ان میں باطن کی آگ زندہ رہے تو یہ سب دھویں کے پردے کی طرح اس تاب کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگر باطن کی آگ بجھ جائے تو یہی صورتیں خالی رسم میں بدل سکتی ہیں۔ اقبال اس شعر میں پہلے ہی اس نسبت کی ضرورت سمجھا رہے ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم یا تو صرف ظاہری اشکال پر رک جاتے ہیں یا ہر صورت اور ہر علامت کو بے معنی سمجھنے لگتے ہیں۔ اقبال دونوں رویوں کی اصلاح کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پردہ ہے، مگر بے مقصد نہیں؛ دھواں ہے، مگر شعلے سے جدا نہیں۔ ہمیں اپنی ذات، اپنی عبادات، اپنی اجتماعی علامتوں، اور اپنی تہذیبی صورتوں کو اس نگاہ سے دیکھنا ہوگا کہ ان کے پیچھے کون سی تابِ نامشہود کام کر رہی ہے۔

یہ شعر صبر بھی سکھاتا ہے۔ بعض اوقات انسان کو اپنی زندگی میں صرف دھواں دکھائی دیتا ہے: الجھن، سوال، محدودیت، رکاوٹ۔ مگر اگر اس کے اندر شعلہ باقی ہو تو انہی پردوں کے ذریعے روشنی ظاہر ہو سکتی ہے۔ اقبال کی امید یہی ہے کہ ہم دھویں کے پردے سے آگ کو پہچانیں اور ظاہر کے اندر باطن کی حرکت کو دیکھنا سیکھیں۔

مثال

جیسے بادل سورج کو مکمل چھپا بھی سکتا ہے اور اس کی روشنی کو نرم کر کے دیکھنے کے قابل بھی بناتا ہے، ویسے ہی زندگی کی ظاہری صورتیں باطن کی تاب کے پردے بھی ہیں اور اس کے مظہر بھی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ زندگی کی اصل روشنی اکثر ظاہری پردوں کے اندر جلوہ کرتی ہے۔ شعلہ اپنے ہی دھویں کے ذریعے اپنی نامشہود تاب کو ظاہر کرتا ہے، اس لیے ظاہر اور باطن کے ربط کو سمجھنا ضروری ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button