آنکه در قرآن خدا او را ستود
آنکه در قرآن خدا او را ستود
آن که حفظ جان او موعود بود
ترجمہ
وہ ہستی جس کی خدا نے قرآن میں تعریف فرمائی، اور جس کی جان کی حفاظت خود الٰہی وعدے کے تحت تھی۔
تشریح
یہ شعر ہجرت کے واقعے کو ایک اور زاویے سے روشن کرتا ہے۔ اقبال رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ عظمت یاد دلاتے ہیں کہ جس ہستی کو خدا نے خود قرآن میں سراہا، جس کے مقام کو وحی نے بلند کیا، اور جس کی جان کی حفاظت خود خدا کے وعدے کے تحت تھی، اس کے بارے میں یہ گمان کرنا درست نہیں کہ وہ محض دشمن کے خوف سے وطن چھوڑ کر نکلے۔ شعر دراصل اگلے سوال کے لیے زمین ہموار کرتا ہے: اگر خدا کی حفاظت اس ہستی کے ساتھ تھی تو ہجرت کی اصل وجہ کیا تھی؟ شعر کے مطابق:
قرآن میں ستودہ ہستی:
قرآنِ مجید میں رسول اکرم کا مقام محض ایک مبلغ یا قومی رہنما کا مقام نہیں، بلکہ محبوبیت، رحمت، اسوہ، امانت اور ہدایت کے مرکز کا مقام ہے۔ اقبال جب کہتے ہیں “در قرآن خدا او را ستود” تو وہ یاد دلاتے ہیں کہ حضور کی قدر و منزلت کسی انسانی جماعت کے فیصلے سے نہیں، خود خدا کی طرف سے ثابت ہے۔
جس ہستی کی سندِ عظمت وحی ہو، اس کی سیرت کو معمولی سیاسی خوف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔
حفظِ جان کا وعدہ:
“حفظ جان او موعود بود” میں اقبال اس الٰہی کفالت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس کے تحت رسول اکرم کی حفاظت محض انسانی تدبیر کا نتیجہ نہ تھی۔ یہ وعدہ اس بات کا اعلان ہے کہ نبوی مشن حادثاتی نہیں، منصوبۂ الٰہی کا حصہ ہے۔ جب تک رسالت کا کام مکمل نہ ہو، دشمن کی تدبیریں آخری فیصلہ نہیں کر سکتیں۔
یہ وعدہ نبوی دل کو بے خوف اور امت کو مطمئن کرتا ہے کہ حق کا کام محض طاقت کے رحم و کرم پر نہیں۔
ہجرت کو خوف تک محدود نہ کرنا:
یہ شعر دراصل ایک غلط فہمی کو رد کرتا ہے۔ اگر کوئی کہے کہ حضور صرف جان بچانے کے لیے نکلے، تو اقبال اس مقدمے کی بنیاد ہی الٹ دیتے ہیں: جس کی جان خدا کی حفاظت میں ہو، اس کے عمل کو صرف دفاعی فرار نہیں کہا جا سکتا۔ اس کے پیچھے اس سے کہیں بلند حکمت، تدبیر اور تاریخی مقصد موجود ہوگا۔
یہی نکتہ ہجرت کو کمزوری کے قصے سے اٹھا کر نبوت کی حکمت کے دائرے میں لے آتا ہے۔
الٰہی حفاظت اور انسانی اسباب:
اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ حضور نے اسباب کو ترک کر دیا۔ اسلام میں توکل بے تدبیری نہیں سکھاتا۔ ہجرت میں غار، ساتھی، راستہ، مخفی تدبیر، سب کچھ موجود ہے۔ مگر ان تدبیروں کی پشت پر اصل سکون یہ تھا کہ نبوی مشن خدا کی نگرانی میں ہے۔ یوں اسباب بھی ہیں اور وعدۂ الٰہی بھی۔
اسلامی خودی کی بلوغت یہی ہے کہ وہ تدبیر بھی کرتی ہے اور وعدۂ حق پر اعتماد بھی رکھتی ہے۔
آج کے لیے سبق:
آج ہم اکثر دینی تاریخ کو صرف سیاسی تجزیے یا سماجی کمزوری کی عینک سے پڑھتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ نبوی سیرت کو سمجھنے کے لیے وحی کے افق کو بھی شامل کرنا پڑتا ہے۔ اگر خدا کی حفاظت، خدا کی تعریف اور خدا کا مشن سامنے رہے تو ہجرت، صلح، جہاد، صبر، سب ایک نئی معنویت اختیار کر لیتے ہیں۔
اسلامی خودی کو اپنی تاریخ ایسے پڑھنی چاہیے کہ اس میں تدبیر بھی دکھائی دے اور تقدیرِ الٰہی بھی۔
مثال
کوئی بڑی اخلاقی یا دینی جدوجہد کبھی ظاہری سطح پر پسپائی یا نقل مکانی جیسی لگ سکتی ہے، مگر اگر اس کے پیچھے بلند مقصد، اصولی استقامت اور الٰہی اعتماد ہو تو وہ دراصل بڑے مستقبل کی تیاری بھی ہو سکتی ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں یاد دلاتے ہیں کہ رسول اکرم وہ ہستی ہیں جنہیں قرآن نے سراہا اور جن کی جان کی حفاظت الٰہی وعدے کے تحت تھی۔ اس لیے ہجرت کو محض خوف یا فرار کے معنی میں سمجھنا درست نہیں۔