عقل عریاں را دہد پیرایہ ئی
عقل عریاں را دہد پیرایہ ئی
بخشد ایں بی مایہ را سرمایہ ئی
ترجمہ
وہ (رہنما) برہنہ عقل کو ایک لباس اور زینت عطا کرتا ہے، اور اس بے سرمایہ کو ایک قیمتی سرمایہ بخش دیتا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں کامل رہنما کی اس قوت کو بیان کرتے ہیں جو خالی عقل کو ہدایت اور بے سرمایہ کو سرمایہ عطا کر دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
برہنہ عقل کو لباس:
اقبال کہتے ہیں کہ رہنما برہنہ اور خالی عقل کو ایک لباس اور زینت عطا کرتا ہے۔ یعنی وہ محض خشک اور تنہا عقل کو ایمان، یقین اور حکمت کا لباس پہنا دیتا ہے۔
عقل جب تک وحی اور ہدایت کی رہنمائی سے محروم ہو، وہ برہنہ اور نامکمل ہے۔ رہنما اسی عقل کو ہدایت سے آراستہ کر کے مکمل بنا دیتا ہے۔
بے سرمایہ کو سرمایہ:
شاعر کہتے ہیں کہ وہ بے سرمایہ کو ایک قیمتی سرمایہ عطا کرتا ہے۔ یعنی جو فرد یا قوم روحانی اور اخلاقی دولت سے محروم تھی، اسے وہ ایک عظیم سرمایہ عطا کر دیتا ہے۔
یہ سرمایہ یقین، مقصد، کردار اور ایمان کا سرمایہ ہے، جو دنیوی دولت سے کہیں بڑھ کر ہے۔
عقل اور ہدایت کا امتزاج:
اقبال یہ باور کراتے ہیں کہ عقل کی تکمیل ہدایت اور رہنمائی سے ہوتی ہے، اور رہنما ہی عقل کو صحیح راہ دکھاتا ہے۔
فیض کی دولت:
یہی فیض اور یہی سرمایہ ہے جو ایک محروم اور خالی فرد کو باکردار، بامقصد اور مالا مال بنا دیتا ہے۔
مثال
جیسے ایک ماہر استاد ایک خالی الذہن شاگرد کو علم اور حکمت سے مالا مال کر دیتا ہے، ویسے ہی کامل رہنما برہنہ عقل کو ہدایت اور بے سرمایہ کو قیمتی سرمایہ عطا کر دیتا ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ کامل رہنما خالی عقل کو ہدایت کا لباس اور بے سرمایہ کو یقین و کردار کا قیمتی سرمایہ عطا کر دیتا ہے۔

