رموز بے خودی

از مزاج من پدر آزرده گشت

از مزاج من پدر آزرده گشت

لاله زار چهره اش افسرده گشت

ترجمہ

میرے اس مزاج سے میرے والد رنجیدہ ہو گئے، اور ان کے چہرے کا لالہ زار مرجھا گیا۔

تشریح

اس شعر میں واقعے کا مرکز نوجوان کے عمل سے باپ کے دل کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ اقبال کہتے ہیں کہ میری اس بداخلاقی نے میرے والد کو آزردہ کر دیا اور ان کے چہرے کا شگفتہ لالہ زار افسردہ ہو گیا۔ یہ تصویر محض ناراضی کی نہیں، بلکہ تربیت یافتہ دل کی داخلی چوٹ کی تصویر ہے۔ باپ کی آزردگی میں ایک پوری اخلاقی دنیا سمٹی ہوئی ہے۔ وہ اپنے بیٹے کی حرکت پر صرف ناراض نہیں، بلکہ اس لیے دکھی ہے کہ اس حرکت میں وہ حسنِ سیرت مجروح ہوا ہے جسے وہ بیٹے میں دیکھنا چاہتا تھا۔

“لاله زار چهره” ایک نہایت خوبصورت ترکیب ہے۔ چہرہ باغ کی طرح شگفتہ تھا، لیکن بیٹے کے مزاج نے اسے افسردہ کر دیا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سچے مربی کی خوشی صرف اولاد کی کامیابی، ذہانت یا قوت میں نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اخلاق میں ہوتی ہے۔ جب اخلاقی لغزش سامنے آئے تو سب سے زیادہ درد اسی شخص کو ہوتا ہے جس نے محبت کے ساتھ تربیت کا خواب دیکھا ہو۔

باپ بطور مربی:

اس شعر میں باپ صرف نسبی رشتہ نہیں، ایک اخلاقی مرشد کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بیٹے کے مزاج میں ایک ایسی کمی دیکھتا ہے جو صرف سائل کے حق میں ظلم نہیں، بلکہ خود بیٹے کے کردار میں نقص ہے۔ اس لیے اس کی آزردگی شخصی توہین کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس خوف سے ہے کہ کہیں یہ مزاج آگے چل کر شخصیت کا مستقل عیب نہ بن جائے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال کے ہاں پدرانہ رنج صرف جذباتی کیفیت نہیں، تربیت کا ابتدائی مرحلہ ہے۔ جب ایک نوجوان اپنے عمل کے اثر کو کسی مہربان مگر باوقار چہرے پر دیکھتا ہے تو اس کے اندر ندامت کے دروازے کھلنے لگتے ہیں۔ بہت بار جو بات وعظ سے نہیں سمجھی جاتی، وہ کسی محب دل کی آزردگی سے سمجھ آ جاتی ہے۔

مزاج کی اہمیت:

اقبال نے یہ نہیں کہا کہ “از عمل من” بلکہ “از مزاج من”۔ یعنی مسئلہ صرف ایک واقعہ نہیں، اس کے پیچھے موجود طبیعت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حسنِ سیرت چند اچھے اعمال کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک تہذیب یافتہ مزاج کا نام ہے۔ اگر مزاج میں تندی، خود پسندی، بے صبری یا بے رحمی ہو تو کبھی نہ کبھی وہ عمل میں ظاہر ہو کر رہتی ہے۔ باپ اسی بنیادی سطح کو دیکھ رہا ہے۔

یہی ملی سطح پر بھی درست ہے۔ ایک قوم کی ایک ایک غلطی کے پیچھے اس کے اجتماعی مزاج کی ساخت کام کرتی ہے۔ اگر اس مزاج میں رحمت، نظم اور تواضع ہو تو اس کے اعمال میں بھی خوبصورتی پیدا ہوتی ہے؛ اور اگر مزاج بگڑا ہو تو علم اور قوت کے باوجود سختی اور بے اعتدالی پیدا ہو جاتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج ہم اکثر صرف نتائج کو دیکھتے ہیں، مزاج کو نہیں۔ اگر کسی نوجوان نے غلطی کی تو ہم یا تو اسے معمولی کہہ کر ٹال دیتے ہیں، یا محض سزا پر اکتفا کرتے ہیں۔ اقبال یاد دلاتے ہیں کہ اصل سوال یہ ہے کہ اس غلطی کے پیچھے کی طبیعت کیا ہے۔ کیا ہم اپنے گھروں اور اداروں میں ایسا مزاج بنا رہے ہیں جو رحم، حیا، حلم اور وقار سے لبریز ہو؟

یہ شعر والدین، اساتذہ اور مربیوں کے لیے بھی سبق ہے کہ ان کی اصل کامیابی صرف کارکردگی نہیں، کردار ہے۔ اور نوجوانوں کے لیے سبق یہ ہے کہ ان کے اخلاقی رویے صرف ان کے اپنے نہیں رہتے؛ وہ ان لوگوں کے دل بھی مجروح کرتے ہیں جو ان سے خیر کی امید رکھتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک نازک باغبان اپنے پودے کی ٹیڑھی بڑھوتری دیکھ کر صرف پتے نہیں بلکہ جڑ کے رخ پر فکر مند ہوتا ہے، ویسے ہی سچا مربی عمل سے زیادہ مزاج کی فکر کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دکھاتے ہیں کہ ایک نوجوان کی بداخلاقی سب سے پہلے اس مربی کے دل کو زخمی کرتی ہے جو اس میں حسنِ سیرت دیکھنا چاہتا تھا۔ اصل تربیت مزاج کی درستی سے شروع ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button