خیمہ گاہ کارواں کوہ و جبل
خیمہ گاہ کارواں کوہ و جبل
مرغزار و دامن صحرا و تل
ترجمہ
(زندگی کے) قافلے کی خیمہ گاہ کبھی پہاڑ ہیں، کبھی سبزہ زار، کبھی صحرا کا دامن اور کبھی ٹیلے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں انسانی زندگی کو ایک قافلے سے تشبیہ دیتے ہیں جو مختلف منزلوں اور حالات سے گزرتا ہے۔ شعر کے مطابق:
زندگی کا قافلہ:
اقبال اجتماعی زندگی کو ایک قافلے کی صورت میں پیش کرتے ہیں جو مسلسل سفر میں رہتا ہے۔ یہ قافلہ افراد کا مجموعہ ہے جو مل کر ایک منزل کی طرف بڑھتا ہے۔
قافلہ اکیلے مسافر کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور مضبوط ہوتا ہے، کیونکہ اس میں باہمی تعاون اور رفاقت ہوتی ہے۔
مختلف منزلوں سے گزرنا:
شاعر کہتے ہیں کہ اس قافلے کی خیمہ گاہ کبھی پہاڑ ہوتی ہے، کبھی سبزہ زار، کبھی صحرا اور کبھی ٹیلے۔ یعنی زندگی کے سفر میں طرح طرح کے حالات اور مقامات آتے ہیں۔
کبھی آسانی اور شادابی کے مراحل ہوتے ہیں اور کبھی سختی اور ویرانی کے، مگر قافلہ ہر حال میں اپنا سفر جاری رکھتا ہے۔
حالات کی رنگا رنگی:
اقبال اشارہ کرتے ہیں کہ اجتماعی زندگی میں طرح طرح کے حالات پیش آتے ہیں، مگر اجتماع کی قوت انہیں مل کر عبور کرنے میں مدد دیتی ہے۔
اجتماع کی طاقت:
یہ تمثیل بتاتی ہے کہ زندگی کے دشوار اور آسان دونوں مراحل میں اجتماع فرد کا سہارا اور محافظ ہوتا ہے۔
مثال
جیسے ایک تجارتی قافلہ پہاڑوں، صحراؤں اور میدانوں سے گزر کر منزل تک پہنچتا ہے اور راستے کی مشکلات کا مل کر مقابلہ کرتا ہے، ویسے ہی ملت زندگی کے مختلف حالات کو اجتماعی قوت سے عبور کرتی ہے۔
خلاصہ
اس شعر کا پیغام یہ ہے کہ اجتماعی زندگی ایک قافلے کی مانند ہے جو مختلف حالات سے گزرتی ہے، اور اجتماع کی قوت ہر مرحلے میں فرد کا سہارا بنتی ہے۔
