رموز بے خودی

آب نیسانی به آغوشش در آ

آب نیسانی به آغوشش در آ

وز میان قلزمش گوهر بر آ

ترجمہ

نیسانی پانی کو اس کے آغوش میں داخل کر، اور اس کے گہرے سمندر کے اندر سے گوہر بن کر نکل آ۔

تشریح

اس شعر میں اقبال اب محض اصول نہیں بیان کرتے، بلکہ ایک عملی دعوت دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نیسانی پانی کو اس کی آغوش میں لے آ، اور اس کے قلزم کے اندر سے گوہر بن کر نکل آ۔ یہاں “آغوش” قرب، قبولیت اور تربیتی فضا کی علامت ہے، جبکہ “قلزم” گہرے اور وسیع سمندر کا استعارہ ہے۔ گویا اقبال مسلمان کو یہ بتا رہے ہیں کہ اس کی پاک فطرت اور نبوی نسبت کا تعلق محض نظری نہ رہے، بلکہ ایسا باہمی اتصال پیدا ہو کہ قطرہ دریا کے اندر جا کر گوہر کی نئی تقدیر پائے۔

یہ شعر پچھلے شعر کی تکمیل ہے۔ اگر مسلمان کی طینت گوہر ہے اور اس کی آب و تاب یمِ پیغمبر سے ہے، تو اب عمل یہ ہے کہ خود کو اس آغوش اور اس قلزم کے اندر لے جایا جائے۔ اقبال کے نزدیک نسبت کا دعویٰ کافی نہیں؛ نسبت کے اندر داخل ہونا لازم ہے۔ یہ دخول محبت، اطاعت، اخلاقی اتباع، فکری ربط، اور عملی بندگی سب سے بنتا ہے۔ جب انسان ان سب کے ساتھ نبوی مرکز کے قریب آتا ہے تو پھر اس کی فطرت میں رکھا ہوا امکان گوہر کی قیمت اختیار کرنے لگتا ہے۔

آغوش کا مفہوم:

آغوش میں لینے کا مفہوم زبردستی یا محض قانون سے مختلف ہے۔ آغوش میں شفقت ہوتی ہے، قربت ہوتی ہے، حفاظت ہوتی ہے، اور پرورش بھی۔ اقبال اس لفظ کے ذریعے یہ احساس دلاتے ہیں کہ نبوی نسبت صرف ایک سرد ضابطہ نہیں، بلکہ ایک گرم، حیات بخش اور رحمت آشنا فضا ہے۔ جو اس میں آتا ہے وہ صرف حکم نہیں پاتا، سہارا بھی پاتا ہے؛ صرف پابندی نہیں ملتی، سمت بھی ملتی ہے۔

نیسانی پانی کا آغوش میں آنا یہ بھی بتاتا ہے کہ پاک امکان کو صحیح قرب چاہیے۔ قطرہ باہر باہر رہے تو بکھر سکتا ہے، مگر آغوش میں آئے تو سمت پا لیتا ہے۔ یہی حال انسان کی فطرت کا ہے۔ اگر وہ وحی، سیرت، اور نبوی ادب کے گرم دامن سے باہر رہے تو ضائع ہو سکتی ہے، مگر اگر وہ اس آغوش میں آجائے تو نکھرنے لگتی ہے۔

قلزم کی گہرائی:

قلزم محض دریا نہیں بلکہ گہرا اور وسیع سمندر ہے۔ اس سے مراد وہ نبوی ورثہ ہے جو صرف چند ظاہری رسوم کا نام نہیں، بلکہ ایک مکمل حیاتِ باطن و ظاہر کا نظام ہے۔ اس میں ایمان بھی ہے، علم بھی، عمل بھی، جرات بھی، رحمت بھی، عدل بھی، تہذیب بھی۔ جو انسان اس قلزم میں واقعی داخل ہو، وہ صرف کچھ الفاظ یاد نہیں کرتا بلکہ اپنی پوری ساخت بدلنے لگتا ہے۔

یہ گہرائی آسانی نہیں مانگتی، مگر قیمت دیتی ہے۔ سطح پر رہنے والا آدمی شور میں رہتا ہے، گہرائی میں اترنے والا گوہر کی منزل پاتا ہے۔ اقبال اسی لیے “گوهر بر آ” کہتے ہیں۔ قلزم میں جانا ڈوبنا نہیں، دراصل نئی قیمت کے ساتھ ابھرنا ہے۔

گوہر بن کر نکلنا:

اس شعر کا سب سے امید افزا پہلو یہی ہے کہ اقبال صرف وابستگی تک نہیں روکتے، بلکہ نتیجہ بھی سامنے رکھتے ہیں: گوہر بن کر نکلو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صحیح نسبت کا ثمر نمایاں ہونا چاہیے۔ اگر انسان سالہا سال قلزم کے دعوے کرے مگر اس کے اخلاق، اس کی سچائی، اس کی حیا، اس کی خدمت، اور اس کا وقار نہ بدلے تو گوہر ابھی پوری طرح ظاہر نہیں ہوا۔

گوہر بننا فرد کی ذاتی نجات بھر نہیں، امت کے لیے بھی نفع ہے۔ گوہر قیمتی ہوتا ہے، سنبھالا جاتا ہے، اور دوسروں کو بھی زینت دیتا ہے۔ مسلمان کی سچی تربیت بھی ایسی ہی ہونی چاہیے کہ وہ خود بھی سنورے اور دوسروں کے لیے بھی روشنی اور قدر کا سبب بنے۔

آج کے لیے سبق:

آج بہت سے لوگ مذہب کے کنارے پر رہنا پسند کرتے ہیں: کچھ نسبت، کچھ معلومات، کچھ جذبات، مگر گہرائی سے گریز۔ اقبال اس شعر میں کنارے کی زندگی کو ناکافی بتاتے ہیں۔ اگر گوہر بننا ہے تو قلزم میں اترنا ہوگا۔ سیرت کو پڑھنا کافی نہیں، اس کی آغوش میں آنا ہوگا؛ اسلام کو پسند کرنا کافی نہیں، اس کے تہذیبی اور اخلاقی عمق میں جانا ہوگا۔

یہ شعر عملی دعوت بھی ہے اور امید بھی۔ اگر کوئی انسان اپنے آپ کو بکھرا ہوا قطرہ محسوس کرتا ہے تو مایوس نہ ہو۔ نیسانی پانی جب صحیح آغوش پا لے اور صحیح قلزم میں اتر جائے تو گوہر بن سکتا ہے۔ اقبال یہی دروازہ کھولتے ہیں: اپنی فطرت کو صحیح منبع کے حوالے کرو، اور پھر صبر، نسبت اور تربیت کے ساتھ ایک نئی قیمت کے ساتھ ابھرو۔

مثال

جیسے خام مٹی اگر ماہر دست میں آ جائے تو خوب صورت برتن بن سکتی ہے، ویسے ہی پاک فطرت صحیح آغوش اور گہرے منبع میں جا کر گوہر کی قدر پا لیتی ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں دعوت دیتے ہیں کہ پاک فطرت کو نبوی آغوش اور گہرے قلزم سے جوڑو تاکہ وہ گوہر بن کر ابھرے۔ درست نسبت تبھی مکمل ہوتی ہے جب وہ شخصیت میں نئی قیمت اور روشنی پیدا کرے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button