حلقه ی ملت محیط افزاستی
حلقه ی ملت محیط افزاستی
مرکز او وادی بطحا ستی
ترجمہ
ملت کا حلقہ برابر پھیلتا رہتا ہے، اور اس کا مرکز وادیِ بطحا ہے۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں امت کی ساخت کو ایک دائرے کی صورت میں بیان کرتے ہیں جس کا مرکز مکہ اور وادیِ بطحا ہے، مگر جس کا محیط مسلسل بڑھتا جاتا ہے۔ یہ نہایت بلیغ تصویر ہے: مرکز ایک، مگر پھیلاؤ زمان و مکان سے آگے تک۔ رسالت کی بدولت ملت کا دائرہ ایک شہر یا نسل تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت تک وسعت پا سکتا ہے۔ شعر کے مطابق:
حلقۂ ملت کی وسعت:
حلقہ اگر زندہ ہو تو اس کا دائرہ بڑھ سکتا ہے۔ اقبال کے نزدیک ملت جامد اور بند نظام نہیں، بلکہ ایک حیات آفریں جماعت ہے جس میں وسعت کی صلاحیت موجود ہے۔ وہ اپنے مرکز سے جڑ کر اپنے محیط کو بڑھاتی ہے، یعنی نئی قومیں، نئے خطے اور نئے دل اس میں شامل ہو سکتے ہیں۔
یہ وسعت جغرافیائی بھی ہے، فکری بھی، اور روحانی بھی۔
وادیِ بطحا بطور مرکز:
بطحا مکہ کی وادی کا نام ہے۔ اقبال اس مرکز کا ذکر کر کے بتاتے ہیں کہ امت کی وحدت کسی مبہم احساس یا مجرد فلسفے پر نہیں بلکہ ایک تاریخی، روحانی اور نبوی مرکز پر قائم ہے۔ مکہ، کعبہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت امت کو مرکز فراہم کرتی ہے۔
مرکز کے بغیر پھیلاؤ بکھراؤ بن جاتا ہے، مگر صحیح مرکز کے ساتھ وسعت طاقت بن جاتی ہے۔
مرکزیت اور آفاقیت:
بظاہر مرکزیت محدود کرتی ہے، مگر اقبال دکھاتے ہیں کہ سچی مرکزیت دراصل آفاقیت کا سرچشمہ بنتی ہے۔ چونکہ ملت کا مرکز حق پر مبنی ہے، اس لیے اس کا دائرہ نسل، رنگ اور وطن کی حدود سے آگے جا سکتا ہے۔ ایک مضبوط مرکز ہی حقیقی آفاقیت پیدا کرتا ہے۔
اس لیے بطحا کا مرکز ہونا امت کے عالمی ہونے کے خلاف نہیں، بلکہ اسی کا سبب ہے۔
رسالت کا تاریخی جسم:
یہ شعر یہ بھی بتاتا ہے کہ رسالت صرف باطنی کیفیت نہیں، تاریخ میں جمی ہوئی حقیقت بھی ہے۔ اس کا ایک مرکز ہے، ایک مقام ہے، ایک قبلہ ہے، ایک یادداشت ہے۔ ملت کی توسیع اسی تاریخی جسم کے ساتھ وفاداری سے ممکن ہوتی ہے۔ اگر مرکز سے رشتہ ٹوٹ جائے تو وسعت بے سمت ہو جاتی ہے۔
اقبال اسی لیے مرکز کی پابندی اور محیط کی وسعت دونوں کو ایک ساتھ رکھتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان یا تو مقامی شناختوں میں سمٹ جاتے ہیں یا عالمگیریت کے نام پر اپنے مرکز کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اقبال کہتے ہیں کہ دونوں کا حل ایک ہے: بطحا کے مرکز سے جڑے رہو، پھر دائرہ بڑھاؤ۔ تب نہ تم سکڑو گے اور نہ بکھرو گے۔
یعنی امت کی اصل طاقت مرکزیت کے ساتھ وسعت میں ہے، نہ مرکز کے بغیر پھیلاؤ میں۔
مثال
ایک مضبوط درخت کی جڑ ایک جگہ ہوتی ہے، مگر اس کی شاخیں دور تک پھیلتی ہیں۔ اگر جڑ کمزور ہو تو شاخوں کا پھیلاؤ بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔ ملت کا مرکز اور محیط بھی اسی طرح ہیں۔
خلاصہ
اقبال کے نزدیک ملت کا دائرہ مسلسل وسیع ہو سکتا ہے، مگر اس کی اصل قوت اس مرکز میں ہے جو وادیِ بطحا سے جڑا ہوا ہے۔ مرکزیت اور آفاقیت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
