رموز بے خودی

تا نگیرد باز کار او نظام

تا نگیرد باز کار او نظام

تاختن بر کشورش آمد حرام

ترجمہ

جب تک اس کے معاملات دوبارہ نظم نہ پا لیں، اس کے ملک پر چڑھ دوڑنا حرام قرار دیا گیا۔

تشریح

یہ شعر پچھلے دو اشعار کی اخلاقی جہت کو ایک واضح حکم میں بدل دیتا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ جب تک دشمن کے حالات دوبارہ نظم میں نہ آ جائیں، اس پر تاختن، یعنی یلغار کرنا، حرام ہے۔ ان کی پیش کش سے صاف ظاہر ہے کہ وہ شریعت کی جنگی اخلاقیات کو ملت کی داخلی تربیت کے ساتھ جوڑ رہے ہیں۔ یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ اسلام سستی، غفلت یا وقتی بے خبری سے فائدہ اٹھا کر حاصل کی گئی فتح کو مطلوب نہیں بناتا؛ وہ چاہتا ہے کہ قوت کھلے میدان میں اپنے حقیقی وزن کے ساتھ آزمائی جائے۔ شعر کے مطابق:

نظام کا واپس آنا:

“کار او نظام” کا مطلب یہ ہے کہ دشمن کی حالت دوبارہ معمول، ترتیب اور چوکسی میں آ جائے۔ اگر امن کے گمان سے اس کا دفاعی ڈھانچہ وقتی طور پر ڈھیلا ہو گیا ہو تو اس کمزوری کے لمحے میں اس پر حملہ کرنا شریعت کے باوقار مزاج کے خلاف قرار پاتا ہے۔ اس میں محض ایک قانونی حکم نہیں بلکہ مسلمانوں کی اخلاقی تربیت پوشیدہ ہے۔

یعنی اسلام طاقت تو چاہتا ہے، مگر ایسی طاقت جو بے اصول موقع پرستی سے نہ بنی ہو۔

حرام کی شدت:

اقبال یہاں “حرام” کا لفظ لا کر بات کو بہت سخت کر دیتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ محض بہتر اور کم بہتر کا نہیں، بلکہ اخلاقی حدود کا ہے۔ جب کسی کمزور لمحے سے ناجائز فائدہ اٹھانا انسان کی روح میں بزدلی، کم ظرفی اور آسان غلبے کی عادت پیدا کرے، تو شریعت اس راہ کو بند کرتی ہے۔

حرام کہنا دراصل مسلمان کے کردار کو بلند رکھنے کی شدید حفاظت ہے۔

شریعت اور جوانمردی:

اس شعر سے ظاہر ہوتا ہے کہ اقبال کے نزدیک شریعت محض ضابطہ نہیں، مروّت اور جوانمردی کا مربی بھی ہے۔ وہ ایسی امت بنانا چاہتی ہے جو فتح کے لیے ہر کم ظرف چال اختیار نہ کرے، بلکہ اپنی برتری کو ایسے انداز میں ظاہر کرے جس میں اخلاقی وقار بھی محفوظ رہے۔ یہ مزاج بعد کے شعر “زیستن اندر خطرها زندگیست” سے جڑتا ہے، جہاں حقیقی حیات کو خطرات کے اندر جینا بتایا گیا ہے۔

پس شریعت مسلمان کو آسان شکار کی عادت سے بچا کر بلند ہمت بناتی ہے۔

باطنی تربیت کا پہلو:

یہ حکم صرف دشمن کے حق میں رحم یا نرمی کی بات نہیں، بلکہ خود مسلمان کے اندرونی مزاج کی حفاظت بھی ہے۔ اگر انسان ہمیشہ اسی وقت حملہ کرنا سیکھے جب سامنے والا بے ترتیب ہو تو اس کی اپنی قوت بھی آہستہ آہستہ کمزور ہو جاتی ہے۔ شریعت اس سستی کو قبول نہیں کرتی۔ وہ چاہتی ہے کہ قوت صادق، پختہ اور آزمودہ ہو۔

اس طرح اسلامی اخلاقیات اور عسکری تربیت ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی نگہبان بن جاتی ہیں۔

آج کے لیے سبق:

آج یہ شعر ہمیں وسیع تر معنی میں بتاتا ہے کہ کسی کی عارضی کمزوری، غفلت یا بے بسی سے ناجائز فائدہ اٹھانا طاقت نہیں، کردار کی کمی ہے۔ چاہے سیاست ہو، کاروبار ہو، علمی مناظرہ ہو یا اجتماعی قیادت، اصل عظمت اسی میں ہے کہ آدمی اپنی قوت کو اصول کے ساتھ استعمال کرے۔

اقبال کے نزدیک ایسی اصولی طاقت ہی دیر پا تہذیبی برتری پیدا کرتی ہے۔

مثال

جیسے ایک سچا مقابلہ کرنے والا کھلاڑی زخمی یا بے خبر حریف پر وار نہیں کرتا بلکہ درست حالت میں مقابلہ چاہتا ہے، ویسے ہی باوقار قوت آسان کمزوری سے فائدہ نہیں اٹھاتی۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں واضح کرتے ہیں کہ شریعت بے اصول موقع پرستی کو قبول نہیں کرتی۔ دشمن کے بے نظم لمحے میں حملہ روک کر وہ مسلمانوں کے اندر بلند کردار، پختہ قوت اور باوقار جنگی مزاج پیدا کرتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button