در جهان ما را بلند آوازه کرد
در جهان ما را بلند آوازه کرد
با حدوث ما قدم شیرازه کرد
ترجمہ
اس نے ہمیں دنیا میں بلند آوازہ کیا، اور ہمارے حدوث کے ساتھ قدم کو ایک شیرازے میں باندھ دیا۔
تشریح
یہ شعر بظاہر مختصر ہے مگر معنی میں بہت وسیع۔ اقبال کہتے ہیں کہ اس مرکز نے ہمیں دنیا میں بلند آوازہ کیا اور ہمارے حدوث کے ساتھ قدم کو شیرازہ کر دیا۔ “بلند آوازہ” ہونا صرف شہرت پانا نہیں، بلکہ ایک معنوی وقار حاصل کرنا ہے۔ بیت الحرم اور ابراہیمی نسبت نے امتِ مسلمہ کو دنیا میں ایسی پہچان دی جو محض قوتِ بازو یا دولت سے پیدا نہیں ہوئی۔ اس کی اصل آواز توحید، عبادت، وحدت اور مرکزیت کی آواز تھی۔ اسی نے اس ملت کو دنیا میں ایک خاص مقام عطا کیا۔
دوسرا مصرعہ اور زیادہ باریک ہے۔ “حدوث” سے مراد ہمارا زمانی، حادث اور تاریخ کے اندر پیدا ہونے والا وجود ہے، جبکہ “قدم” ابدی، قدیم اور اصلِ ازلی حقیقت کی طرف اشارہ رکھتا ہے۔ اقبال کا کہنا یہ ہے کہ بیت الحرم نے ہماری تاریخی اور عارضی زندگی کو ایک ایسے شیرازے میں باندھ دیا جس میں ہم ابراہیمی قدم، ازلی توحید اور اپنے زمانی وجود کے درمیان ربط پاتے ہیں۔ گویا ہم فقط حال کے لوگ نہیں رہتے، بلکہ ایک قدیم اور مسلسل روحانی تاریخ کے وارث بن جاتے ہیں۔ یہی شیرازہ ہمیں جڑ بھی دیتا ہے اور بلند بھی کرتا ہے۔
بلند آوازہ ہونے کا مطلب:
دنیا میں بلند آوازہ ہونے کے کئی معنی ہو سکتے ہیں، مگر اقبال کے ہاں یہ اخلاقی و روحانی وقار کا نام ہے۔ ایک ملت تب واقعی بلند آوازہ بنتی ہے جب اس کے پاس ایسا پیغام ہو جو زمانوں سے بات کرے، اور ایسا مرکز ہو جو اس کے پیغام کو محسوس صورت دے۔ بیت الحرم نے ملت کو یہ دونوں چیزیں دیں: توحید کا مرکز اور عبادت کا محور۔ اسی وجہ سے مسلمان دنیا کے سامنے محض ایک مقامی قوم کے طور پر نہیں، ایک عالمی امت کے طور پر ظاہر ہوئے۔
یہاں بلند آوازہ ہونے کا ربط خود امت کی سیرت سے بھی ہے۔ اگر کوئی قوم اپنے مرکز کی گواہی نہ دے سکے تو صرف نام سے بلند آوازہ نہیں رہتی۔ اقبال کا اشارہ یہ ہے کہ اصل وقار نسبت اور شہادت دونوں کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔
حدوث اور قدم کا شیرازہ:
شیرازہ وہ بندھن ہے جو بکھرے ہوئے اوراق کو کتاب بناتا ہے۔ اقبال اس استعارے سے بتاتے ہیں کہ ملت کا زمانی وجود اگر کسی ازلی حقیقت سے نہ جڑے تو وہ بکھرے ہوئے اوراق کی طرح رہ سکتا ہے۔ بیت الحرم نے اس حادث زندگی کو ایک قدیم توحیدی سلسلے کے ساتھ جوڑ دیا۔ ہم آج کے مسلمان ہیں، مگر ہماری نماز، ہمارا قبلہ، ہمارا حج، اور ہمارا شعور ابراہیم و اسماعیل کی دعا اور محمدی رسالت کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ یہی شیرازہ ہماری تاریخ کو معنوی تسلسل عطا کرتا ہے۔
یہاں اقبال کا تصورِ زمان بھی جھلکتا ہے۔ وہ ملت کو محض جدید یا محض قدیم نہیں بناتے، بلکہ اس کے حادث وجود کو قدیم روح کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ یوں امت نہ تو ماضی میں گم ہوتی ہے اور نہ حال میں بے جڑ رہتی ہے۔ وہ اپنے زمانی سفر کو ازلی نور کے ساتھ باندھ کر چلتی ہے۔
تاریخ کا ربط:
یہ شعر اس بات کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے کہ اقبال تاریخ کو کیسے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک قوم کی عزت صرف حال کی کامیابیوں میں نہیں، بلکہ اس ربط میں ہے جو اسے ایک اعلیٰ اور قدیم حقیقت سے جوڑتا ہے۔ بیت الحرم نے مسلمانوں کو یہی تاریخی و روحانی ربط دیا۔ اس کی بدولت وہ اپنے آپ کو محض کل پیدا ہونے والا حادث گروہ نہیں سمجھتے، بلکہ ایک بڑے الٰہی سلسلے کا حصہ سمجھتے ہیں۔
یہی ربط قوم کو استحکام بھی دیتا ہے۔ جو قومیں صرف اپنے موجودہ حال پر کھڑی ہوں، وہ جلد متزلزل ہو سکتی ہیں۔ مگر جو اپنے حدوث کو قدم کے ساتھ شیرازہ کر لیں، ان کے اندر گہری تاریخی خود آگاہی پیدا ہوتی ہے۔ اقبال اسی خود آگاہی کو ملت کی بلند آوازگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج مسلمان اکثر یا تو احساسِ پسماندگی میں ڈوب جاتے ہیں یا صرف ماضی کے فخر میں پناہ لیتے ہیں۔ اقبال کا یہ شعر دونوں رویوں کی اصلاح کرتا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ اصل عزت اس میں ہے کہ ہمارا حادث وجود ایک قدیم توحیدی سلسلے سے بندھا ہوا ہے۔ اگر ہم اس شیرازے کو پہچان لیں تو نہ حال سے مایوس ہوں گے اور نہ ماضی کو مردہ نوستالجیا بنا دیں گے۔
یہ شعر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہماری عالمی شناخت محض جدید سیاسی واقعات سے نہیں بنی، بلکہ اس مرکز سے بنی ہے جس نے ہمیں ازل کی توحید سے جوڑ کر زمانے میں آواز دی۔ اگر ہم اپنے اس ربط کو زندہ رکھیں تو ہمارا “بلند آوازہ” ہونا پھر سے محض خواب نہیں رہے گا۔
مثال
جیسے ایک نئی عمارت کو اگر کسی مضبوط قدیم بنیاد سے جوڑ دیا جائے تو وہ موسموں کا مقابلہ بہتر کرتی ہے، ویسے ہی ملت کا حادث وجود جب قدیم توحیدی ربط سے بندھتا ہے تو اسے استحکام اور وقار ملتا ہے۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں بتاتے ہیں کہ بیت الحرم نے امت کو دنیا میں بلند وقار دیا اور اس کے زمانی وجود کو قدیم توحیدی حقیقت کے ساتھ جوڑ دیا۔ یہی ربط ملت کی شناخت اور استحکام کا بڑا راز ہے۔