دین فطرت از نبی آموختیم
دین فطرت از نبی آموختیم
در ره حق مشعلی افروختیم
ترجمہ
ہم نے دینِ فطرت نبی سے سیکھا، اور حق کی راہ میں ایک مشعل روشن کر لی۔
تشریح
علامہ اقبال اس شعر میں دینِ فطرت کے سرچشمے کو صاف کرتے ہیں: یہ فطرت کی خود رو تشریح نہیں، بلکہ نبی کی تعلیم سے سمجھ میں آنے والی حقیقت ہے۔ انسان کے اندر فطرت کے عناصر موجود ہو سکتے ہیں، مگر ان کی صحیح تعبیر اور صحیح سمت نبوی تعلیم سے ملتی ہے۔ یہی تعلیم انسان کے ہاتھ میں حق کی راہ کی مشعل رکھ دیتی ہے۔ شعر کے مطابق:
فطرت خود کافی کیوں نہیں:
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ چونکہ دین فطرت سے موافق ہے، اس لیے انسان محض اپنے باطن کے سہارے حق تک پہنچ سکتا ہے۔ اقبال اس شعر میں اس خیال کی تصحیح کرتے ہیں۔ فطرت میں صلاحیت ہے، مگر تعلیم اور تطہیر بھی درکار ہے۔ نبی آ کر انسان کو اس کی فطرت کا سچا مطلب سمجھاتا ہے، اس کی سمت درست کرتا ہے، اور اس کے باطن کو دھند سے نکالتا ہے۔
اس لیے فطرت کی تکمیل رسالت سے ہوتی ہے، نہ کہ رسالت کی نفی فطرت کے نام پر۔
آموختیم کا وزن:
یہاں سیکھنے پر زور ہے۔ دینِ فطرت کوئی مبہم احساس نہیں بلکہ سیکھا جانے والا، سمجھا جانے والا، برتا جانے والا اور منتقل کیا جانے والا نور ہے۔ نبی صرف خبر نہیں دیتا، تربیت بھی کرتا ہے۔ وہ انسان کو حقیقت کا شاگرد بناتا ہے۔
اقبال کے نزدیک ملت کی پائیداری اسی شاگردی میں ہے: نبی سے سیکھنا، نہ کہ اپنے نفس یا زمانے سے دین کی نئی خودساختہ تعریف گھڑ لینا۔
مشعل کی تعبیر:
مشعل روشنی بھی دیتی ہے اور راستہ بھی دکھاتی ہے۔ جب نبی سے دینِ فطرت سیکھا جاتا ہے تو انسان صرف اندرونی اطمینان ہی نہیں پاتا، بلکہ دنیا کے اندھیروں میں چلنے کے لیے ایک روشن رہنما بھی حاصل کر لیتا ہے۔ حق کی راہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتی؛ اس میں دھند، فتنہ، خواہش اور گمراہی کے موڑ آتے ہیں۔ مشعل اسی لیے ضروری ہے۔
نبوی تعلیم یہ مشعل ہے جو دل اور راستہ دونوں روشن کرتی ہے۔
امت کی مشعل برداری:
یہ شعر فردی نہیں، اجتماعی معنی بھی رکھتا ہے۔ امت نے اگر نبی سے دینِ فطرت سیکھا ہے تو اب اس پر لازم ہے کہ وہ اس مشعل کو بجھنے نہ دے۔ اس کے علم، اخلاق، دعوت، عدل اور تہذیب میں یہ روشنی باقی رہنی چاہیے۔ ورنہ نبی سے سیکھنے کا دعویٰ کمزور پڑ جاتا ہے۔
اقبال امت کو محض وارث نہیں، مشعل بردار بنانا چاہتے ہیں۔
آج کے لیے رہنمائی:
آج کے انسان کو بہت سی آوازیں حق کا راستہ بتاتی ہیں: فلسفہ، میڈیا، خواہش، قومیت، نفسیات، طاقت۔ اقبال کہتے ہیں کہ اگر مشعل نبوی ہاتھ سے چھوٹ جائے تو فطرت کے نام پر بھی گمراہی ہو سکتی ہے۔ اس لیے دوبارہ نبی سے سیکھنا، قرآن و سنت سے روشنی لینا، اور حق کی راہ میں اسی چراغ کو زندہ رکھنا ضروری ہے۔
یہی مشعل فرد کو بھی راستہ دیتی ہے اور امت کو بھی۔
مثال
ایک طالب علم میں ذہانت فطری طور پر موجود ہو سکتی ہے، مگر اچھے استاد کے بغیر وہ الجھ بھی سکتا ہے۔ جب استاد صحیح اصول دے دے تو وہی صلاحیت روشن سمت پا لیتی ہے۔
خلاصہ
اقبال کے مطابق دینِ فطرت نبی کی تعلیم سے صحیح طور پر سمجھ میں آتا ہے۔ اسی نبوی تعلیم سے حق کی راہ کی مشعل روشن ہوتی ہے، اور امت اسی روشنی کی امین بنتی ہے۔