رموز بے خودی

تاب دار از ذره هایش آفتاب

تاب دار از ذره هایش آفتاب

غوطه زن اندر فضایش آفتاب

ترجمہ

اس کے ذرّات سے خود آفتاب بھی تاب دار ہے، اور آفتاب بھی اس کی فضا میں غوطہ زن دکھائی دیتا ہے۔

تشریح

اس شعر میں اقبال بیت الحرم کی عظمت کو کائناتی وسعت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے ذرّات سے آفتاب بھی تاب پاتا ہے اور خود آفتاب بھی اس کی فضا میں غوطہ زن ہے۔ اس بیان میں مبالغہ شعری ضرور ہے، مگر اس کے اندر ایک بہت بلند تصور پوشیدہ ہے: بیت الحرم ایسا مرکز ہے جس کی معنوی عظمت صرف انسانی اجتماع تک محدود نہیں، بلکہ کائناتی ربط کی علامت بن جاتی ہے۔ اقبال اس مقام کی حرمت اور مرکزیت کو اتنا اونچا دکھاتے ہیں کہ سورج جیسی عظیم ہستی بھی اس کی فضا میں گویا ادب اور وابستگی کے ساتھ داخل نظر آتی ہے۔

“ذره هایش” کہہ کر اقبال اس مرکز کی خاک کو بھی معمولی نہیں رہنے دیتے۔ یہ صرف زمین کے ذرّے نہیں، تاریخ، وحی، توحید، طواف، دعا اور ابراہیمی نسبت سے روشن ذرّے ہیں۔ ان سے آفتاب کا تاب دار ہونا اس حقیقت کی علامت ہے کہ اصل نورانیت مادّی عظمت سے نہیں، مرکزِ حق سے نسبت سے پیدا ہوتی ہے۔ یعنی بڑے سے بڑا ظاہری نور بھی اس مرکز کے سامنے ایک نئی معنویت پاتا ہے۔ یہ شعر اس طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ بیت الحرم کی عظمت محض دیدنی نہیں بلکہ دل اور شعور کو نئے پیمانے عطا کرتی ہے۔

ذرّات کی تابانی:

ذرّہ عموماً چھوٹی اور معمولی چیز کے لیے بولا جاتا ہے، مگر اقبال اسے مرکز کی نسبت سے اتنی عظمت دے دیتے ہیں کہ اس سے آفتاب بھی نور حاصل کرتا نظر آتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ نسبتِ حق معمولی چیز کو بھی غیر معمولی بنا دیتی ہے۔ بیت الحرم کی خاک، اس کے ذرات، اس کے گرد کی فضا اس لیے محترم ہیں کہ یہ محض مادہ نہیں رہے، ایک بلند روحانی ربط کے حامل بن گئے ہیں۔

یہ امت کے لیے بھی ایک بڑا درس ہے۔ جو قوم اپنے اصل مرکز سے نسبت رکھتی ہو، اس کے ادنیٰ عناصر بھی نئی شان پا سکتے ہیں۔ اس کے افراد، اس کی زبان، اس کی دعا، اس کی سمت، حتیٰ کہ اس کی خاک بھی نئی معنویت اختیار کر سکتی ہے۔ اقبال ہمیں نسبت کی قیمت سمجھا رہے ہیں، نہ کہ ظاہری جسامت کی۔

آفتاب کا غوطہ زن ہونا:

آفتاب روشنی، عظمت، بلند مرتبگی اور ظاہری اقتدار کی علامت ہے۔ جب اقبال کہتے ہیں کہ آفتاب بھی اس کی فضا میں غوطہ زن ہے، تو گویا وہ ظاہر کی سب سے بڑی روشنی کو باطن کے اس مرکز کے تابع دکھاتے ہیں۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کائنات کی بڑی بڑی قوتوں کو بھی اپنی آخری معنویت ایک مرکزِ حق سے وابستگی میں ملتی ہے۔ آفتاب کی یہ تصویر ادب، انکسار اور مرکز کے گرد گردش کی علامت بھی ہے۔

یہ تمثیل مسلمان کو بھی یہ سکھاتی ہے کہ عظمت کا صحیح معیار کیا ہے۔ طاقت، علم، شہرت یا تہذیبی برتری اپنی جگہ، مگر اگر وہ صحیح مرکز سے جدا ہو جائے تو اس کی روشنی خود اپنے اوپر بھی بوجھ بن سکتی ہے۔ اقبال آفتاب کو بھی مرکز کی فضا میں غوطہ زن دکھا کر اصل مرجع کی نشاندہی کرتے ہیں۔

فضا کی معنویت:

شعر میں “فضا” کا لفظ خاص توجہ چاہتا ہے۔ بیت الحرم کی عظمت صرف اس کی عمارت یا اس کے نقطے تک محدود نہیں، اس کی فضا بھی اثر رکھتی ہے۔ فضا سے مراد وہ مجموعی روحانی ماحول ہے جو دل، نظر، ارادہ اور شعور سب پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جو شخص اس فضا میں داخل ہوتا ہے، وہ صرف ایک مقام نہیں دیکھتا، بلکہ ایک ایسی معنوی کیفیت سے ہم کنار ہوتا ہے جو اس کے اندر کے پیمانے بدل سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اقبال مرکز کو صرف نقشہ یا جغرافیہ نہیں سمجھتے۔ فضا کا مطلب یہ ہے کہ مرکز کا ایک روحانی دائرہ ہے، جس کے اندر داخل ہو کر چیزیں اپنی اصل نسبت کو زیادہ واضح طور پر محسوس کرتی ہیں۔ امت کے لیے یہ فضا حیا، خشوع، وحدت اور توحید کا شعور پیدا کرتی ہے۔

آج کے لیے سبق:

آج کی دنیا ظاہری روشنیوں سے بھری ہوئی ہے، مگر روحانی اندھیرا بھی بہت ہے۔ اقبال کا یہ شعر یاد دلاتا ہے کہ اصل تابانی اس نسبت سے آتی ہے جو حق کے مرکز سے پیدا ہوتی ہے۔ اگر ہم اپنے پیمانے صرف مادی روشنیوں، طاقتوں اور کامیابیوں سے لیتے رہیں گے تو ہم اصل نور کا معیار بھول جائیں گے۔ بیت الحرم کی فضا ہمیں یاد دلاتی ہے کہ سب سے بڑی روشنی بھی ایک بلند مرکز کے سامنے معنی پاتی ہے۔

یہ شعر امت کے لیے انکسار اور وقار دونوں سکھاتا ہے۔ انکسار اس لیے کہ کائنات کی بڑی روشنی بھی مرکز کے گرد ادب سے ہے۔ وقار اس لیے کہ ہمارے مرکز کے ذرّات بھی اتنی عظمت رکھتے ہیں۔ اگر ہم اپنی نسبت کو پہچان لیں تو ہم مادّی کمزوری کے باوجود روحانی بے قدری میں نہیں گریں گے۔ اقبال یہی عزتِ نسبت بیدار کرنا چاہتے ہیں۔

مثال

جیسے ایک معمولی دھات سورج کی روشنی میں چمک سکتی ہے، مگر سچا آئینہ اپنی نسبت سے روشنی کو اور نمایاں کر دیتا ہے، ویسے ہی صحیح مرکز ظاہری قوتوں کو بھی نئی معنویت عطا کرتا ہے۔

خلاصہ

اقبال اس شعر میں بیت الحرم کی عظمت کو اس درجے پر دکھاتے ہیں کہ اس کے ذرّات بھی نور بخش قرار پاتے ہیں اور آفتاب جیسی روشن ہستی بھی اس کی فضا میں ادب سے داخل دکھائی دیتی ہے۔ اصل تابانی نسبتِ حق سے پیدا ہوتی ہے۔

شارح: محمد نظام الدین عثمان

محمد نظام الدین عثمان

نظام الدین، ملتان کی مٹی سے جڑا ایک ایسا نام ہے جو ادب اور شعری ثقافت کی خدمت کو اپنا مقصدِ حیات سمجھتا ہے۔ سالوں کی محنت اور دل کی گہرائیوں سے، انہوں نے علامہ اقبال کے کلام کو نہایت محبت اور سلیقے سے جمع کیا ہے۔ ان کی یہ کاوش صرف ایک مجموعہ نہیں بلکہ اقبال کی فکر اور پیغام کو نئی نسل تک پہنچانے کی ایک عظیم خدمت ہے۔ نظام الدین نے اقبال کے کلام کو موضوعاتی انداز میں مرتب کیا ہے تاکہ ہر قاری کو اس عظیم شاعر کے اشعار تک باآسانی رسائی ہو۔ یہ کام ان کے عزم، محبت، اور ادب سے گہری وابستگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہوں نے دیگر نامور شعرا کے کلام کو بھی یکجا کیا ہے، شاعری کے ہر دلدادہ کے لیے ایک ایسا وسیلہ مہیا کیا ہے جہاں سے وہ اپنے ذوق کی تسکین کر سکیں۔ یہ نہ صرف ایک علمی ورثے کی حفاظت ہے بلکہ نظام الدین کی ان تھک محنت اور ادب سے محبت کا وہ شاہکار ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گا۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button