این گهر را خود خدا گوهر گر است
این گهر را خود خدا گوهر گر است
ظاهرش گوهر بطونش گوهر است
ترجمہ
اس گوہر کو خود خدا نے تراشا ہے؛ اس کا ظاہر بھی گوہر ہے اور اس کا باطن بھی گوہر ہے۔
تشریح
یہ شعر پہلے شعر کی تمثیل کو اور زیادہ واضح اور عظیم بنا دیتا ہے۔ علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ شریعت کوئی انسانوں کی گھڑی ہوئی چیز نہیں، بلکہ اس گوہر کا “گوهر گر” خود خدا ہے۔ یعنی اس کی ساخت الٰہی ہے، اس کا توازن الٰہی ہے، اس کی حکمت الٰہی ہے۔ پھر وہ ایک فیصلہ کن جملہ کہتے ہیں: اس کا ظاہر بھی گوہر ہے اور اس کا باطن بھی گوہر ہے۔ گویا جو شخص شریعت کے ظاہری احکام کو حقیر سمجھتا ہے یا اس کے باطن کے نام پر ظاہر کو چھوڑنا چاہتا ہے، وہ اس گوہر کی پوری حقیقت کو نہیں سمجھا۔ شعر کے مطابق:
گوہر گرِ خدا:
جب اقبال کہتے ہیں کہ اس گوہر کو خود خدا نے تراشا ہے، تو وہ شریعت کی الٰہی اصل کو نمایاں کرتے ہیں۔ انسانی قانون، قومی دستور اور معاشرتی عرف اپنی جگہ بدل سکتے ہیں، مگر شریعت کی جڑ اس وحی میں ہے جو اللہ تعالیٰ کی حکمت سے نازل ہوئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر فقہی فروعی صورت ہمیشہ ایک ہی ہو، بلکہ یہ کہ اصل منبع، میزان اور روح الٰہی ہے۔
یہ نسبت شریعت کے ساتھ محبت، اعتماد اور تعظیم کا رشتہ قائم کرتی ہے۔
ظاہر بھی گوہر:
بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ شریعت کے ظاہری احکام محض خارجی ڈھانچہ ہیں اور اصل چیز صرف باطن یا جذبہ ہے۔ اقبال اس خیال کو رد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا ظاہر بھی گوہر ہے، یعنی عبادات کی صورتیں، حلال و حرام کی حدیں، آداب، معاملات، اور اجتماعی ضوابط سب بے معنی بوجھ نہیں بلکہ الٰہی تراش کے حصے ہیں۔ ان میں بھی خیر، حسن اور حکمت ہے۔
اگر ظاہر گوہر نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے اس قدر اہتمام کے ساتھ امت کی رہنمائی کے لیے مقرر نہ فرماتے۔
باطن بھی گوہر:
دوسری طرف اقبال یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس کا باطن بھی گوہر ہے۔ یعنی شریعت محض صورتوں کا ڈھانچہ نہیں؛ اس میں نور، محبت، اخلاص، تزکیہ، قرب، یقین اور حیاتِ قلب کی گہرائی بھی موجود ہے۔ اگر کوئی صرف ظاہری عمل پر رک کر باطنی حکمت سے بیگانہ رہے تو بھی وہ گوہر کی پوری قدروقیمت نہیں پا سکتا۔
اس طرح اقبال ظاہر و باطن کے جھگڑے کو ختم کرتے ہیں اور دونوں کو ایک ہی الٰہی جوہر کی دو شانیں قرار دیتے ہیں۔
الٰہی توازن کی حکمت:
شریعت کی عظمت یہی ہے کہ وہ انسان کو تقسیم نہیں کرتی۔ وہ جسم کو عبادت دیتی ہے، دل کو خشیت دیتی ہے، عقل کو میزان دیتی ہے، اور معاشرے کو نظم دیتی ہے۔ اسی لیے اس کا ظاہر الگ بے وزن نہیں اور باطن الگ بے صورت نہیں۔ اقبال کے نزدیک شریعت کا حسن اس کے اسی الٰہی توازن میں ہے۔
جو لوگ اس میں سے صرف ایک جہت لے کر دوسری کو حقیر سمجھتے ہیں، وہ دراصل گوہر کو توڑ کر دیکھنا چاہتے ہیں۔
آج کے لیے سبق:
آج بعض حلقوں میں شریعت کے ظاہری پہلوؤں کو فرسودہ کہہ کر کم تر سمجھا جاتا ہے، جبکہ بعض لوگ باطن کی بات سن کر بدگمان ہو جاتے ہیں۔ اقبال کی بات دونوں انتہاؤں کا علاج ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ چونکہ یہ گوہر خدا کی تراش ہے، اس لیے اس کا ظاہر بھی قیمتی ہے اور باطن بھی۔
اسی جامع نگاہ کے بغیر دین یا تو خشک رسم بن جاتا ہے یا بے قاعدہ دعویٰ۔
مثال
جیسے ایک خوب صورت عمارت میں مضبوط بنیاد بھی اہم ہوتی ہے اور اس کی اندرونی آرائش بھی، ویسے ہی شریعت میں ظاہری نظم اور باطنی نور دونوں لازم ہیں۔
خلاصہ
اقبال اس شعر میں شریعت کو خدا کی تراشی ہوئی قیمتی حقیقت قرار دیتے ہیں۔ اس کا ظاہر بھی قیمتی ہے اور اس کا باطن بھی، اس لیے دونوں کو ساتھ لے کر چلنا ہی صحیح دینی فہم ہے۔